جیک ما اور ایلون مسک کی بحث: مصنوعی ذہانت کے حوالے سے علی بابا اور ٹیسلا کے بانیوں کی رائے یکسر مختلف

جیک ما اور ایلان مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندونوں شخصیات کے درمیان ہونے والی 45 منٹ کی گفتگو میں نہ صرف انسانی اور مصنوعی ذہانت کا موازنہ کیا گیا بلکہ انسانوں اور دنیا کے مستقبل پر بھی بات کی گئی

ایشیا کی مشہور ای کامرس کمپنی علی بابا کے شریک چیئرمین جیک ما اور امریکہ کی نجی ٹیکنالوجی کمپنی سپیس ایکس کے مالک ایلون مسک کا تعلق نہ صرف دنیا کی دو بڑی مخالف قوّتوں - چین اور امریکہ - سے ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے یہ دو بڑے نام مصنوعی ذہانت پر بھی مختلف رائے رکھتے ہیں۔

گذشتہ روز جب یہ دونوں چین کے شہر شنگھائی میں مصنوعی ذہانت پر منعقد کی جانے والی ’ورلڈ اے آئی کانفرنس‘ میں آمنے سامنے آئے تو دنیا کی نظریں اس ملاقات پر جم گئیں۔

دونوں شخصیات کے درمیان ہونے والی 45 منٹ کی گفتگو میں نہ صرف انسانی اور مصنوعی ذہانت کا موازنہ کیا گیا بلکہ انسانوں اور دنیا کے مستقبل پر بھی بات کی گئی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سپیس ایکس کمپنی اور برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کا ماننا ہے کہ کمپیوٹر انسان سے زیادہ سمارٹ ہیں لیکن جیک ما ان کی اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ کمپیوٹرز انتہائی ہوشیار ہیں لیکن انسان کہیں زیادہ ذہین ہیں۔

انھوں نے اپنی اس بات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم (انسانوں) نے کمپیوٹر کو ایجاد کیا لیکن میں نے کبھی کسی کمپییوٹر کو انسان ایجاد کرتے نہیں دیکھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

جیک ما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیک کا ماننا ہے کہ ہم (انسانوں) نے کمپیوٹر کو ایجاد کیا لیکن میں نے کبھی کسی کمپییوٹر کو انسان ایجاد کرتے نہیں دیکھا

جیک ما کے مطابق مصنوعی ذہانت نئی ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں لوگوں کو ہفتے میں تین دن جبکہ ایک دن میں صرف چار گھنٹے کام کرنا چاہیے۔‘

’مصنوعی ذہانت کے دور میں لوگ 120 برس تک جی سکتے ہیں۔‘

تاہم ایلون مسک نے جیک ما کی اس بات سے بھی اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے نوکریاں ’بے معنی‘ ہو جائیں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ انسانی ذہن کو کمپیوٹر سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مصنوعی ذہانت کے ساتھ بہتر طریقے سے آگے بڑھ سکیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے اور ہم اس کے مقابلے میں سست روی سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن جیک ما کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت بلاشبہ شطرنج جیسی گیمز میں انسانوں کو شکست دے سکتی ہے لیکن پھر بھی کمپیوٹر ان ذہین مشینوں میں سے ایک ہے جن کو ہم وقت کے ساتھ ساتھ تیار کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’کمپیوٹر ایک کمپیوٹر ہے۔ کمپیوٹر صرف ایک کھلونا ہے۔ کمپیوٹرز میں صرف چپس ہیں جبکہ انسانوں کے پاس دل ہے۔ یہ دل ہی ہے جہاں سے دانشمندی آتی ہے۔‘

ایلون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایلون مسک کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے نوکریاں 'بے معنی' ہو جائیں گی

انھوں نے کہا ’خلا میں جانا زبردست ہے لیکن سمندر سے کوڑا نکالنے کے لیے وسائل کو بروئے کار لانا مریخ پر جانے سے زیادہ مشکل ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس زمین پر رہنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ: ’میں اس زمین پر کام کرنا چاہتا ہوں، میں اس دنیا کو بہتر بنانے میں مدد کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔‘

ٹیکنالوجی سے وابستہ ان دونوں شخصیات کا یہ ٹاکرا سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث رہا۔

ایک صارف نے مصنوعی ذہانت پر جیک ما اور ایلون مسک کی مختلف آرا پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’ایلان مسک اور جیک ما کا کمپیوٹرز اور انسانی ذہانت پر متفق نہ ہونا ہی شاید وہ وجہ ہے جس کے لیے ٹوئٹر کو بنایا گیا تھا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک اور صارف نے جیک ما اور ایلون مسک کی مخلتف رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ایلون حقیقیت پسند جبکہ جیک سمارٹ ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

جیک ما کی رائے کی تائید کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ وہ ان سے اتفاق کرتے ہیں کیونکہ ’اگر انسان نہیں تو کمپیوٹر بھی نہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

چین سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ جیک ما کا شمار دنیا کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ جیک ما نے سنہ 1999 میں اپنی کمپنی علی بابا کی بنیاد رکھی جس کا شمار آج دنیا کی اہم ترین کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

دوسری جانب 48 سالہ ایلون مسک کا تعلق امریکہ سے ہے۔ وہ امریکی نجی راکٹ کمپنی سپیس ایکس اور بڑقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے مالک ہیں۔