'افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ ریاستوں کے مابین غیر اعلانیہ جنگ ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ 'دہشت گردی ہمارے عہد کا واضح چیلنج ہے۔ اس چیلنج پر فتح پانے کے لیے ایک پوری نسل کی جانب سے عزم و ہمت درکار ہے۔'
اتور کو جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کے اُمور پر ہونے والی اہم کانفرنس میں افغان صدر نے خطاب کیا اور اپنے خطاب کے اہم نکات پر مشتمل ٹویٹس کیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں 'آرڈر' (یعنی نظم و ضبط) کو نئے سرے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سود مند، پریشان کن یا تباہ کن بناتے ہیں۔'
انھوں نے پاکستان اور افغانستان سرحد پر حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا اور جب تک یہ تفریق اور تقسیم رہے گي ہم ہارتے رہیں گے۔'
اشرف غنی نے کہا کہ 'افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں۔ یہ منشیات کی جنگ ہے یہ دہشت گردوں کی جنگ ہے اور یہ ریاستوں کے مابین غیر اعلانیہ جنگ ہے۔'
انھوں نے امید ظاہر کی کہ 'ہم دشت گردی کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، ہوں گے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آنے والی نسل کی زندگی اور خوشحالی اس پر منحصر ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے بھی اتوار کو کانفرنس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جواد ظریف نے کہا ان کا ملک کسی کی دھمکی میں آنے والا نہیں۔
'ہم زور زبردستی کا اچھا جواب نہیں دیتے۔ ہمیں پابندیاں اچھی نہیں لگتیں لیکن ہم باہمی عزت پر اچھا سلوک کرتے ہیں اور ہم باہمی انتظامات اور قابل قبول صورت حال میں بہت اچھی طرح پیش آتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس نے میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کا نیٹو کے ساتھ تعاون 'اٹل' رہے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خارجہ پالیسی کے بارے میں پہلے جامع بیان میں پینس نے کہا کہ امریکہ 'آج اور ہر دن یورپ کے ساتھ کھڑا رہے گا۔'
تاہم انھوں نے یورپی ملکوں کو بتایا کہ وہ مشترکہ دفاع کا پورا خرچ برداشت نہیں کر رہے۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر نے افغان صدر سے سائڈ لائنز پر ملاقات کے دوران افغانستان کی سالمیت کے لیے امریکی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔








