گھوڑوں اور گھڑ دوڑ سے لگاؤ رکھنے والی ملکہ الزبتھ

،تصویر کا ذریعہPA
- مصنف, فرینک کیوغ
- عہدہ, بی بی سی سپورٹ
ملکہ برطانیہ کے اس گھر پہنچیں جہاں وہ چھٹیاں مناتی تھیں تو سب سے پہلی چیز جس پر نظر پڑتی وہ ان کے گھوڑے ایسٹی میٹ کا مجسمہ ہے۔
سنڈرنغم میں موجود یہ مجسمہ گھڑدوڑ سے ان کی محبت کی علامت ہے، ایک ایسا کھیل جو تاج کے پیچھے موجود ان کی شخصیت کی نایاب جھلک فراہم کرتا ہے۔
2013 میں جب ایسٹی میٹ گھوڑے نے رائل ایسکوٹ میں گولڈ کپ جیتا تو یہ 207 برس میں پہلا موقع تھا کہ جیتنے والا گھوڑا کسی برسراقتدار شاہی حکمران کی ملکیت تھا۔
ان کو اس وقت اپنے ریسنگ مینجر جان وارن کے ساتھ رائل باکس میں خوشی سے کھلکھلاتے ہوئے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا گیا۔
جان وارن نے کہا تھا کہ ’جب ایسا نتیجہ نکلے تو یہ ایک بہترین سفر کا اچھا انجام ہوتا ہے۔‘
ایسٹی میٹ کی فتح ملکہ کی 1800 فتوحات میں سے ایک تھی۔ گھوڑوں کی پرورش اور تولیدگی کے باعث گھڑ دوڑ کے لیے ان کی خدمات کو 2021 میں پہچان ملی جب ان کا نام برطانوی چیمپیئن سیریز ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
گھڑ دوڑ ایک ایسا شوق تھا جو ملکہ کو سنجیدہ نوعیت کے عالمی اور ملکی معاملات سے ہٹ کر کچھ کرنے کا موقع فراہم کرتا تھا۔
ٹرینت رچرڈ ہینن کہتے ہیں کہ ’وہ مجھ سے کہا کرتی تھیں کہ ایک ایسی جگہ آ کر اچھا محسوس ہوتا ہے جہاں تازہ پینٹ کی بو نہیں ہوتی۔‘
گھر دوڑ کے بارے میں چھپنے والا اخبار ’پوسٹ‘ ہمیشہ ان کی روزمرہ کی خط و کتابت میں رکھا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گھوڑے بچپن سے ہی ان کی زندگی کا حصہ تھے۔ ملکہ نے ’پیگی‘ نامی پونی پر گھڑ سواری سیکھی تھی جو ان کی چوتھی سالگرہ پر ان کے دادا جارج پنجم کی جانب سے بطور تحفہ ملی تھی۔
گھڑ دوڑ میں ان کی دلچسپی دوسری جنگ عظیم کے دوران پیدا ہوئی جب وہ اپنے والد کے ساتھ ولٹ شائر میں شاہی گھوڑوں کی تربیت دیکھنے کے لیے گئیں۔
انھوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بعد میں کہا تھا کہ ’میں نے بعد میں اصطبل میں جا کر ان پر ہاتھ پھیرا۔ میں نے اس سے پہلے کسی تھرو بریڈ گھوڑے کی جلد کی ریشم جیسی نرمی محسوس نہیں کی تھی۔‘
یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد، مئی 1945 میں، الزبتھ کو اپنے والدین کے ہمراہ ایسکوٹ جانے کا موقع ملا جہاں وہ پہلی بار ایک گھڑ دوڑ کے موقعے پر عوام کے سامنے آئیں۔
رائل ایسکوٹ میٹنگ ان کی پسندیدہ ترین سماجی تقریبات میں سے ایک تھی جہاں ان کو 24 فتوحات ملیں۔
ہر سال ملکہ ایک قافلے کی شکل میں ونڈزر کیسل کی جانب سے ٹریک تک آتیں تو جواری شرطیں لگاتے کہ انھوں نے کس رنگ کا ہیٹ پہنا ہو گا۔ نیلا رنگ اکثر ایک مقبول انتخاب ہوتا تھا۔
ملکہ الزبتھ دوم کو اپنے والد سے شاہی اصطبل وراثت میں ملا جو سینڈرنغم میں گھوڑوں کی تولید کا مرکز تھا اور یہیں ان کے کئی ایسے گھوڑے پیدا ہوئے جنھوں نے ان کو گھڑدوڑ میں فتوحات دیں۔
ان کو پہلی فتح 1949 میں ملی جب موناوین نے فونٹ ویل پارک میں اوور جمپ جیتی۔ 1954 اور 1957 میں وہ دو بار چیمپیئن بنیں۔
یہ بھی پڑھیے
براڈ کاسٹر کلیئر بالڈنگ کے بھائی، والد اور دادا نے ملکہ کے گھوڑوں کی تربیت کی۔ ان کے مطابق ’وہ گھوڑوں کو دیکھ کر ہی پہچان لیتی تھیں۔ وہ گھوڑوں کی ذہنی اور جسمانی تربیت میں دلچسپی لیتی تھیں اور ہر گھوڑے کا خیال رکھنے والے سے تفصیلی گفتگو کرتی تھیں۔‘
