آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چینی کمپنی علی بابا کو 2.75 بلین ڈالر کا جرمانہ
دنیا کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیلر چینی کمپنی علی بابا کو 2.75 بلین ڈالر کا جرمانہ کر دیا گیا ہے۔
چین کی ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ علی بابا کمپنی نے مارکیٹ میں کئی برسوں سے اپنی اجارادارانہ پوزیشن کا غلط استعمال کیا ہے اور ملک کے اجارہ داری کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔
ای کامرس کمپنی علی بابا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم کرتی ہے اور اس پر عملدرآمد بھی کرے گی یعنی چینی کمپنی بھاری جرمانہ ادا کرنے پر رضامند بھی ہو گئی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے خیال میں چین اب انٹرنیٹ پر ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں بہت بڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شنگھائی میں بی بی سی کے رابن برینٹ کے مطابق چین کے باہر کم شہرت رکھنے والے علی بابا کو ملک کے اندر ایک دیوتا کی حیثیت حاصل ہے۔
بی بی سی کے نمائندوں کے مطابق یہ کمپنی چین کی ایمازون کا مرکز ہے، جہاں ہر کچھ بھی آن لائن خریدا جا سکتا ہے۔ اس کمپنی کا بنیادی کام ریٹیل کا ہی ہے مگر اس کا کام ڈیجیٹل ادائیگیاں، کریڈٹ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ ہے۔
اگر کمپنی پر عائد ہونے والے اس جرمانے کے حجم کے بارے میں اندازہ لگایا جائے تو یہ علی بابا کے سال 2019 میں کمائے گئے منافع کا چار فیصد بنتا ہے۔
چینی ریگولیٹر ادارے کے مطابق علی بابا نے دوسری کمپنیوں کو دیگر پلیٹ فارمز سے فروخت سے روک کر مسابقت کے اصولوں کی نفی کی ہے۔
یہ جرمانہ کمپنی کے خلاف اکتوبر سے جاری کارروائیوں میں سے تازہ ترین ایک اقدام ہے۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں اس کمپنی کے شریک بانی جیک ما نے چین کے سرکردہ ریگولیٹرز کو بتایا تھا کہ ان کے ایسے اقدامات جدت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
جیک ما چین میں جانی پہچانی اور کامیاب ترین شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ہانگ کانگ میں بوکام (BOCOM) انٹرنیشنل ریسرچ کے سربراہ ہانگ ہاؤ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ جرمانہ مارکیٹ میں اجاراداری کے خلاف خاتمے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
یہ اجاراداری کے خلاف ایک بہت بڑا اقدام ہے۔ مارکیٹ میں اس طرح کے جرمانے سے متعلق کسی حد تک پیش گوئی کی جا رہی تھی ... لیکن لوگوں کو اجارہ داری کے خلاف تحقیقات سے ہٹ کر بھی اقدامات کو دیکھنا چاہیے۔
ملک کی دیگر کمپنیاں بھی ریگولیٹرز کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ان کے بڑھتے اثرورسوخ سے پریشان بھی ہیں۔
گذشتہ ماہ ایسی 12 کمپنیوں پر اجارہ داری کے خلاف قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے گئے۔