ملکہ الزبتھ کی لندن کی رہائش گاہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملکہ الزبتھ دوم کا زیادہ تر دور لندن پر مرکوز تھا، اس لیے نہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بکنگھم پیلس میں تقریبات میں گزارا اور ان کی میزبانی کی۔
دارالحکومت ملکہ کے ابتدائی سالوں کی ایک مستقل سکونت بھی تھی، جس میں اس وقت کی شہزادی کے متعدد گھر اور مختلف جائیدادیں تھیں۔
ان میں سے صرف ایک اب بھی موجود ہے، باقی جنگ اور تعمیر نو میں کھو گئے۔
یہ عمارتیں کہاں تھیں اور انھوں نے ملکہ کی زندگی میں کیا کردار ادا کیا؟
17 بروٹن اسٹریٹ، مے فیئر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہو گا کہ مستقبل میں ملکہ بننے والی کسی محل میں پیدا ہوئی ہوں گی۔ الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈسر دراصل 21 اپریل 1926 کو لندن کے علاقے مے فیئر میں بروٹن اسٹریٹ کے ایک ٹاؤن ہاؤس میں پیدا ہوئیں۔ سفید پلاڈیئن ڈیزائن کی یہ عمارت، برکلے سکوائر کے باقی گھروں سے مختلف دوسری عمارتوں سے ممتاز نظر آتا تھا۔
مصنف جین ڈسمور بتاتی ہیں کہ 'اخبارات میں اسے لندن کی خوبصورت ترین حویلیوں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ ڈسمور کی کتابوں میں ’شہزادی: ملکہ الزبتھ دوم کی ابتدائی زندگی‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بروٹن سٹریٹ ان پہلی سڑکوں میں سے ایک تھی جو دریائے ٹائبرن کے کنارے کھیت میں بنائی گئی تھیں۔ وہاں کے پہلے گھر تقریبا 1740 میں مکمل ہوئے تھے۔
نمبر 17 پہلے چند گھروں میں شامل تھا جو یہاں تعمیر کیے گئے۔ اسے آئزک ویئر نے ڈیزائین کیا تھا جو 1704 میں ایک سٹریٹ ارچن تھے لیکن بعد میں اپنے شاندار ڈیزائنوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1920 کی دہائی کے آغاز میں یہ امیر ارل اور کاؤنٹس آف اسٹریتھمور اور کنگہورن کا لندن کا گھر بن گیا جو لیڈی الزبتھ بوئس لیون کے والدین تھے جو اس وقت ڈچز آف یارک تھے۔

،تصویر کا ذریعہEngland Archive
الزبتھ کی پیدائش کی تاریخ قریب آتے ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈچز اور ان کے شوہر ڈیوک آف یارک اور مستقبل کے جارج ششم البرٹ کو اپنے پچھلے گھر کی لیز ختم ہونے کے بعد بروٹن سٹریٹ میں اپنے پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے منتقل ہو جانا چاہیے۔
اس لیے شہزادی الزبتھ کی پیدائش اس گھر میں ہوئی۔ ان کی پیدائش کے وقت وہاں موجود افراد میں ہوم سیکرٹری سر ولیم جوئنسن ہکس بھی شامل تھے جیسا کہ اس وقت شاہی پیدائشوں کے لیے موقعوں پر لازمی تھا (بالآخر یہ رواج 1948 میں شہزادہ چارلس کی پیدائش سے پہلے ختم کر دیا گیا تھا)۔
اس کے باوجود اس وقت اسی بچی کا ملکہ بننے کا امکان نہیں تھا، ان کے والد جارج پنجم کے دوسرے بیٹے تھے۔
اگلے ماہ بکنگھم پیلس کے نجی چیپل میں یارک کے آرچ بشپ کوسمو گورڈن لینگ نے ان کا نام رکھا۔ اس دن اس کی والدہ نے اپنی بیٹی کے ساتھ بروٹن اسٹریٹ کے گھر سے نکلتے ہوئے تصویر کھنچوائی تھی جب وہ بچی کا نام رکھنے کے لیے جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس خاندان نے اگلے چند ماہ اسی 17 نمبر مکان میں رہائش اختیار کیے رکھی جبکہ ان کے اگلے گھر کی تزئین و آرائش جاری رہی تھی۔