’ان کی توجہ کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ وہ جب گھوڑوں کو جب بھی دیکھنے آتی تھیں تو خوشبو نہیں لگاتی تھیں کیوں کہ اس سے گھوڑے بھڑک جاتے ہیں۔‘
’ملکہ گھوڑوں سے سرگوشیاں کرنے والے مونٹی رابرٹس کی پیروکار تھیں اور انھوں نے مونٹی کی کافی تکنیکوں کو تربیت کے لیے اپنایا مثال کے طور پر گھوڑے کے بچوں کو پلاسٹک کی نیلی شیٹ کے اوپر سے گزارنا تاکہ ان کو پانی پر چلتے ہوئے ڈر نہ لگے۔‘
’اس کا نتیجہ یہ تھا کہ گھوڑے جب گھڑدوڑ کی جگہ پہنچتے تو بہت اچھا برتاو رکھتے۔‘
ملکہ اپنے گھوڑوں کے نام بھی ایک واضح پیغام کی طرح رکھتی تھیں جیسا کہ ڈیوٹی باؤنڈ (فرض شناس)، کونسٹی ٹیوشن (آئین) اور ڈسکریشن (اختیار)۔
ملکہ خود بھی ایک بہترین گھڑسوار تھیں جس کا نمونہ انھوں نے اس وقت پیش کیا جب 1981 میں ان کی سالگرہ پر ہونے والی پریڈ میں ایک شخص نے ان پر گولی چلائی اور انھوں نے گولیوں کی آواز پر اپنے بدکنے والے گھوڑے کو باآسانی سنبھال لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرینر سر مائیکل سٹوئٹ نے ایسٹی میٹ سمیت 100 سے زیادہ گھڑ دوڑ جیتنے والے شاہی گھوڑوں کی تربیت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ملکہ کے لیے کام کرنا خوشگوار تجربہ تھا۔‘
’ملکہ کے لیے تربیت کرنے کا کوئی دباؤ نہیں تھا جس کی وجہ ان کی سمجھ بوجھ، ان کا علم اور جاننے کی خواہش تھی۔‘
’وہ ہمیشہ آگے کی سوچ رکھتی تھیں، کہ میں اس جانور کے ساتھ کیا کروں، کیا میں اس کی تولید کروں، اگر ہاں تو کس سے کروائی جائے، جانور کی رفتار، اس کی سکت۔ وہ اس پورے عمل کی دلدادہ تھیں۔‘
فرینکی ڈیٹوری ملکہ کے پسندیدہ جوکیوں میں سے ایک تھے اور وہ دونوں کسی بڑی گھڑدوڑ میں جیت کے بعد ایک دوسرے سے مزاح بھی کر لیتے تھے۔
ڈیٹوری بتاتے ہیں کہ ’ایسکوٹ میں کنگ جارج ششم اور ملکہ الزبتھ سٹیکس ریس میں جیت کے بعد میں نے ملکہ سے کہا کہ یہ میرا چوتھا کنگ جارج ہے۔‘
’ملکہ نے میری طرف دیکھا اور بھنویں اٹھا کر کہا لیسٹر سات جیت چکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گھوڑوں کی مالکن کی حیثیت میں ملکہ نے پانچ میں سے چار کلاسک برطانوی ریسیں جیتیں۔
1977 میں ڈنفرملین نے ملکہ کی سلور جوبلی تقریبات سے تین دن قبل اوکس اور پھر سینٹ لیجر جیتی۔ اس سے قبل ملکہ کوروزا کے ساتھ 1957 میں اوکس، پال مال کے ساتھ 1958 اور ہائی کلیئر نے 1974 میں ان کو فتوحات دلائیں۔
گھڑدوڑ کا سب سے بڑا انعام ڈربی ان کی گرفت سے دور ہی رہا جس میں سب سے بہترین پرفارمنس 1953 میں ایریول نامی گھوڑے نے دکھائی جب وہ دوسرے نمبر پر آیا۔ یہ ریس سر گورڈن رچرڈز جوکی اپنی 26ویں کوشش میں پنزا نامی گھوڑے کے ساتھ جیت گئے تھے۔
2012 میں ڈربی جیتنے کا ایک اور موقع اس وقت ہاتھ سے نکل گیا جب کارلٹن نامی گھوڑا تیسری پوزیشن پر آیا۔
12 ماہ بعد ایسٹی میٹ نے ایسکوٹ میں فتح حاصل کی تو ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم کے علاوہ ملکہ نے اگلے برسوں میں لاکھوں کمائے اگرچہ اس میں سے بیشتر ٹریننگ اور دیگر خرچوں کی مد میں لگ گئے لیکن جیت سے حاصل ہونے والے پیسے سے زیادہ ان کو ریس میں حصہ لینے کی خوشی تھی۔
وارن کہتے ہیں کہ گھوڑے ان کی مصروفیات اور فرائض سے فرار کا ذریعہ تھے اور ان کی حمایت سے برطانیہ میں گھڑدوڑ کو بہت فروغ ملا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ اگر ملکہ شاہی حکمران نہیں بنتیں تو وہ گھوڑوں کو پیشہ بنا لیتیں۔ یہ ان کی جینیات کا حصہ تھا۔‘









