برطانیہ میں بادشاہت کا کردار: شاہی خاندان میں کون کون ہے اور بادشاہ کیا کرتے ہیں؟

King Charles at the Platinum Jubilee National Service of Thanksgiving at St Paul's Cathedral on 3 June, 2022

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کی 96 سال کی عمر میں بیلمورل کاسل میں وفات کے بعد تخت سنبھالا ہے۔

اس سے قبل رواں برس ملکہ برطانیہ نے طویل ترین حکمرانی کرنے والی برطانوی شاہی حکمران بننے پر اپنی پلاٹینم جوبلی کا جشن منایا تھا۔

اب کیا ہو گا؟

اب ملکہ برطانیہ وفات پا چکی ہیں اور شاہی تخت فوری طور پر ان کے جانشین اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس کو سونپ دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ سنیچر کو چارلس کو لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک رسمی باڈی ایکسیشن کونسل کے سامنے باضابطہ طور پر بادشاہ بنائے جانے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

بادشاہ کیا کرتے ہیں؟

برطانیہ میں بادشاہ سربراہِ مملکت ہوتا ہے تاہم ان کے اختیارات علامتی اور رسمی ہوتے ہیں اور وہ سیاسی طور پر غیر جانبدار رہتے ہیں۔

انھیں روزانہ کی بنیادوں پر حکومت کی جانب سے سرخ چمڑے کے ایک ڈبے میں پیغامات اور دستاویزات بھیجی جاتی ہیں جیسا کہ کسی اہم میٹنگ سے قبل بریفنگ یا وہ دستاویزات جن پر ان کے دستخط کی ضرورت ہے۔

عمومی طور پر ہر ہفتے بدھ کے روز برطانوی وزیر اعظم بادشاہ سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کریں گے تاکہ انھیں حکومتی امور کے متعلق آگاہ رکھا جا سکے۔

یہ ملاقاتیں مکمل رازداری میں ہوتی ہیں اور ان میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے، اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔

بادشاہ کے پاس متعدد پارلیمانی ذمہ داریاں بھی ہیں:

حکومت کا تقرر کرنا: برطانیہ میں عام انتخابات جیتنے والی سیاسی جماعت کے رہنما کو عام طور پر بکنگھم پیلس میں بلایا جاتا ہے جہاں انھیں باضابطہ طور پر حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ بادشاہ عام انتخابات سے قبل باضابطہ طور پر حکومت کو بھی تحلیل کر دیتا ہے۔

پارلیمان کا افتتاح اور بادشاہ کی تقریر: بادشاہ پارلیمانی سال کا آغاز ریاستی افتتاحی تقریب سے کریں گے۔ وہ دارالامرا میں تخت سے دی جانے والی تقریر میں حکومت کے منصوبوں کا تعین کریں گے۔

شاہی منظوری: جب پارلیمان کے ذریعے کسی بھی قسم کی قانون سازی ہوتی ہے تو اس کی باضابطہ منظوری بادشاہ سے لینی ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ قانون بن سکے۔ آخری مرتبہ سنہ 1708 میں شاہی منظوری سے انکار کیا گیا تھا۔

The Queen and Prince Charles attend the State Opening of Parliament on 14 October 2019

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے علاوہ، بادشاہ برطانیہ کا دورہ کرنے والے دیگر ممالک کے سربراہوں سے ملاقات کریں گے اور برطانیہ میں مقیم غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز سے ملاقات کریں گے۔

وہ عام طور پر نومبر میں لندن میں برطانیہ اور دولت مشترکہ کے فوجیوں کی یاد میں قائم یادگار سے سالانہ تقریب کی سربراہی کریں گے۔

نئے بادشاہ دولت مشترکہ کے سربراہ ہیں، جو 2.4 ارب افراد کی آبادی والے 56 آزاد ممالک کی تنظیم ہے۔ ان میں سے 14 ممالک جنھیں دولت مشترکہ کی ریاستوں کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ ان کے سربراہ مملکت بھی ہیں۔

تاہم سنہ 2001 میں بارباڈوس کے جمہوریہ بننے کے بعد خطہ کیریبیئن میں واقع دولت مشترکہ کی دیگر ریاستوں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔

اب برطانیہ کے ڈاک ٹکٹوں اور بینک آف انگلینڈ کے کرنسی نوٹوں پر بادشاہ چارلس سوم کی تصویر ان کی والدہ کی تصویر کی جگہ لے گی اور نئے برطانوی پاسپورٹس کے اندر عبارت بھی ہر میجسٹی کی جگہ ہز مجسٹی سے بدل ہو جائے گی۔

