یوکرین میں پوتن کے نئے سخت گیر کمانڈر جنرل سرگئی سوروکن کون ہیں؟

President Putin with General Sergei Surovikin

،تصویر کا ذریعہALEXEI DRUZHININ / SPUTNIK / KRE

،تصویر کا کیپشنصدر پوتن نے جنرل سوروکن کو شام میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا
    • مصنف, میگن فشر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

جنرل سرگئی سوروکن، جن کا عرف جنرل آرماگیڈن ہے، یوکرین کے خلاف جنگ میں صدر ولادیمیر پوتن کے نئے کمانڈر ہیں۔

ان کی بطور نئے کمانڈر تعیناتی کا اعلان کریمیا پل پر حملے کے چند گھنٹے بعد کیا گیا اور نئے کمانڈر کی تقرری کے پہلے دن ہی یوکرین کو بڑے پیمانے پر روسی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل حملہ، مہینوں سے مشاہدہ کیے جانے والے میزائل حملوں میں سے شدید ترین تھا۔

لیکن جنرل سوروکن روس کی یوکرین پر ناکام جنگی کوششوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ وہ جنوبی یوکرین کے اگلے محاذ پر فوجی دستوں کی کمانڈ کرتے رہے ہیں اور یوکرین جنگ چھڑنے سے ایک روز قبل یورپ نے ان پر ان کے فوجی اثر و رسوخ اور صدر پوتن کے ساتھ تعلقات کے باعث پابندی عائد کر دی تھی۔

ایسا لگتا ہے کہ پہلی مرتبہ روس نے یوکرین میں اپنے پورے فوجی آپریشن کے لیے باضابطہ طور پر کسی کمانڈر کا نام دیا ہے۔ اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عہدہ جنرل الیگزینڈر ڈوورنیکوف کے پاس تھا۔

لیکن روسی فوج کے یہ نئے کمانڈر ہیں کون؟

Short presentational grey line

روسی فوج کے کمانڈر جنرل سوروکن کون ہیں؟

55 سالہ جنرل سوروکن سنہ 1966 میں نوووسبرسک میں پیدا ہوئے اور انھیں روس کی حالیہ جنگوں کا وسیع تجربہ ہے۔

جنرل سوروکن نے 1980 کی دہائی کے آخر میں افغانستان میں اپنے فعال فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ روسی تاریخ اور ثقافت کے پروفیسر پیٹر والڈرون کا کہنا ہے کہ 'یہ وہ وقت تھا جب حالات 'انتہائی ناموافق' تھے اور سوویت ہار رہے تھے۔'

پروفیسر والڈرون کے مطابق ان حالات نے جنرل سوروکن کے کردار اور ساکھ کو بنانے میں کردار ادا کیا کیونکہ انھوں نے اس وقت کے آغاز سے ہی وہ 'واضح تشدد میں' ملوث رہے تھے۔

سنہ 1991 میں ماسکو میں ایک جموریت کے حق میں کیے گئے مظاہرے میں مظاہرین اور ایک فوجی قافلے کے مابین جھڑپوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بی بی سی رشئین سروس کے مطابق مظاہرین نے فوجی قافلے کا راستہ روکا تھا جبکہ اس قافلے کی قیادت جنرل سوروکن کر رہے تھے انھوں نے ان پر گاڑی چڑھا دینے کا حکم جاری کیا تھا۔

تاہم ان کے خلاف تمام الزامات اس بنیاد پر واپس لیے گئے تھے کہ وہ صرف احکامات مان رہے تھے۔

چار سال بعد فرونز ملٹری اکیڈمی میں بطور طالبعلم، جنرل سوروکن کو ایک ہم جماعت کو غیر قانونی طور پر پستول فروخت کرنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں 'پھنسایا' گیا تھا اور بعد ازاں ان کے ریکارڈ سے اس سزا کو ہٹا دیا گیا تھا۔

جنرل سوروکن نے 1990 کی دہائی میں تاجکستان اور چیچنیا کے تنازعات اور حال ہی میں شام میں بھی خدمات انجام دی ہیں، جہاں ماسکو نے 2015 میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے مداخلت کی تھی۔

جنرل سوروکن فضائی آپریشن کا تجربہ نہ رکھنے کے باوجود روس کی ایرو سپیس یونٹ کے کمانڈر کے طور پر تعینات رہے اور انھوں نے اس دوران شام کے شہر حلب میں ہونے والے تباہی کی فضائی کارروائیوں کا جائزہ لیا تھا۔

Сергей Суровикин (брифинг министерства обороны, 2017 год)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پروفیسر والڈرون کا کہنا ہے کہ شام میں روس کی مداخلت وہاں بے انتہا بمباری اور شہری اہداف پر حملوں کے مترادف ہے۔ جنرل سوروکن اس کے انچارج تھے اور 'اس کے لیے وہ ضروری اقدامات اور ہر حربہ استعمال کرنے کے لیے واضح طور پر تیار تھے۔'

