چینی کمپنی علی بابا کو 2.75 بلین ڈالر کا جرمانہ

A woman passes an Alibaba office in Beijing, China, 24 December 2020

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیلر چینی کمپنی علی بابا کو 2.75 بلین ڈالر کا جرمانہ کر دیا گیا ہے۔

چین کی ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ علی بابا کمپنی نے مارکیٹ میں کئی برسوں سے اپنی اجارادارانہ پوزیشن کا غلط استعمال کیا ہے اور ملک کے اجارہ داری کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

ای کامرس کمپنی علی بابا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم کرتی ہے اور اس پر عملدرآمد بھی کرے گی یعنی چینی کمپنی بھاری جرمانہ ادا کرنے پر رضامند بھی ہو گئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں چین اب انٹرنیٹ پر ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں بہت بڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شنگھائی میں بی بی سی کے رابن برینٹ کے مطابق چین کے باہر کم شہرت رکھنے والے علی بابا کو ملک کے اندر ایک دیوتا کی حیثیت حاصل ہے۔

بی بی سی کے نمائندوں کے مطابق یہ کمپنی چین کی ایمازون کا مرکز ہے، جہاں ہر کچھ بھی آن لائن خریدا جا سکتا ہے۔ اس کمپنی کا بنیادی کام ریٹیل کا ہی ہے مگر اس کا کام ڈیجیٹل ادائیگیاں، کریڈٹ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ ہے۔

اگر کمپنی پر عائد ہونے والے اس جرمانے کے حجم کے بارے میں اندازہ لگایا جائے تو یہ علی بابا کے سال 2019 میں کمائے گئے منافع کا چار فیصد بنتا ہے۔

چینی ریگولیٹر ادارے کے مطابق علی بابا نے دوسری کمپنیوں کو دیگر پلیٹ فارمز سے فروخت سے روک کر مسابقت کے اصولوں کی نفی کی ہے۔

یہ جرمانہ کمپنی کے خلاف اکتوبر سے جاری کارروائیوں میں سے تازہ ترین ایک اقدام ہے۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں اس کمپنی کے شریک بانی جیک ما نے چین کے سرکردہ ریگولیٹرز کو بتایا تھا کہ ان کے ایسے اقدامات جدت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

جیک ما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جیک ما چین میں جانی پہچانی اور کامیاب ترین شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں بوکام (BOCOM) انٹرنیشنل ریسرچ کے سربراہ ہانگ ہاؤ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ جرمانہ مارکیٹ میں اجاراداری کے خلاف خاتمے کے طور پر دیکھا جائے گا۔

یہ اجاراداری کے خلاف ایک بہت بڑا اقدام ہے۔ مارکیٹ میں اس طرح کے جرمانے سے متعلق کسی حد تک پیش گوئی کی جا رہی تھی ... لیکن لوگوں کو اجارہ داری کے خلاف تحقیقات سے ہٹ کر بھی اقدامات کو دیکھنا چاہیے۔

ملک کی دیگر کمپنیاں بھی ریگولیٹرز کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ان کے بڑھتے اثرورسوخ سے پریشان بھی ہیں۔

گذشتہ ماہ ایسی 12 کمپنیوں پر اجارہ داری کے خلاف قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے گئے۔