ولیم، ہیری، میگھن اور کیٹ: ملکہ کے غم نے بھائیوں کو متحد کر دیا

Catherine, William, Harry and Meghan

،تصویر کا ذریعہPETER NICHOLLS

،تصویر کا کیپشندونوں جوڑے ونڈسر سے ایک ساتھ غیر متوقع طور پر باہر آئے

اخبارات کی سرخیاں لکھنے والے اپنی کوریج کے لیے ’بھائی متحد ہو گئے‘ یا شاید ’غم نے بھائیوں کو متحد کر دیا‘ جیسی لائنیں سوچ رہے ہوں گے۔

شہزادہ ولیم اور ہیری کا ونڈسر کے باہر جمع ہونے والے لوگوں سے ایک ساتھ ملنے کا منظر ان دنوں کی سب سے غیر متوقع تصاویر میں سے ایک بن جائے گا۔

اپنی بیویوں، کیتھرین اور میگھن کے ساتھ وہ جس انداز میں لوگوں میں گھل مل گئے، ڈیوک آف سسیکس کے برطانیہ واپس آنے کے بعد گزشتہ ہفتے کوئی اس کی پیشن گوئی نہیں کر سکتا تھا۔

تب بات جوڑوں کے درمیان جھگڑوں اور نہ ختم ہونے والے اختلافات کی تھی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ونڈسر سٹیٹ پر ایک دوسرے کے قریب گھروں میں تو رہتے ہیں، لیکن جذباتی طور پر ایک دوسرے سے کئی میل کے فاصلے پر ہیں۔ ان جوڑوں کو دو سال سے زیادہ عرصے سے عوام میں ایک ساتھ نہیں دیکھا گیا تھا۔

آخری بار ولیم اپنے بھائی کے ساتھ گزشتہ سال اپریل میں نظر آئے تھے جب ان کے دادا ڈیوک آف ایڈنبرا کی آخری رسومات ادا کی گئیں تھیں۔

یہ سب جمعرات کو بدل گیا۔ ولیم اور ہیری چاہے ایک دوسرے سے ملنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے، لیکن قدرت نے انھیں اس طرح ملا دیا جس کے پیش گوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔

The Duchess of Sussex spent time speaking to those in the crowd.

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈچس آف سسیکس نے ہجوم میں موجود لوگوں سے بات کرتے ہوئے وقت گزارا

ان چاروں کے پہنچنے سے پہلے دن بھر ہزاروں لوگ محل کے باہر جمع تھے۔

ہجوم کے اندر بہت سے لوگوں کے لیے شاہی خاندان کے افراد کے باہر آنے کی پہلی نشانی یہ تھی جب سکیورٹی نے کیمبرج گیٹ کے داخلی راستے اور لانگ واک پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔

پھر اچانک پرجوش آوازیں آئیں، لوگوں نے بچوں کو کندھوں پر اٹھا لیا اور ہر ایک نے تصویر لینے کے لیے فون ہوا میں لہرایا اور اسی وقت شہزادہ ولیم اور ہیری، کیٹ اور میگھن کے ساتھ باہر نکلے۔

امانڈا گولڈسمتھ ان بہت سے لوگوں میں سے ایک تھیں جو ونڈسر کے باہر پھول رکھنے آئے تھے، جہاں ان کی ملاقات ویلز کے نئے شہزادے اور شہزادی سے ہوئی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ولیم اور کیتھرین سے ہاتھ ملایا۔ وہ بہت خوبصورت اور پیاری تھی۔ اس نے مجھ سے بہت دیر تک بات کی۔‘

’میں نے ان سے کہا کہ مجھے ان کے نقصان پر افسوس ہے اور انھوں نے کہا کہ ’ملکہ کے بغیر محل پہلے جیسا نہیں رہا۔‘

یہ بھی پڑھیے:

پِنر سے تعلق رکھنے والی پریتی ویاس نے کہا کہ وہ ’خوش اور بہت جذباتی محسوس کر رہی ہیں‘ اور انھیں بہت خوشی ہوئی کہ وہ ڈیوک آف سسیکس ہیری سے تعزیت کر سکیں۔

’ہم نے ملکہ کے بارے میں بات کی، اور ہیری جاننا چاہتے تھے کہ کیا میں ان سے پہلے ملی ہوں۔‘ ویاس نے بتیا کہ انھوں نے ملکہ کو صرف ایک بار دور سے دیکھا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس جوڑے سے بات کرنا اچھا لگا، اگرچہ ہم نے بہت تھوڑی دیر بات کی مگر میں نے ’ان سے مل کر گرمجوشی‘ محسوس کی۔

