ہاتھوں سے معذور نے خوشخطی کا مقابلہ جیت لیا

،تصویر کا ذریعہGreenbrier Christian Academy
امریکہ کی ریاست ورجینیا میں پیدائشی ہاتھوں سے معذور سات سالہ بچی نے قومی خوشخطی کا مقابلہ جیت لیا ہے۔
انایا ایلک نے مصنوعی ہاتھ نہیں لگوائے ہوئے۔ لکھنے کے لیے وہ کھڑی ہوتی ہیں اور پینسل اپنے بازوؤں میں پکڑتی ہیں۔
انایا گرینبیئر کرسچن اکیڈمی میں پڑھتی ہیں۔ سکول کی پرنسپل ٹریسی کوکس نے کہا کہ انایا ایک مثال ہیں۔
’جب وہ کسی کام کا ٹھان لیتی ہیں تو وہ اس کام میں ہر رکاوٹ کو عبور کر لیتی ہیں۔ وہ نہایت محنت کرنے والی ہیں اور ان کی لکھائی کلاس میں بہترین لکھائیوں میں سے ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق ایانا نے 50 طلبہ کو ہرا کر خصوصی ضروریات کے درجے میں انعام حاصل کیا ہے۔
اس زمرے میں ان طلبہ کو نوازا جاتا ہے جو ذہنی یا جسمانی اعتبار سے معذور ہوں۔

،تصویر کا ذریعہOther
اس مقابلے کی ڈائریکٹر کیتھلین ریھولڈ نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایانا کی ’خوشخطی کا مقابلہ ان طلبہ کی خوشخطی سے کیا جا سکتا ہے جن کے ہاتھ ہیں۔‘
اس مقابلے کے سپانسرز کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں حصہ لینے والے ہر طالب علم کو ایک ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپانسرز نے ایانا کی تصویر ٹوئٹ کی جس میں وہ ٹرافی کے ہمراہ ہیں۔
سکول کی پرنسپل جیسیکا کوکس جو ایک پائلٹ ہیں ان کے لیے بھی ہاتھوں سے محرومی کبھی ان کے عزائم میں رکاوٹ نہیں بنی۔
جیسیکا بھی پیدائشی طور پر ہاتھوں سے معذور تھیں لیکن اس کے باوجود وہ گاڑی چلا لیتی ہیں، جہاز اڑا لیتی ہیں اور پیانو بجا لیتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ وہ اپنے پیروں سے کرتی ہیں۔







