ملکہ الزبتھ دوم اور 15 برطانوی وزرائے اعظم

وزرائے اعظم

جدید جمہوریتوں میں، بادشاہ یا ملکہ ایک محدود کردار ادا کرتے ہیں جس میں وہ اپنے محدود اختیارات کو اس مشورے کے ساتھ متوازن کرتے ہیں جو وہ دے سکتے ہیں۔

سابق برطانوی وزرائے اعظم کے بیانات کے مطابق الزبتھ دوم اپنے محدود آئینی کردار کے باوجود ملک کا نظم و نسق چلانے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں۔

اپنے تمام تر دورِ میں ملکہ کا نہ صرف اصرار رہا کہ انھیں حکومتی فیصلوں سے باخبر رکھا جائے بلکہ انھوں نے اپنے دور میں برطانوی وزرائے اعظم کو ملاقاتوں کے دوران مشورے اور تجاویز دینے میں بھی کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

نوجوان ملکہ اس لحاظ سے خوش قسمت رہیں کہ انھیں شروع ہی سے ونسٹن چرچل جیسے بلند پایہ سیاسی مدبر کی رہنمائی میسر آ گئی۔ چرچل نے ایک بار کم عمر شہزادی کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے اندر وہ دبدبہ نظر آتا ہے جس کی کسی شخصیت میں نوعمری ہی میں موجودگی ’حیران کُن‘ ہے۔

The Queen with Winston and Clementine Churchill

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ اور ونسٹن چرچل کے درمیان ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے

اس سے قبل چرچل الزبتھ کی پڑدادی ملکہ وکٹوریہ کے دور میں جنگِ بوئر میں حصہ لے چکے تھے اور عمر میں الزبتھ سے بہت بڑے تھے، لیکن اس کے باوجود دونوں کا رشتہ محبت اور احترام پر مبنی تھا۔ ملکہ کی تاج پوشی کے فوراً بعد انھوں نے کہا تھا کہ ’ملکہ کبھی غلطی نہیں کر سکتیں۔‘

شہ سرخیاں

برطانوی شہنشاہ اور وزیرِ اعظم کے درمیان تعلقات کی صحیح نوعیت کیا ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے۔ تاہم بعض برطانوی وزرائے اعظم ملکہ کے ساتھ زیادہ بامعنی تعلقات استوار کرنے میں کامیاب رہے۔

ہر وزیرِ اعظم کو ایک بات سے مکمل اتفاق تھا اور وہ تھی ملکہ کی اپنے فرائض سے مکمل وابستگی۔

وہ ہر روز تین گھنٹے کابینہ کے کاغذات، سرکاری خط و کتابت اور محکہ جاتی بریفنگز اور ملاقاتوں میں گزارتی تھیں، اور جب وزیرِ اعظم ہفتہ وار ملاقاتوں کے لیے محل آتے تو یہ معاملات زیرِ بحث آتے۔

Queen Elizabeth II stands with (from left), Prime Minister Tony Blair and former Prime Ministers Margaret Thatcher, Ted Heath, James Callaghan and John Major in Downing Street Monday April 29, 2002

،تصویر کا ذریعہTerry O'Neill / Getty Images

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزرائے اعظم ملکہ کے ہمراہ (بائیں سے دائیں) ٹونی بلیئر، مارگریٹ تھیچر، ہیتھ، جیمز کیلگن اور جان میجر

ایسا لگتا ہے کہ شروع سے ہی ملکہ الزبتھ کی فطری ذہانت اور مدبرانہ مہارت نے یکے بعد دیگرے سربراہان حکومت کو متاثر کیا ہے۔

آئینی بحران

ملکہ نے جس حساسیت سے اپنی آئینی حیثیت کے تقاضوں کا خیال رکھا، اس کی تعریف بھی وزرائے اعظم کی جانب سے جاتی رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال 1957 میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب وزیرِ اعظم اینتھنی ایڈن نے نہرِ سوئز کے بحران کے بعد استعفیٰ دے دیا۔

اس وقت کنزرویٹو پارٹی کے پاس نیا رہنما منتخب کرنے کا کوئی میکینزم نہیں تھا۔ ملکہ نے چرچل اور دوسرے سینیئر حکام سے مشورہ کر کے ہیرلڈ میکمیلان کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی۔ اس فیصلے سے ایسے کئی لوگ حیرت زدہ رہ گئے جن کو توقع تھی کہ ایڈن کے نائب راب بٹلر اس عہدے پر فائز ہوں گے۔

Harold Macmillan
،تصویر کا کیپشنہیرولڈ میکمیلان کے استعفے نے سیاسی بحران کھڑا کر دیا

اس کے چند برس بعد اسی قسم کا ایک اور بحران اٹھ کھڑا ہوا جب 1963 میں ہیرلڈ میکملن نے خرابیِ صحت کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔ حیرت انگیز طور پر کنزرویٹو پارٹی ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھتے ہوئے اب بھی قیادت کی تبدیلی کا کوئی نظام وضع کرنے میں ناکام رہی تھی۔ ہسپتال میں موجود میکملن سے مشاورت کرنے کے بعد ملکہ نے سر ایلک ڈگلس ہوم کو وزارتِ عظمیٰ کی پیشکش کی۔

یہ بھی پڑھیے

آخر کار 1965 میں کہیں جا کر ٹوریز نے قیادت کی منتقلی کا نظام تشکیل دیا۔

عوامی تنقید

Harold Wilson & the Queen

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہیرولڈ ولسن لیبر پارٹی کے پہلے وزیر اعظم تھے

