ملکہ الزبتھ دوم کو الوداعی تقریب کے بعد شہزادہ فلپ کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, وژئل جرنلزم ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانیہ پر 70 برس تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پیر کو سرکاری تدفین اور فوجی جلوس کے ساتھ ادا کی گئی ہیں۔
تدفین کی نجی تقریب کے بعد ملکہ کو سینٹ جارج چیپل ونڈزر میں ان کے شوہر شہزادہ فلپ کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ ان کے والد بادشاہ جارج ششم، ان کی ماں مادر ملکہ اور بہن شہزادی مارگریٹ کی بھی آخری آرام گاہ ہے۔
صبح ان کی میت ویسٹ منسٹر ایبی میں دعائیہ تقریب کے بعد ونڈزر کاسل لے جائی گئی جہاں سینٹ جارج چیپل میں تابوت رائل والٹ میں اتار دیا گیا۔ ویسٹ منسٹر ایبی میں ایک الوداعی تقریب میں شاہ چارلس سوم اور برطانوی شاہی خاندان کے علاوہ عالمی رہنما اور دیگر ممالک کے شاہی خاندانوں کے افراد شامل تھے۔
سڑکوں پر ہزاروں لوگ جمع تھے جب ملکہ کے تابوت کو ونڈزر میں ان کی آخری آرام گاہ لے جایا جا رہا تھا۔
یہ ایک سرکاری تدفین تھی، جو عام طور پر بادشاہوں اور ملکاؤں کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اور اس میں فوجی جلوس اور آخری دیدار جیسی رسومات شامل تھیں۔ یہ جذبات اور شاہی شان و شوکت سے بھرپور تقریب کا دن تھا جس کا آخری مظاہرہ 60 سال قبل برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ریاستی جنازے میں ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے ویسٹ منسٹر ایبی میں دو ہزار افراد کے مجمعے کے سامنے دعائیہ تقریب سے ہوا جبکہ اس موقع پر لندن کے مرکزی علاقے میں ہزاروں شہری بھی موجود تھے۔
اس تقریب کے بعد ملکہ کا تابوت ویسٹ منسٹر ایبی سے لندن کے ہائیڈ پارک کارنر میں واقع ولنگٹن آرچ لے جایا گیا جہاں سے اسے ونڈزر کاسل منتقل کیا گیا اور وہاں کے گرجا گھر سینٹ جارج چیپل میں دعا کے بعد اسے رائل والٹ میں اتار دیا گیا۔
برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں آٹھ ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔ انھوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔
بدھ سے ملکہ الزبتھ کی میت کو ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا گیا تھا اور پیر کی صبح تک لاکھوں افراد نے ملکہ کی میت کے سامنے حاضری دے کر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بکنگھم پیلس کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم نے اپنے ریاستی جنازے کی منصوبہ بندی میں خود بھی حصہ لیا تھا اور چند تبدیلیاں کی تھیں۔
19 ستمبر کو ملکہ الزبتھ دوم کے آخری سفر کی تفصیلات ذیل میں برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق پیش کی جا رہی ہیں:

وسطی لندن میں واقع ویسٹ منسٹر ہال میں ملکہ کے آخری دیدار کا وقت ختم ہو جانے کے بعد کچھ ہی فاصلے پر ویسٹ منسٹر ایبی کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔
ملکہ کی زندگی اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے برطانیہ پہنچنے والے دنیا بھر کے سربراہان مملکت اور اہم شخصیات کے علاوہ برطانیہ کے سینیئر سیاست دان اور سابق وزرائے اعظم بھی وہاں موجود ہوں گے۔
یورپ بھر سے شاہی خاندانوں کے اراکین، جن میں سے اکثر ملکہ کے رشتہ دار ہیں، کی آمد بھی متوقع ہے جن میں بیلجیئم کے بادشاہ فلپ اور ملکہ متھیلڈا، سپین کے بادشاہ فلیپی اور ملکہ لیٹزیا شامل ہیں۔

ملکہ کی تدفین کی باضابطہ تقریبات کا باقاعدہ آغاز کے بعد میت کو ویسٹ منسٹر ہال سے، جہاں اسے آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تھا، دعائیہ تقریب کے لیے ویسٹ منسٹر ایبی لے جایا گیا۔