اب قومی ترانے میں ’گاڈ سیو دی کنگ‘ (خدا بادشاہ کو سلامت رکھے) استعمال ہو گا۔

شاہی جانشینی کا سلسلہ کیسے چلتا ہے؟

شاہی جانشینی کی ترتیب یہ طے کرتی ہے کہ کسی موجودہ شخص کی موت یا دستبرداری کے بعد شاہی خاندان کا کون سا فرد تخت سنبھالے گا۔ شاہی جانشینی کی قطار میں سب سے پہلے تخت کا وارث، یعنی بادشاہ یا ملکہ کا سب سے بڑا بچہ ہوتا ہے۔

ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد ان کے پہلے بچے چارلس نے تخت سنبھالا اور بادشاہ بن گئے اور ان کی اہلیہ کمیلا کوئین کنسورٹ بن گئیں۔

شاہی شجرہ
1px transparent line

یہ بھی پڑھیے

شاہی جانشینی کے قوانین میں سنہ 2013 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شاہی خاندان کے بیٹوں کو ان کی بڑی بہنوں پر فوقیت نہ ملے۔

شاہ چارلس کے جانشین ان کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم ہیں، جنھوں نے اپنے والد کی میراث سے ان کا ڈیوک آف کورنوال کا خطاب حاصل کیا ہے۔ انھیں اور کیتھرین کو بادشاہ کی جانب سے پرنس اور پرنسس آف ویلز کا خطاب عطا کر دیا گیا ہے۔

تخت کے لیے شہزادہ ولیم کے بڑے بیٹے پرنس جارج دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ ان کی بڑی بیٹی شہزادی شارلٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔

تاجپوشی کی تقریب میں کیا ہو گا؟

تاجپوشی وہ تقریب ہے جس میں بادشاہ کو باقاعدہ طور پر تاج پہنایا جاتا ہے۔ یہ پچھلے بادشاہ یا شاہی حکمران کی موت کے سوگ کی مدت کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔

الزبتھ دوم چھ فروری 1952 کو اپنے والد بادشاہ جارج ششم کی وفات کے بعد ملکہ بنی تھیں لیکن ان کی تاجپوشی دو جون 1953 تک نہیں کی گئی تھی۔

ان کی تاجپوشی ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والی پہلی تاجپوشی کی تقریب تھی، اور اسے دو کروڑ سے زیادہ افراد نے دیکھا تھا۔

The coronation of Queen Elizabeth, June 1953

،تصویر کا ذریعہPA Media

پچھلے 900 برسوں سے ویسٹ منسٹر ایبی میں تاجپوشی کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے، ولیم فاتح پہلے بادشاہ تھے جن کی وہاں تاجپوشی کی گئی تھی، اور چارلس 40 ویں بادشاہ ہوں گے۔

یہ ایک اینگلیکن مذہبی دعائیہ تقریب ہے جسے آرچ بشپ آف کینٹربری ادا کرتے ہیں۔

بادشاہ کا ’مقدس تیل‘ کے ساتھ مسح کیا جاتا ہے، اور اُنھیں شاہی کرّہ اور شاہی عصا دیا جاتا ہے جو کہ بادشاہت کی علامت ہے۔

تقریب کے اختتام پر آرچ بشپ سینٹ ایڈورڈ کا تاج چارلس کے سر پر رکھیں گے جو کہ خالص سونے کا بنا تاج ہے اور سنہ 1661 سے چلتا آ رہا ہے۔

تاج کے درمیان میں ٹاور آف لندن کی علامت بنی ہوئی ہے اور اس میں ہیرے جواہرات جڑے ہوئے ہیں اور اسے بادشاہ صرف اپنی تاج پوشی کے وقت ہی پہنتے ہیں۔

شاہی شادیوں کے برعکس تاجپوشی ایک سرکاری تقریب ہوتی ہے، اور حکومت اس کے اخراجات اٹھاتی ہے اور اس میں شریک مہمانوں کی فہرست کا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔

