شام کا تنازع: بم دھماکوں کا شکار بچوں کی مددگار گائیڈ

سعید
،تصویر کا کیپشنسعید صرف 18 ماہ کے تھے جب ایک بم ان کے گاڑی کے قریب گرا اور چھرّوں کے زخموں کی وجہ سے ان کی ٹانگیں کاٹی گئیں۔

بچوں پر بم دھماکوں کے تباہ کن جسمانی اور نفسیاتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ اب طبّی سٹاف کے لیے ایک نئی گائیڈ کا جنگ زدہ علاقوں میں بم دھماکوں سے زخمی ہونے والے بچوں کی جانیں اور اعضا بچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ڈیو ہینسن بی بی سی کے وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'جب تک کہ یہ ہو نہ جائے، تب تک آپ مکمل طور پر یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کس قدر دردناک ہوسکتا ہے۔'

وہ 2011 میں افغانستان میں دیسی بم کے دھماکے کے شکار ہوئے تھے اور انھیں وہ سب کچھ اچھی طرح یاد ہے۔

مزید پڑھیے

'بہت خوف پھیلا ہوا تھا۔ جب آپ زمین پر پڑے ہوں اور آپ کے جسم سے کافی سارا خون بہہ گیا ہو، تو جو ٹھنڈ جسم میں سرایت کر جاتی ہے وہ بہت ہی خوفناک ہوتی ہے۔ آپ ایسی کسی چیز کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکتے۔'

ہینسن برطانیہ کی فوج میں کپتان رہ چکے ہیں۔

وہ بچوں پر دھماکوں سے ہونے والے اثرات کو سمجھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، خاص طور پر ان بچوں پر جو یہ سمجھنے کے لیے بھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس لمحے میں بچے پر کیسا خوف طاری ہو جاتا ہو گا۔'

مصنوعی اعضاء
،تصویر کا کیپشنجن بچوں کو مصنوعی اعضاء لگائے جاتے ہیں انھیں درد سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر سال سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔

افغانستان اور شام جیسے ممالک میں بم حملوں کی وجہ سے انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا رہتا ہے۔

اب تک جنگ زدہ علاقوں میں کام کر رہے طبی عملے کو دی گئی زیادہ تر تربیت اور تکنیکوں کی توجہ بالغ افراد کے علاج پر رہی ہے جس کی وجہ سے وہ بچوں کو ان کی خصوصی ضروریات کے حساب سے توجہ فراہم نہیں کر پاتے۔

یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کے باوجود ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2011 میں شام کی خانہ جنگی کی شروعات سے اب تک بم دھماکوں سمیت تمام وجوہات سے 20 ہزار سے زیادہ بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔

شام کے صوبے ادلب میں بچ جانے والے چند ہی سرجنز میں سے ایک ڈاکٹر مرحف اس خطے میں رہنے کو 'افراتفری' سے بھرپور اور 'جہنم' جیسا قرار دیتے ہیں۔

یہ صدر بشار الاسد کے مخالفین کے قبضے میں موجود آخری صوبہ ہے اور اس وقت اس پر روسی اور شامی افواج کی بمباری اور مسلسل زمینی معرکے بھی جاری ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میری ایک چھوٹی بیٹی ہے اور جب بھی میں دوسرے بچوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس کا خیال آتا ہے۔ ہمیں بچوں کی سرجری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سیکھنا ہوگا۔'

سعید
،تصویر کا کیپشننارمل زندگی کی طرف بحالی کے لیے سعید کی ضروریات کسی بالغ شخص سے مختلف ہیں

ہو سکتا ہے کہ اب یہ مدد آنے ہی والی ہو۔ ڈاکٹر مرحف اور ان جیسے دیگر طبّی عملے کو اپنی مہارت میں بچوں کے حساب سے رد و بدل کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک تربیتی گائیڈ تیار کی گئی ہے۔

سرحد کے پار ترکی کے شہر ریحانلی میں ایک سپیشلسٹ سینٹر میں یہ گائیڈ پڑھائی جا رہی ہے جہاں شام کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے بموں، بارودی سرنگوں اور چھرّوں سے زخمی ہونے والے تقریباً سات ہزار افراد کا علاج کیا جا چکا ہے جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

ان میں سے ایک سات سالہ بچہ سعید ہے جس کا نام ہم نے تبدیل کر دیا ہے۔ وہ صرف 18 ماہ کے تھے جب ان کا خاندان ان سمیت ایک کار میں حلب میں ہونے والی فضائی بمباری سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

وہ اس وقت اپنی امی کی گود میں بیٹھے تھے جب ایک بم ان کی گاڑی کے اس قدر قریب گرا کہ چھرّوں نے ان کی گاڑی کو چھلنی کر دیا۔

ان کی دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑیں جبکہ ان کی بہن اس واقعے میں ہلاک ہو گئیں۔

سعید اب مصنوعی ٹانگیں پہنتے ہیں اور کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر مالک بتاتے ہیں کہ فی الوقت وہ اپنی ٹانگ کے لیے بنائے گئے نئے ساکٹ سے مطابقت کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھیں ہر سال یا ڈیڑھ سال کے بعد اپنی ٹانگوں کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوگی کیونکہ ہڈی بڑھتی رہے گی۔