ملکہ کے تابوت کو ویسٹ منسٹر ہال سے ویسٹ منسٹر ایبی تک رائل نیوی کی سرکاری گن کیرج میں لایا گیا جسے 142 ملاح کھینچ رہے تھے۔
اس گن کیرج کو آخری مرتبہ سنہ 1979 میں شہزادہ فلپ کے ماموں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی آخری رسومات کے موقع پر دیکھا گیا تھا جس سے قبل یہ 1952 میں ملکہ کے والد بادشاہ جارج پنجم کی وفات پر استعمال ہوئی تھی۔

شاہ چارلس، ان کے بھائی شہزادہ اینڈریو، بہن شہزادی این کے علاوہ برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم اور ان کے بھائی شہزادہ ہیری بھی جنازے کے جلوس کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے ویسٹ منسٹر ایبی پہنچے۔
اس جلوس کے راستے پر رائل نیوی اور رائل میرینز تعینات تھے جبکہ تینوں مسلح افواج کی نمائندگی کرنے والا گارڈ آف آنر رائل میرینز بینڈ کے ہمراہ پارلیمنٹ سکوائر پر موجود رہا۔

ملکہ کی آخری رسومات کی تقریب ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقد ہوئی جس میں دو ہزار سے زیادہ مہمان شریک تھے۔
دعائیہ سروس کا انعقاد ڈین آف ویسٹ منسٹر ڈیوڈ ہوئلے نے کیا جبکہ آرچ بشپ آف کینٹبری جسٹن ویلبی نے وعظ دیا۔
اس کے بعد ملک کی وزیر اعظم لز ٹرس نے ایک ’لیسن‘ پڑھا۔
اس موقع پر وہی مذہبی گیت بھی گایا گیا جو 1947 میں ملکہ الزبتھ دوم اور پرنس فلپ کی شادی کے موقع پر گایا گیا تھا۔

ویسٹ منسٹر ایبی، جہاں آخری رسومات ادا کی گئیں، وہ تاریخی چرچ ہے جہاں برطانیہ کے شاہی حکمرانوں کی تاجپوشی کی جاتی رہی ہے۔
1953 میں ملکہ الزبتھ دوم کی تاجپوشی بھی ویسٹ منسٹر ایبی میں ہوئی تھی۔ ملکہ بننے سے قبل شہزادی الزبتھ کی شہزادہ فلپ سے شادی کی تقریب 1947 میں اسی جگہ منعقد ہوئی تھی۔
18 ویں صدی کے بعد سے ویسٹ منسٹر ایبی میں کسی شاہی حکمران کی آخری رسومات ادا نہیں کی گئیں۔
2002 میں ملکہ الزبتھ دوم کی والدہ مادر ملکہ کی آخری رسومات یہاں ادا کی گئی تھیں۔

دعائیہ سروس کے اختتام کے قریب ایک بگل بجایا گیا جس کے بعد قومی سطح پر دو منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی گئی۔
قومی ترانے کے بعد اس سروس کا اختتام ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سروس کے بعد ملکہ کا تابوت ایک جلوس کی شکل میں ویسٹ منسٹر ایبی سے لندن کے ہائیڈ پارک کارنر میں واقع ولنگٹن چرچ لے جایا جا رہا ہے۔
عام لوگ ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بڑی تعداد میں اس راستے پر مخصوص مقامات سے جنازے کے جلوس کو دیکھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
اس راستے پر بھی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ یہ جلوس سست رفتاری سے دارالحکومت کی سڑکوں سے گزر رہا ہے۔ ہائیڈ پارک سے ہر ایک منٹ کے وقفے سے گن سیلوٹ دیا جا رہا ہے جبکہ ہر ایک منٹ بعد لندن کی بگ بین کی گھنٹی بھی بجائی جا رہی ہے۔

اس جلوس کی قیادت رائل کنیڈین ماوئنٹڈ پولیس کر رہی ہے جس کے سات گروپس میں سے ہر ایک کے ساتھ اپنا بینڈ بھی ہے۔