شاہی خاندان میں اور کون کون شامل ہے؟

Members of the Royal Family on the Queen's official birthday

،تصویر کا ذریعہPA Media

  • ڈیوک آف کورنوال اینڈ کیمبرج (شہزادہ ولیم) شاہ چارلس اور ان کی پہلی بیوی ڈیانا پرنسس آف ویلز کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ان کی شادی کیتھرین سے ہوئی جو ڈچز آف کورنوال اینڈ کیمبرج ہیں۔ ان کے تین بچے شہزادہ جارج، شہزادی شارلٹ اور شہزادہ لوئس ہیں۔
  • دی پرنسس رائل شہزادی این ملکہ کی دوسری اولاد اور واحد بیٹی ہیں۔ ان کی شادی وائس ایڈمرل ٹموتھی لارنس سے ہوئی ہے۔ ان کے پہلے شوہر کیپٹن مارک فلپس سے ان کے دو بچے پیٹر فلپس اور زارا ٹنڈال ہیں۔
  • دی ارل آف ویسیکس شہزادہ ایڈورڈ ملکہ کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کی شادی کاؤنٹس آف ویسیکس صوفیہ ریہ جونز سے ہوئی ہے۔ ان کے دو بچے ہیں لوئیز اور جیمز ماؤنٹبیٹن ونڈزر۔
  • ڈیوک آف یارک شہزادہ اینڈریو ملکہ کے دوسرے بیٹے ہیں۔ ان کی سابقہ بیوی ڈچز آف یارک (سارہ فرگوسن) سے دو بیٹیاں ہیں۔ شہزادی بیٹرائس اور شہزادی یوجینی۔
  • شہزادہ اینڈریو ورجینیا جیفری پر جنسی حملے کے الزامات کے بارے میں بی بی سی نیوز نائٹ کے ایک متنازعہ انٹرویو کے بعد 2019 میں شاہی رکن کی حیثیت سے دستبردار ہو گئے تھے۔
  • فروری 2022 میں انھوں نے امریکہ میں اپنے خلاف مسز جیفری کی جانب سے دائر کیے گئے جنسی حملے کے مقدمے کو ختم کرنے کے لیے ایک نامعلوم رقم ادا کی تھی۔
  • ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری شہزادہ ولیم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان کی شادی ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل سے ہوئی ہے۔ ان کے دو بچے ہیں: آرچی اور للیبیٹ ہیں۔ سنہ 2020 میں، انھوں نے شاہی خاندان سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور امریکہ چلے گئے۔

شاہی خاندان کے افراد کہاں رہتے ہیں؟

شاہ چارلس اور کوئین کنسورٹ کے بکنگھم پیلس منتقل ہونے کی توقع ہے۔ وہ پہلے لندن میں کلیرنس ہاؤس اور گلوسٹر شائر کے ہائی گروو میں رہتے تھے۔

شہزادہ ولیم اور ڈچز آف کورنوال اور کیمبرج کیتھرین حال ہی میں مغربی لندن کے کنسنگٹن پیلس سے ملکہ کی ونڈزر اسٹیٹ پر واقع ایڈیلیڈ کاٹیج میں رہنے کے لیے منتقل ہوئے ہیں۔

Prince George, the Duchess of Cambridge, Prince Louis, the Duke of Cambridge and Princess Charlotte walking hand-in-hand on the children's first day at Lambrook School

،تصویر کا ذریعہPA Media

شہزادہ جارج، شہزادی شارلٹ اور شہزادہ لوئس برکشائر میں اسکوٹ کے قریب لیمبروک سکول جاتے ہیں۔

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کیلیفورنیا میں رہتے ہیں۔

بادشاہت کتنی مقبول ہے؟

ملکہ کی پلاٹینم جوبلی کے وقت یو گوو نامی ایک ادارے کی جانب سے کیے گئے پول کے مطابق برطانیہ کے 62 فیصد افراد کا خیال تھا کہ ملک میں بادشاہت رہنی چاہیے جبکہ 22 فیصد کا خیال تھا کہ ملک میں ایک منتخب سربراہ ہونا چاہیے۔

سنہ 2021 میں کیے جانے والے دو پولز کے بھی کچھ اس سے ملتے جلتے نتائج تھے۔ جس میں پانچ میں سے ایک شخص کا یہ خیال تھا کہ بادشاہت ختم کرنا برطانیہ کے حق میں بہتر ہو گا۔

تاہم یو گوو نامی ادارے کے سروے کے نتائج سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ دہائی میں بادشاہت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے جو کہ 2012 میں 75 فیصد سے 2022 میں 62 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اگرچہ بڑی عمر کے افراد کی اکثریت میں میں بادشاہت کے لیے حمایت تھی، لیکن پول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوجوان لوگوں کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔

سنہ 2021 میں جب یو گوو نے پہلی بار یہ سوال پوچھانا شروع کیا تو اس وقت 18 سے 24 سال کی عمر کے 59 فیصد لوگوں کے خیال میں بادشاہت کو جاری رہنا چاہیے تھا، جبکہ 2022 میں یہ شرح 33 فیصد تھی۔