ڈچز کی جانب سے اپنی والدہ کو اکتوبر میں لکھے گئے ایک خط میں لکھتی ہیں کہ ’میں ایمانداری سے نہیں جانتی کہ ہم اس کے بغیر کیا کرتے تھے' اس سے پہلے وہ لکھتی ہیں کہ ’بچی بہت صحت مند ہے، اور اب سارا دن اپنے جوتے اتارنے اور اپنے انگوٹھا چوسنے میں صرف کرتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بروٹن سٹریٹ کے اسی گھر سے نو ماہ کی شہزادی نے جنوری 1927 میں اپنے والدین کو الوداع کیا جب وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ ماہ کے دورے پر روانہ ہو رہے تھے۔ انھوں نے عمارت کی ایک کھڑکی میں اپنی نانی کی گود سے اپنے ماں باپ کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’انھیں یہ یاد نہیں ہوگا لیکن جذباتی طور پر یہ ملکہ کے لیے ایک اہم جگہ تھی۔‘
گھر اب موجود نہیں ہے. اسے 1937 میں برکلے اسکوائر ہاؤس کے لیے راستہ بنانے کے لیے آس پاس کی عمارتوں کے ساتھ مسمار کر دیا گیا تھا، جسے اس وقت یورپ کے سب سے بڑے دفتر بلاکس میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ عمارت باقی ہے، بینٹلی، بگاٹی اور فیراری جیسی اعلیٰ درجے کی کاروں کے لیے مختلف کمپنیوں، ریستوران اور شو رومز یہاں موجود ہیں۔ ایڈریس 17 بروٹن سٹریٹ فیشن ایبل چینی ریستوران ہکاسن سمیت متعدد کاروباری اداروں کے زیر استعمال ہے، جو جزوی طور پر اس جگہ سے متجاوز ہے جہاں کبھی اصل گھر کھڑا تھا۔
دیوار پر دو تختیاں اس مقام کی یاد دہانی کا کام کرتی ہیں جہاں ملکہ پیدا ہوئی تھی۔
145 پیکاڈیلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیوک اور ڈچز جون میں برطانیہ واپس آ گئے اور اب اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے نئے خاندانی گھر، 145 پیکاڈیلی میں منتقل ہو گئے۔
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’اس کی اپنی بالکنی تھی اور جیسے ہی یارک اپنے دورے سے واپس آئے وہ الزبتھ کو گود میں لے کر بالکنی میں کھڑے ہوئے تو لوگ دیوانے ہو گئے۔‘
جنوب کے رخ پر یہ پراپرٹی ایک عالیشان گھر تھا، جہاں سے سامنے گرین پارک کے پرے بکنگھم پیلس کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔
’ایک چیز جس نے مجھے ہمیشہ حیران کیا وہ یہ تھی کہ وہاں کوئی خاص سکیورٹی نہیں تھی۔ شاہی سوانح نگار کا کہنا ہے کہ آپ صرف سامنے کے دروازے تک چل سکتے تھے اور وہاں دو گھنٹیاں تھیں اور ایک عملے کے لیے تھی اور ایک ملنے جلنے والوں کے لیے تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیوک اور ڈچز کے چھ ماہ کے دورے سے واپس آنے کے بعد نوجوان خاندان نے ہجوم کی طرف ہاتھ ہلایا
داخلی دروازہ ایک پھولوں اور بڑے سبز ستونوں سے سجے ایک دالان میں کھلتا تھا جس میں بھورے رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا۔
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’اس سے گزر کر ایک بہت ہوا دار کمرہ شروع ہوتا تھا اور اس کے عقب میں گھر کا باغ نظر آتا تھا جہاں الزبتھ بعد میں اور اس سے آگے ہیملٹن گارڈنز میں اپنی تین پیہوں والی سائیکل چلاتی تھیں، یہیں وہ اپنے پہلے بہترین دوست سے ملی تھیں اور یہ راستہ براہ راست ہائیڈ پارک کی طرف جاتا ہے۔‘
ایک الیکٹرک لفٹ، بال روم، لائبریری اور 25 بیڈروم بھی تھے، یہ سب عمارت کی چھت میں شیشے کے ایک بڑے گنبد کے نیچے تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہزادی الزبتھ - یا لیلی بیٹ جیسا کہ وہ اپنا نام کہنے میں دشواری کی وجہ سے جانی جاتی تھیں، گھر کی چوتھی منزل پر کمروں کا ایک سوٹ تھا، جو ایک دن کی نرسری، رات کی نرسری اور باتھ روم پر مشتمل تھا۔ 1930 میں انھیں چھوٹی بہن شہزادی مارگریٹ کے ساتھ مل کر رہنا پڑا۔
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’نرسری میں ایک الماری تھی جس میں سلطنت بھر آئے ہویے بہت سارے کھلونے اور رنگ موجود تھے اور ان میں سے بہت سے ملکہ میری کی طرف سے دیئے گئے تحائف تھے۔‘