ڈاکٹر مالک کے مطابق وہ ٹانگ کاٹے جانے کی جگہ سے کھول کر ہڈی کی لمبائی ٹھیک کریں گے اور پھر اسے دوبارہ سی دیں گے۔

ڈاکٹر ایمیلی میہیو
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ایمیلی میہیو کہتی ہیں کہ تجربہ کار طبّی عملہ بھی بم دھماکے میں زخمی بچوں کو دیکھ کر ’صدمے سے ڈھے جاتے ہیں۔’

یہ مسلسل آپریشن سعید کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہیں مگر بچوں کی ضروریات کے بارے میں ماہرانہ فہم کے بغیر یہ ایک ایسی چیز ہے جسے آسانی سے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

اس لیے جنگ زدہ علاقوں میں کام کر رہے ڈاکٹروں نے یہ ہدایت نامہ منگوایا اور اسی لیے وہ اسے ضروری سمجھتے ہیں۔

یہ گائیڈ 'سیو دی چلڈرن' نامی فلاحی تنظیم اور امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں بشمول ڈاکٹر ایمیلی میہیو نے تیار کی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ 'دھماکے میں زخمی ہونے والے بچے کو دیکھ کر بہت سے ایسے لوگ بھی صدمے سے ڈھے جاتے ہیں جو دھماکوں کے متاثرین کی جانیں بچانے اور ان کا علاج کرنے میں بے پناہ تجربہ رکھتے ہیں۔'

'تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ افراتفری، خوف اور پریشانی کے اس پہلے لمحے سے با آسانی گزر جائیں۔'

'میرا خاندان فخرمند ہے'

عبدل (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) صرف نو سال کے تھے جب شام میں ایک فضائی حملے میں ان کی ٹانگ ضائع ہوگئی تھی۔

انھیں صرف ایک بہت زوردار آواز یاد ہے اور یہ کہ تین سے چار منٹ تک 'انھیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔'

عبدل
،تصویر کا کیپشنعبدل زخمی ہونے کے کافی عرصے بعد تک باہر جانے ڈرتے تھے۔

جب انھوں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو انھوں نے اپنے گرد دیگر افراد کو دیکھا جنھوں نے اپنے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں گنوا دی تھیں۔ کئی دیگر افراد ہلاک ہوچکے تھے۔

ان کی ٹانگوں کو کاٹنا پڑا۔

اب وہ فخر کے ساتھ اپنی مصنوعی ٹانگیں باہر پہنتے ہیں مگر اس واقعے نے ایک طویل عرصے تک ان کی روح کو چھلنی اور انھیں باہر جانے سے خوف زدہ کیے رکھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'شروع میں تو میں اس صورتحال سے زیادہ بہتر انداز میں ہم آہنگ نہیں ہوا مگر اب میرا خاندان مجھ پر فخر کرتا ہے۔'

امید ہے کہ یہ گائیڈ عبدل جیسے بچوں کی نفسیاتی اور جسمانی بحالی اور نشونما میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس گائیڈ کے بنانے والے پہلے ہی اسے مستقبل میں دیگر جنگ زدہ علاقوں بشمول افغانستان میں متعارف کروانے کے لیے پرامید ہیں۔

ڈیو ہینسن

،تصویر کا ذریعہDave Henson

،تصویر کا کیپشنڈیو ہینسن کو دھماکے کے زخموں سے ہونے والا بے پناہ درد اب تک یاد ہے۔

ڈیو ہینسن، جو اس کے بعد سے پیرالمپکس (خصوصی افراد کے اولمپکس) میں حصہ لے چکے ہیں اور مصنوعی اعضا میں بہتری کے لیے تحقیق میں شامل ہیں، ان کے نزدیک ڈاکٹروں کے پاس جتنی زیادہ معلومات ہوں گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔

افغانستان میں تعینات رہنے کی وجہ سے ان کی فوجی تربیت نے انھیں بم دھماکے کا شکار ہوجانے تک کے امکان کے لیے تیار کر رکھا تھا مگر وہ کہتے ہیں کہ کسی بچے کے لیے دھماکے سے زخمی ہونا اس سے بھی زیادہ خوفناک ہوگا۔

'[ایک بچے کے طور پر] آپ کو بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ کیا ہوا ہے، آپ کو بالکل بھی پتا نہیں ہوتا کہ دھماکے سے زخمی ہونا کیا ہوتا ہے۔'

'اور پھی اچانک وہ خود کو خون میں لت پت اور اپنے جسم کے حصوں کو بے پناہ درد کے ساتھ غائب پاتے ہیں۔'

'ہم اپنے تجربے سے جانتے ہیں کہ آپ بحالی پروگرام سے گزر کر زخموں سے صحتیاب ہوسکتے ہیں مگر یہ اس کے ساتھ آنے والا ان دیکھی چیز کا ڈر ہوتا ہے جس کے بارے میں سوچنے سے بھی مجھے نفرت ہے۔'