سنہ 1964 میں ہیرولڈ ولسن ملکہ کے دور کے پہلے لیبر پارٹی کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے جنھیں اس بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انھوں نے ملکہ پر اٹھنے والے سرکاری خرچ میں اضافہ کر دیا ہے۔

تاہم ولسن کی کابینہ کی اہم رکن باربرا کیسل کے بقول: 'ہیرلڈ ملکہ سے بڑی عقیدت سے پیش آتے تھے۔ وہ بڑے زیرک رہنما تھے۔ مگر سرکاری خرچ میں اضافے پر عوامی تنقید سامنے آئی۔

وزیرِ اعظم کے ساتھ مذاکرات کے بعد ملکہ نے عوامی جذبات کا ادراک کرتے ہوئے خرچ کا کچھ حصہ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح ملکہ کے پہلی برطانوی خاتون وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کے ساتھ تعلقات بھی ہمیشہ خوشگوار نہیں رہے، خاص طور پر دولتِ مشترکہ کے معاملے پر۔

State Opening of Parliament

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ ہمیشہ جماعتی سیاست سے بالاتر رہیں

پابندیاں

دولتِ مشترکہ کے تمام رہنماؤں میں سے صرف تھیچر ہی جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ حکومت پر پابندیوں کے خلاف تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں غیر موثر ہیں اور ان کا نشانہ صرف غریب بنیں گے۔ سنہ 1986 میں سنڈے ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملکہ نے کہا تھا کہ انھیں تھیچر کا رویہ اور جارحانہ انداز ’الجھن میں مبتلا کرنے والا‘ لگا۔

تاہم صرف ملکہ ہی وزیرِ اعظم کو مشورے نہیں دیتی تھیں، بعض اوقات خود انھیں بھی مشورے کی ضرورت پڑ جاتی تھی۔

David Cameron with the Queen in Downing Street

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنڈیوڈ کیمرون ملکہ کے دور کے 12ویں وزیرِ اعظم تھے

جب شہزادی ڈیانا اور چارلز کی طلاق کے موقع پر شاہی خاندان عوامی تنقید کی زد میں آیا تو اس وقت جان میجر وزیرِ اعظم تھے جو اس سخت گھڑی میں ملکہ کے قابلِ اعتماد مشیر ثابت ہوئے۔

کچھ عرصے بعد رائے عامہ اس وقت ملکہ کے مزید خلاف ہو گئی جب لوگوں کو لگا کہ ڈیانا کی المناک موت کے وقت ملکہ کا ردِعمل عوامی غم کا غماز نہیں تھا۔ تاہم ملکہ سمجھتی تھیں کہ بطور دادی ان کا اصل کام اپنے کم سن پوتوں کو دلاسا دینا تھا۔

معلق پارلیمان

Britain's Queen Elizabeth II giving an audience at Buckingham Palace to Prime Minister Tony Blair

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنٹونی بلیئر نے شہزادی ڈیانا کی موت کے وقت ملکہ کو مشورے دیے

اس موقع پر میڈیا کو سمجھنے والے ٹونی بلیئر نے ملکہ کو قابلِ قدر مشاورت فراہم کی، اور ڈیانا کو ’عوام کی شہزادی‘ کہہ کر خود توجہ حاصل کر لی۔

سنہ 2007 میں بلیئر کی جگہ گورڈن براؤن آ گئے جن کی 2010 میں شکست سے برطانوی جمہوریت ایک بار پھر مخمصے میں پڑ گئی اور اسے معلق پارلیمان کا سامنا کرنا پڑا۔

انتخابات کے بعد ہارس ٹریڈنگ ہوئی جس سے ملکہ بخوبی واقف تھیں۔ آخر کہیں جا کر براؤن نے استعفیٰ دیا اور ملکہ نے ڈیوڈ کیمرون کو محل بلا کر انھیں لبرل ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی دعوت دی۔

مسترد کردہ

کیمرون نے بعد میں کہا کہ انھیں ملکہ کے ساتھ گفتگو ’انتہائی مفید‘ لگی کیوں کہ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو سیاسی عمل سے باہر ہیں۔ انھوں نے کہا: ’مجھے نہیں پتہ کہ اس کا انھیں کس قدر فائدہ ہوا، لیکن یہ میرے لیے بےحد فائدہ مند تھی۔‘

تاہم 2016 میں برطانوی عوام نے ایک معمولی اکثریت کے ساتھ کیمرون کا مشورہ نظرانداز کرتے ہوئے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دے دیا، جس پر کیمرون مستعفی ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں ٹریزا مے نئی وزیرِ اعظم بن گئیں۔

Theresa May curtseying to the Queen after being asked to form a new government

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنٹریزا مے اور ملکہ

13 جولائی 2016 کو ملکہ نے انھیں بکنگھم پیلس بلا کر انھیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی۔ وہ ملکہ کے دور کے دوران برطانوی وزیرِ اعظم بننے والی دوسری خاتون تھیں۔

اور رواں برس بورس جانسن مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے پارٹی قیادت اور حکومت کے لیے ایک نئے مقابلے کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے لِز ٹرس کی فتح ہوئی اور نئی حکومت کی تشکیل ہوئی۔

ہیرلڈ ولسن تین بار ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے باسی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ایک بار ملکہ اور وزیرِ اعظم کے درمیان تعلق کے بارے میں بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا تھا: ’یہ حقیقت کہ کوئی ایسی شخصیت ہے جو الگ تھلگ، مختلف اور غیر وابستہ ہے، اور جسے صرف اس بات سے غرض ہے کہ پارلیمان لوگوں کے فیصلے کی عکاسی کرتی ہو۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو صدارتی نظام میں ممکن نہیں ہے۔‘