شاہی فوٹوگرافروں میں سے ایک فوٹو گرافر لیزا شیئرڈن نے کہا کہ انھوں نے شہزادی (الزبتھ) کو گھٹنوں چلتے دیکھا اور انھیں ایک الماری سے ٹیڈی بیئر نکالنے کی اجازت دی گئی لیکن انھیں ایک وقت میں ایک کھلونےسے کھیلنے کی اجازت تھی، لہٰذا ایک بار جب ان کا دل ایک کھلونے سے بھر جاتا تو انھیں اسے واپس رکھنا پڑتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گھر میں کچھ خادم تھے، جیسے شہزادیوں کی نرس اور خادمائیں لیکن ڈیوک اور ڈچس گھر میں کم سے کم نوکر رکھنا پسند کرتے تھے خاص طور پر اس وقت جب گھر میں کوئی مہمان نہیں ہوتا تھا۔
ڈسمور وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'وہ آس پاس بہت سے لوگوں کے بغیر نجی زندگی گزارنا پسند کرتے تھے۔ اگرچہ وہ میل جول کرنا پسند کرتے تھے لیکن جب اس دروازے کو بند کرنے کی بات آئی تو وہ کافی تنہا رہنا پسند کرتے تھے۔'
یہ میاں بیوی اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنے سے لطف اندوز ہوتے تھے، ڈیوک سونے سے پہلے الزبتھ کے ساتھ باقاعدگی سے کھیلتے تھے جبکہ ڈچز نے انھیں پڑھنا سکھایا تھا۔
یہ وہ وقت بھی تھا جب ملکہ کے بہت سے دلچسپیاں واضح ہونے لگے تھیں جن میں ان کی پیاری کورجیس کے ساتھ وابستگی بھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1933 میں، اس خاندان نے دونوں شہزادیوں کے کہنے پر جین اور ڈوکی نامی دو کتے حاصل کیے۔ دونوں لڑکیاں ان کورگی کتوں کے ساتھ کھیلنے سےبہت خوش ہوئیں۔
شہزادی الزبتھ کا گھوڑوں سے شغف بھی اس کم عمری میں سامنے آیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’ان کے دادا دادی اسٹریتھ مورز کے پاس گھوڑے تھے اور میں سمجھتی ہوں کہ شاید یہی وہ جگہ تھی جہاں سے الزبتھ کو ان سے محبت ملی تھی۔‘
دونوں شہزادیوں نے گھر میں تیسری منزل پر ایک سکول روم میں ان کی گورنس ماریون کرافورڈ کے ذریعے تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے اپنی کتاب دی لٹل پرنسز میں لکھا ہے کہ وہ ’کبھی اتنے اچھے ماحول والے گھر کو نہیں جانتی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن ایڈورڈ ہشتم کے تخت سے دستبرداری کے بعد دسمبر 1936 میں یہ سلسلہ اچانک رک گیا۔
اچانک اس خاندان کو اپنے نسبتا چھوٹے گھر کا آرام چھوڑ کر اپنے سینکڑوں کمروں والے بکنگھم پیلس منتقل ہونا پڑا جب الزبتھ کے والد برٹی کنگ جارج ششم بن گئے۔
اگرچہ شہزادی کو معمول کا کچھ احساس دلانے کی کوشش کی گئی تھی، محل میں ایک خصوصی گائیڈز یونٹ قائم کیا گیا تھا اور ٹیوب اور بس پر سفر کیا گیا تھا، وارث کے طور پر الزبتھ کی نئی جگہ کا مطلب زندگی اب بہت مختلف تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالات عملی طور پر بدل گئے کیونکہ ان کی توجہ تعلیم پر مرکوز ہو گئی۔ اس وقت ان کا اپنا سکیورٹی افسر تھا۔
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’تخت چھوڑنے کے بعد کچھ بھی معمول پر نہیں آنے والا تھا۔‘
نیا بادشاہ اور ملکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران محل میں رہے لیکن الزبتھ اور مارگریٹ نے زیادہ وقت ونڈسر کاسل میں گزارا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں تک 145 پیکاڈیلی کا تعلق ہے، اسے ریلیف اینڈ کمفرٹس فنڈ کے چیف آفس کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔ اس عمارت کو 7 اکتوبر 1940 کو ہوائی حملے کے دوران بری طرح نقصان پہنچا۔
اس کے بعد اسے 1959 میں ہائیڈ پارک کارنر کے لیے سڑک کو بہتر بنانے کے لیے اسے مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا تھا۔ اس کی جگہ لگژری ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل لندن پارک لین تعمیر کیا گیا تھا جو 1975 میں کھولا گیا تھا اور آج تک موجود ہے۔