دریں اثنا، مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں شامی پروگرام کے ڈائریکٹر چارلس لسٹر کا کہنا ہے کہ جنرل سوروکن کا ’دشمن کے لیے بالکل ناقابل معافی رویہ رکھنے والے فوجی جرنیلیوں میں ہوتا ہے جو 'جنگجوؤں اور عام شہریوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘

چارلس لسٹر کا کہنا ہے کہ جنرل کی کمان کے تحت، روسی افواج اعصابی شکن مواد سارین کے استعمال کو چھپانے میں ملوث تھیں۔ انھوں نے اسے خان شیخون قصبے پر ایک مہلک کیمیائی حملے سے چند منٹ پہلے شامی طیاروں پر لوڈ ہوتے دیکھا تھا۔ اس حملے میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنہ 2017 میں صدر پوتن نے جنرل سوروکن کو شام میں ان کی خدمات کے لیے روس کے سب سے بڑے اعزاز 'ہیرو آف رشیا' میڈل سے نوازا تھا۔ جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انھیں ایسے شخص قرار دیا تھا جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

کئی مواقعوں پر جنرل سوروکن کی کمان میں فوجیوں پر شہریوں کے خلاف تشدد کا الزام لگایا گیا ہے۔ بی بی سی رشئین سروس کے مطابق، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چیچینا میں فوجی کارروائیوں کے دوران مقامی افراد کے گھروں کو مسمار کیا گیا تھا اور لوگوں کو مارا پیٹا گیا تھا۔

تاہم جنرل سوروکن ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

Vladimir Putin, Dmitry Medvedev and Sergei Surovikin at the award ceremony for the Russian military who fought in Syria, 2017

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

پروفیسر والڈرون کا کہنا ہے کہ ان کی 30 سال یا اس سے زیادہ عرصے میں 'ایک سفاک، انتہائی سخت اور بدتمیز شخص' ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے۔

ان کا اس طرح کا رویہ میدان جنگ میں اور باہر دونوں جگہ دیکھا گیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کا کہنا ہے کہ 2004 میں ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہونے کے صرف دو سال بعد، جنرل سوروکن نے مبینہ طور پر اپنے ایک فوجی کو اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے مارا تھا۔ جبکہ اس سپاہی نے بعدازاں اپنی شکایت واپس لے لی تھی۔

حکومت کے حامی روسی اخبار کومرسانت نے رپورٹ کیا تھا کہ اسی سال، جنرل سوروکن نے اپنے ایک کرنل کو جھاڑ پلانے کے لیے بلایا تھا اور اس کے چند لمحوں بعد ہی اس فوجی افسر نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا تھا۔

تو پھر ایسے میں پوتن نے ان کی تقرری کیوں کی؟

پروفیسر والڈرون کہتے ہیں کہ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی ہے کہ روس کے لیے چیزیں اچھی نہیں چل رہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'آپ اس وقت تک اپنے فوجی کمانڈر کو تبدیل نہیں کرتے جب تک کہ چیزیں منصوبہ بندی کے مطابق نہ ہوں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ' سوال یہ ہے کہ یہاں کمانڈر کو تبدیل کرنے سے ایک مختلف جنگی اخلاقیات تو سامنے آ سکتی ہیں لیکن کیا اس سے روس کی جنگی صلاحیتوں میں فرق پڑتا سکتا ہے۔'

ان کی پرتشدد اور بربریت اپنانے کی ساکھ سے لازمی نہیں کہ روس کو کوئی سرحدی فائدہ پہنچے مگر ان کی تقرری کا کچھ لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

چیچن رہنما رمضان قادروف اور کرائے کے جنگجوؤں کے گروہ ویگنر کے بانی یوگینی پریگوزن جو روسی صدر پوتن کے اہم اتحادی ہیں نے ان کے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔ یوگینی پریگوزین ایک بڑے تاجر ہیں جنھیں صدر پوتن کا 'باورچی' (انتہائی قریبی ساتھی) کہا جاتا ہے نے کہا کہ جنرل سوروکن روسی فوج میں 'سب سے زیادہ قابل کمانڈر' ہیں۔

پروفیسر والڈرون کا کہنا ہے کہ شاید پوتن ان کی 'علامتی تقرری' کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس وقت میں کوئی ایسا شخص جس کا عوامی تاثر ایک انتہائی سفاک ہونے کا ہے۔'

ان کا مزید کہنا ہے کہ 'کیا صدر پوتن جنرل سوروکن کی تقرری کر کے یوکرین کو کوئی پیغام یا اشارہ دے رے ہیں کہ وہ یہاں سے جنگ کو آگے کیسے بڑھانے چاہتے ہیں۔‘