Prince Williams meets the crowd

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنولیم کو ان کے والد کنگ چارلس سوم نے پرنس آف ویلز کا خطاب دیا ہے

جیسے ہی ملکہ کی خراب صحت کے بارے میں خبریں پھیلیں اور برطانیہ کے شہری تازہ اطلاعات کے لیے اپنے فون دیکھ رہے تھے۔۔۔ اس وقت یہ دونوں بھائی بیلمورل کی جانب سفر کر رہے تھے۔

سوگ میں خاندان ٹوٹ سکتے ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے غم کے دنوں میں پرانے احساسات کو دوبارہ محسوس کرنا عام سی بات ہوتی ہے۔

لیکن اپنے کسی پیارے کو کھونا لوگوں کو قریب بھی لا سکتا ہے۔ اختلافات بھلا کر لوگ متحد بھی ہو سکتے ہیں۔

ٹی وی سکرینوں پر یا دور سے دیکھتے ہوئے آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ کیا یہ صرف ایک شو تھا؟ کیا انھیں یہ مثبت پیغام بھیجنے کے لیے کہا گیا تھا؟

Prince Harry with wellwishers

،تصویر کا ذریعہPOOL

،تصویر کا کیپشنشہزادہ ہیری کو پھول پیش کیے گئے

دو بھائیوں کے درمیان معاملات مزید نجی اور پیچیدہ ہونے والے ہیں۔ اور ولیم اور ہیری بچپن میں اپنی والدہ ڈیانا کی موت کے بعد سے کسی پیارے کے جانے سے ہونے والے نقصان کا اندازہ رکھتے ہیں۔

سوگوار شاہی خاندان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے آنے والے منتظر افراد کو یقیناً ولیم اور کیٹ، ہیری اور میگھن کے ایک ساتھ نظر آنے سے خوشی ہوئی۔ کم از کم چند منٹوں کے لیے ہی سہی چار مشہور شاہی شخصیات واپس آ گئیں تھیں۔ یہ عوامی مزاج کے عین مطابق ہے۔

شاہی ذرائع کے مطابق شہزادہ ولیم نے شہزادہ ہیری اور میگھن کو اس واک پر جانے کی دعوت دی تھی۔

اگر یہ یکجہتی کا موقع ہے، تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ ایک دوسرے سے دوری کا موقع بھی ہے۔ دونوں بھائی بالکل مختلف سمتوں میں لے جانے والے راستوں پر ہیں۔

William, Camilla and Charles

،تصویر کا ذریعہPOOL

،تصویر کا کیپشنولیم، جو اب پرنس آف ویلز ہیں، اب اپنے بھائی سے مختلف راستے پر ہیں

ملکہ کی موت کے بعد ولیم تخت کے وارث بنے ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اب آگے کیا ہو گا۔ وہ اپنے بھائی کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

ولیم اب پرنس آف ویلز ہیں، وہی نام جس سے وہ دونوں کل تک اپنے والد کو پکارتے تھے۔۔۔ یہ اپنے آپ میں کافی عجیب لگتا ہے۔

جب سنیچر کے روز پریوی کونسل میں بادشاہ چارلس سوم کے دور کا اعلان کیا گیا تو ولیم نئے بادشاہ کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے تھے۔

اس بات کا امکان ہے کہ بادشاہ اور کیملا کا جو اب ملکہ کنسورٹ ہیں، ولیم اور کیٹ کے ساتھ بنیادی گروپ ہو گا۔۔۔ تقریباً ایک الگ یونٹ جو بادشاہت کے مرکز میں ہو گا۔ یہ وہ چار افراد ہیں جو اس وقت ایک ساتھ نظر آتے تھے جب چارلس اپنی والدہ کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔

شہزادہ ہیری، میڈیا وینچرز، خیراتی اداروں اور مہمات کے ساتھ کیلیفورنیا میں میگھن اور اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہوئے ایک بالکل مختلف راستے پر ہیں۔ شاہی خاندان کا حصہ رہتے ہوئے انھیں اپنی الگ زندگی بنانا ہو گی۔ وہ بہت زیادہ عوامی دلچسپی کا مرکز ہیں جو ہمیشہ مثبت نہیں ہوتی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزار رہے ہیں جس میں ہر وقت میڈیا کا طوفان ان کے اوپر منڈلا رہا ہے۔

سوگ کے سب سے زیادہ احتیاط سے مرتب کردہ مراحل کے دوران بھی خاندان جڑتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