جیک ما کا اینٹ گروپ 34 ارب ڈالر کے شیئر سٹاک مارکیٹ میں لائے گا

Jack Ma at a conference in Hangzhou in 2019

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مالیاتی ٹیکنالوجی کی چینی کمپنی اینٹ گروپ آئندہ ہفتے ہانگ کانگ اور شنگائی کی سٹاک مارکیٹوں میں اپنے حصص متعارف کروانے لگی ہے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ تاریخ میں کسی کمپنی کی سٹاک مارکیٹ میں سب سے بڑی انٹری ہوگی۔

اینٹ گروپ کے پیچھے ارب پتی چینی کاروباری شخصیت جیک ما ہیں جو کہ ای کامرس پیلٹ فارم کے بانی ہیں۔ اینٹ گروپ تقریباً 34.4 ارب ڈالر کے شیئر مارکیٹ میں فروخت کرنے والا ہے۔

پیر کے روز کمپنی کے مشیروں نے شیئر کی قیمت سرمایہ کاروں کی جانب سے کافی دلچسپی کی اطلاعات کے بعد طے کی ہے۔

اس سے پہلے تاریخ میں سٹاک مارکیٹ میں سقب سے بڑی انٹری سعودی آرامکو کی تھی جو کہ 29.4 ارب ڈالر کی تھی۔

اینٹ ایک آن لائن پیٹمنٹ کا کاروبار ہے اور یہ اپنے صرف 11 فیصد شیئر مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔ پوری کمھنی کی قیمت تقریباً 313 ارب ڈالر بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جیک ما کے اینٹ میں شیئر تقریباً 17 ارب ڈالر کے ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ تقریباً 80 ارب ڈالر ہے اور وہ چین کے امیر ترین شخص ہیں۔

اینٹ چین میں آن لائن پیمنٹ کا سب سے بڑا نظام علی پے کی مالک ہے جہاں کیش، چیک اور کریڈٹ کارڈ کی بجائے ای پیمنٹ اور ایپس کے ذریعے پیسے منتقل کیے جاتے ہیں۔ علی پے کے تقریباً ایک ارب صارفین ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی آئندہ ہفتے شنگائی اور ہانک کانگ سٹاک مارکیٹ دونوں میں اپنے شیئر متعارف کروایے گی جو کہ ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ کی خطے میں بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے چینی کمپنیوں کے لیے امریکی سرمائے کی مارکیٹوں تک رسائی محدود کرنے کی دھمکی دی ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کافی عرصے سے جاری تجارتی جنگ کی ایک کڑی ہے۔ اس کے جواب میں چین نے اپنی بری بڑی کمپنیوں کو کہا ہے کہ وہ مقامی سٹاک مارکیٹوں پر توجہ دیں۔

چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں نیٹ ایز اور جے ڈی ڈاٹ کام پہلے ہی ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ سے ارب ڈالر جمع کر چکی ہیں۔

Chinese financial technology group Ant has unveiled plans for a stock market debut.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلومبرگ نیوز کے مھابق جیک ما نے سنیچر کو چین میں ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ سٹاک مارکیٹ میں اینٹ گروپ کی شمولیت شنگائی اور ہانک کانگ کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنی بڑی لسٹنگ، انسانی تاریخ کی سب سے بڑی لسٹنگ، نیویارک شہر سے باہر کی جا رہی ہے۔۔۔ ہم آج سے پانچ سال پہلے یا تین سال پہلے ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔‘

پانچ نومبر کو متوقع اس لسٹنگ میں جو بڑے سرمایہ کار سامنے آئے ہیں ان میں سنگاپور کے ریاستی فنڈ ٹیماسک ہولڈنگ، ابو ظہبی کا ریاستی فنڈ جی آئی سی اور ابو ظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لسٹنگ سے سرمایہ کار ایشیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے ٹیکنالوجی سیکٹر کا حصہ بن سکیں گے۔

ای وائی کنسلٹنگ کے سنگاپور میں تجزیہ کار ورن مٹل کا کہنا ہے کہ ’ڈیجیٹل کامرس پلیٹ فارم دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو یہ موقعہ دیتے ہیں کہ وہ آئندہ ویلیو کریئیشن کی ایشیائی لہر کا حصہ بن سکیں۔‘