ملکہ کے تابوت کو لے جانے والی گن کیرج کے پیچھے پیدل چلنے والے شاہی خاندان کے ارکان کی قیادت بادشاہ چارلس سوم کر رہے ہیں جبکہ کوئین کنسورٹ کمیلا، پرنسس آف ویلز، کاؤنٹس آف سسیکس اور ڈچس آف سسیکس گاڑیوں میں جلوس کے ہمراہ ہیں۔
ولنگٹن آرچ پہنچنے کے بعد ملکہ کے تابوت کو ونڈزر کاسل لیے جانے کے لیے سٹیٹ گن کیرج سے سٹیٹ ہرس یعنی میت گاڑی میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ونڈزر کاسل کی، جسے ایک ہزار سال سے یکے بعد دیگرے 40 حکمرانوں نے آباد رکھا، ملکہ الزبتھ دوم کی زندگی میں خاص اہمیت رہی۔
ان کو نوجوانی میں اس وقت یہاں بھیجا گیا تھا جب دوسری جنگ عظیم کے دوران لندن پر بمباری ہو رہی تھی۔ حال ہی میں کورونا کی وبا کے بعد سے انھوں نے یہاں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی۔

ملکہ کا تابوت لیے سرکاری میت گاڑی ونڈزر کاسل کو جانے والی سڑک لونگ واک پہنچ گئی ہے، جہاں پر ہزاروں سوگواران موجود ہیں۔
ونڈزر کاسل تک تین میل کے راستے پر مسلح افراج کے دستے تعینات تھے جبکہ جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے لونگ واک کہلائے جانے والے راستے تک عوام کو بھی رسائی دی گئی تھی۔

کاسل کے سبیسٹاپول اور کرفیو ٹاور کی گھنٹیاں ہر ایک منٹ بعد بجائی جائیں گئیں اور گن سیلوٹ بھی دیا گیا۔
سٹیٹ ہرس کا لونگ واک پر سفر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

ملکہ الزبتھ دوم کی میت گاڑی چرچ کی گھنٹیوں اور توپوں کی گھن گرج میں ونڈزر کاسل پہنچی۔ جہاں سے میت کو سینٹ جارج چیپل میں دعائیہ تقریب کے لیے لے جایا گیا۔
شاہ چارلس سوم اور شاہی خاندان کے ارکان بھی جلوس میں شامل ہوگئے ہیں۔


سینٹ جارج چیپل وہ گرجا گھر ہے جسے شاہی خاندان باقاعدگی سے شادیوں، نام رکھنے اور آخری رسومات کے لیے منتخب کرتا ہے۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس شہزادہ ہیری اور میگھن کی شادی ہوئی تھی اور جہاں ملکہ کے شوہر شہزادہ فلپ کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔

اس تقریب میں صرف 800 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے جس کے دوران ملکہ کی حکمرانی کے اختتام کی علامتی روایات بھی شامل تھیں۔
ملکہ کا شاہی تاج ان سے آخری بار جدا کر دیا گیا۔ شاہی عصا اور اورب ملکہ کے تابوت سے ہٹا دیے گئے۔
دعائیہ تقریب کے بعد شاہ چارلس سوم نے ملکہ کے پرچم کو تابوت پر رکھا۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
اسی وقت لارڈ چیمبرلین، سابق ایم آئی فائیو سربراہ بیرن پارکر اپنی سرکاری چھڑی توڑ کر تابوت پر رکھی۔ اس چھڑی کو توڑنے کا مطلب ہے کہ شاہی حکمران کے لیے ان کی خدمات کا اختتام ہوا۔

ملکہ کے تابوت کو ونڈزر کاسل میں سینٹ جارج چیپل کے رائل والٹ میں اتار دیا گیا جس کے بعد وہاں پر موجود مجمع نے ’گاڈ سیو دا کِنگ‘ گایا۔
اس طرح آخری رسومات کی تقریب اختتام پذیر ہوئی اور بادشاہ چارلس سوم اور شاہی خاندان کے دیگر اراکین چیپل سے باہر چلے گئے۔

اسی شام ایک نجی خاندانی تقریب میں ملکہ کو ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا کے ہمراہ کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں دفن کیا گیا جو سینٹ جارج چیپل کے اندر ہی موجود ہے۔
ان کے کتبے پر الزبتھ دوم 1926-2022 تحریر کیا جائے گا۔