کلیرنس ہاؤس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کلیرنس ہاؤس 1827 سے شاہی خاندان کے زیر استعمال ہے۔ اسے مشہور آرکیٹیکٹ جان نیش نے ڈیزائن کیا تھا جس نےجارج سوم کے تیسرے بیٹے پرنس ولیم ہنری، ڈیوک آف کلیرنس کے لیے ریجنٹس پارک اور برائٹن پویلین بھی ڈیزائن کیے۔
یہ عمارت نئی شادی شدہ شہزادی الزبتھ اور شہزادہ فلپ کے حوالے کی گئی تھی لیکن چونکہ جرمنی کے ہوائی حملے کے دوران اس عمارت کو نقصان پہنچا تھا اس لیے وہ 4 جولائی 1949 تک یہاں منتقل نہیں ہوئے۔
جب یہ تیار کیا جا رہا تھا، وہ کینسنگٹن پیلس میں ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر رہے۔ ملکہ الزبتھ کے دفاتر بکنگھم پیلس میں تھے جہاں سے وہ کام انجام دیتیں ۔ یہ ہی وہ جگہ تھی جہاں شہزادہ چارلس کا جنم ہوا۔
اس دوران شہزادہ فلپ نے نئے گھر کی تزئین و آرائش کا چارج سنبھال لیا۔ ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’فلپ کلیرنس ہاؤس میں کیے جانے والے کام کی نگرانی کر رہے تھے کیونکہ وہ اس کام میں ماہر تھے۔ وہ ڈیزائن میں بہت اچھے تھے اور الزبتھ اس سے پریشان نہیں تھیں، اور انھوں نے شہزادہ فلپس کو عمارت کی تزئین و آرائش کا کام کرنے دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمارت میں استعمال ہونے والا زیادہ تر فرنیچر شادی کے تحفوں کی شکل میں آیا تھا۔ ڈائننگ روم میں جارجین سٹائل کی ڈائننگ ٹیبل اور 20 کرسیاں تھیں جو رائل وارنٹ ہولڈرز ایسوسی ایشن کی طرف سے تحفہ تھیں جبکہ ملکہ مریم کی طرف سے ایک مہوگنی سائیڈ بورڈ موجود تھا۔
ڈسمور کے مطابق گھر ’بہت عظیم الشان لیکن سائز میں یہ بہت بڑا نہیں تھا۔ وہ اسی طرح قابل انتظام تھا جس طرح 145 پیکاڈیلی قابل انتظام تھا۔‘
’الزبتھ اور فلپ بہت بے تکلف انداز میں رہتے تھے۔ فلپ کسی بھی قسم کا تکلف پسند نہیں تھا، وہ غیر ضروری رسمی کارروائی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور وہ بے تکلف اندازہ میں رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ ان حصوں میں پھرتے رہتے تھے جہاں صرف عملہ تھا، اپنا سامان خود اٹھا کر جاتے تھے، اس طرح کی چیزیں۔
وہ مزید کہتی ہیں ’وہ بھی شاندار کھانا نہیں کھاتے تھے اور وہ کبھی کبھار عملے کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1949 میں شاہی جوڑے نے کچھ وقت مالٹا میں گذارا جب پرنس فلپ کو ایچ ایم ایس چیکرز کا نائب کمانڈر مقرر کیا گیا۔
ڈسمور کہتی ہیں ’الزبتھ وہاں ہر وقت نہیں رہتی تھیں۔ کیونکہ پرنس فلپ کو کام کرنا تھا اور شہزادی الزبتھ کو شہزادہ چارلس کا خیال رکھنا ہوتا تھا۔ لیکن وہ جتنی بار ہو سکے وہاں جاتی تھیں۔
ڈیوک نے 1950 میں دوسرے بچے این کی پیدائش کے لیے چھٹی لی تھی جو ان کے خاندانی گھر میں پیدا ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب جب شاہی جوڑا اپنے زندگی میں مگن ہو چکا تھا کہ انھیں اچانک ان کی زندگی میں زلزلہ آ گیا۔ شہزادی الزبتھ جب دولت مشترکہ کے ممالک کے دورے کے دوران انھیں کینیا میں قیام کے دوران اپنے والد کی موت کی اطلاع دی گئی۔
وہ جار ج اوّل کے تخت پر براجمان ہونے کے بعد پہلی انگریز حاکم اعلیٰ تھیں جو بیرون ملک دورے کے دوران تخت پر بیٹھیں۔
اس خاندان کو امید تھی کہ وہ کلیرنس ہاؤس میں رہنا جاری رکھے گا لیکن وزیر اعظم ونسٹن چرچل اس منصوبے کے حق میں نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور اس طرح بکنگھم پیلس ایک بار پھر الزبتھ کی لندن رہائش گاہ بن گیا، لیکن اس بار اس کے پہلے سے بہت مختلف زندگی تھی۔
ڈسمور کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک شہزادی کی حیثیت سے انگلینڈ سے گئی تھی لیکن ملکہ کی حیثیت سے واپس آئیں۔‘











