’تین دن گزر گئے، ابھی تک کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: کیا ایران میں تیل کے کنویں واقعی بند ہونے کے قریب ہیں؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں اپریل کے آخر میں ایران کی تیل برآمدات گھٹ کر تقریباً 5 لاکھ 67 ہزار بیرل رہ گئی ہیں
    • مصنف, پرنیان صادقی
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران میں تیل کی پیداوار کا عمل معطل ہونے کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔

امریکی صدر اور وزیرِ خزانہ کی جانب سے چند دن قبل کیے جانے والے دعووں پر بات کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ: 'تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا۔'

ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ 'ہم اس مدت کو مزید 30 دن بڑھا کر کنویں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کر سکتے ہیں۔'

خیال رہے کہ 26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اقدامات اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب تیل کی ترسیل کے لیے 'کوئی جہاز باقی نہیں رہا' اور اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کی تیل پائپ لائنیں 'پھٹ سکتی ہیں۔'

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں۔

یہی دعویٰ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے 28 اپریل کو دہرایا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور 'جلد ہی کنویں سے تیل نکالنے کا عمل رُک جائے گا۔'

امریکی وزیر خزانہ کے مطابق جب یہ عمل مکمل ہو جائے گا تو اِس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ امریکہ گذشتہ کئی ہفتوں سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ اس ناکہ بندی اور دیگر پابندیوں جیسا کہ ایرانی تیل ٹینکرز کی ضبطی کے ذریعے، ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بظاہر ان کوششوں کا مقصد ایران اپنی مرضی کے امن معاہدے پر مجبور کیے جانا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ امریکی ناکہ بندی کے مکمل مالی اثرات ظاہر ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے مزاحمتی مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور دنیا میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے باقر قالیباف نے پیش گوئی کی کہ یہ قیمت بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔

ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا: 'یہ اس قسم کا بے کار مشورہ تھا جو امریکی انتظامیہ کو (وزیر خزانہ) بیسنٹ جیسے لوگوں سے ملتا ہے۔ یہ ناکہ بندی کے نظریے پر اصرار کرتے کرتے تیل کی قیمتوں کو 120 ڈالر فی بیرل تک لے گئے ہیں۔ اگلا پڑاؤ 140۔'

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور بڑھتے ہوئے عالمی معاشی دباؤ کے باوجود یہ واضح نہیں کہ تہران اور واشنگٹن کسی امن معاہدے تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔

امریکہ نے تاحال ایران کی اس نئی تجویز پر کوئی ردِعمل نہیں دیا، جس کے تحت امریکہ اگر یہ ناکہ بندی ختم کر دے تو ایران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کرے گا۔

ایران کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز تحت ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت دوسرے مرحلے میں کی جائے گی، تاہم اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ اس تجویز پر ’خوش نہیں ہیں۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہCENTCOM

،تصویر کا کیپشنامریکہ گذشتہ کئی ہفتوں سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک ایرانی تیل ترسیل کرنے والے درجنوں جہازوں کو اپنا رُخ بدلنا پڑا ہے

ناکہ بندی ایرانی تیل کی ترسیل کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟

تحقیقی ادارے کیپلرکے مطابق، امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایران کی یومیہ تیل برآمدات شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

کیپلر کے مطابق مارچ کے مہینے میں ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات تقریباً 18 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں جو امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں اپریل کے آخر میں گھٹ کر تقریباً 5 لاکھ 67 ہزار بیرل رہ گئی ہیں۔

اس صورتحال کے باعث ایران نے اپنے تیل کے کنوؤں کو فعال رکھنے کے لیے تیل کو زمینی ذخائر میں منتقل کرنا اور سمندری ذخائر میں لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایران کے پاس تقریباً نو کروڑ بیرل تیل کو زمین پر موجود ذخائر میں سٹور کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ اس کے کنٹرول میں 19 ’ویری لارج کروڈ کیریئرز‘ (تیل ذخیرہ کرنے والے بحری جہاز) ہیں، جن میں سے ہر ایک جہاز 20 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کر سکتا ہے۔

یہ 19 جہاز سمندر میں تیرتے ہوئے تیل کے ذخائر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

24 اپریل کو بلومبرگ نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران موجودہ سطح پر مزید دو ماہ تک تیل کی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے۔ تاہم کیپلر کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف مزید 12 سے 22 دن تک کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

کیپلر کے اندازے کے مطابق اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ایران کو مئی کے وسط تک خام تیل کی پیداوار 27 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ سے کم کر کے 12 سے 13 لاکھ بیرل یومیہ کرنی پڑ سکتی ہے۔

ناکہ بندی کے اثرات کو کیا چیز کم کر سکتی ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے ایران پر مالی اثرات سامنے آنے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں

25 اپریل کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ اس نے ’ایرانی بندرگاہوں میں داخل اور وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کے خلاف ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ کر دی ہے‘ اور اب تک 37 جہازوں کا رُخ موڑا جا چکا ہے۔

29 اپریل (آج) سینٹ کام کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی عائد کیے جانے سے قبل، ایک نارمل دن میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں اوسطاً پانچ تیل بردار جہاز لنگر انداز یا کھڑے ہوتے تھے۔ تاہم اب صورتِحال یہ ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے دوران، جب امریکی افواج ایران میں داخل ہونے والے اور ایران سے باہر جانے والے جہازوں کو کامیابی سے روکے ہوئے ہے، تو چاہ بہار میں 20 سے زائد بحری جہاز موجود ہیں۔‘ یعنی یہ جہاز ناکہ بندی کے باعث ایرانی بندرگاہ چھوڑ نہیں پا رہے۔

تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناکہ بندی ایرانی تیل کو مکمل طور پر خلیج سے نکلنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔

20 اپریل کو لائیڈز لسٹ انٹیلیجنس نے نے رپورٹ کیا کہ ایران سے منسلک کم از کم 26 جہاز تیل اور گیس لے کر امریکی ناکہ بندی کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان جہازوں کا تعلق ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ سے ہے۔

شیڈو فلیٹ آئل ٹینکرز اور شیل کمپنیوں کا ایک جال ہے، جس کے ذریعے ایران عالمی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دنیا کو اپنا تیل برآمد کرتا ہے۔

26 اپریل کو ٹینکر ٹریکر نامی کمپنی نے بتایا کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل ناکہ بندی کی لکیر عبور کر چکا ہے یعنی ترسیل کیا جا چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ناکہ بندی مکمل طور پر مؤثر بھی ہو جائے، تب بھی تہران پر اس کے مالی اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگے گا۔

کیپلر کے مطابق ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے خام تیل کو چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، پہنچنے میں تقریباً دو ماہ لگتے ہیں، اور اس کے بعد چینی خریداروں کو ادائیگی کرنے میں مزید دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس طرح ایران کو ایک حد تک مالی سہارا حاصل ہے، کیونکہ ناکہ بندی سے قبل بھیجے گئے ٹینکروں کی ادائیگیاں اب بھی موصول ہو رہی ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہCentcom

ایرانی حکام کیا مؤقف اختیار کر رہے ہیں؟

ایران کے ایک رکنِ پارلیمان نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل پائپ لائنوں میں رکاوٹ آ کر دھماکے ہو سکتے ہیں۔

28 اپریل کو ارنا نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے رُکن عبدالحسین ہمتّی نے کہا کہ وہ ایسے کسی امکان پر یقین نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے بیانات زیادہ تر سیاسی دباؤ ڈالنے اور رعایتیں حاصل کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں، تاکہ ہمارے حکام کو نفسیاتی جنگ کے ذریعے مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔ بعض اوقات یہ بیانات خود امریکی حکام کے خلاف کام کرتے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور ان کی اپنی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔‘

ہمتّی نے زور دیا کہ ایران کو اس وقت تیل کی جاری پیداوار کے حوالے سے کوئی ’خاص مسئلہ‘ درپیش نہیں ہے۔ اُن کے مطابق ایران اپنی پیداوار کا ایک بڑا حصہ اندرونِ ملک استعمال کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری تیل کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ ملکی استعمال اور مقامی ریفائنریوں کے لیے مختص ہے، اسی لیے داخلی ضروریات کے باعث ہمارے کنویں بند نہیں ہوں گے۔‘

تیل برآمدات کے حوالے سے ہمتّی کا کہنا تھا کہ ایران اپنا تیل ’کچھ عرصے تک بغیر کسی مسئلے کے ذخیرہ' کر سکتا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو اس مرحلے تک دھکیلا گیا جہاں اس کے کنوؤں کو ’شدید نقصان‘ کا خطرہ ہوا، تو وہ 'اپنے پاس موجود فیصلہ کُن کارڈز استعمال کرے گا اور پورے خطے سے کسی کو بھی تیل کی برآمد کی اجازت نہیں دے گا۔‘

ان کے مطابق ایسا کرنے سے دباؤ میں اضافہ ہو گا، تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور عالمی معیشت پر ’سنگین اثرات‘ مرتب ہوں گے۔ ہمتّی نے مزید کہا کہ ’امریکا جانتا ہے‘ کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالی گئی تو خطے اور اس کے اتحادیوں کو کہیں زیادہ نقصان اور خسارہ اٹھانا پڑے گا۔

ایرانی حکام، جن میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں (جنھوں نے مذاکرات کے پہلے دور میں تہران کی قیادت کی) پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ علاقائی انفراسٹرکچر اور ترسیلی راستوں کو نشانہ بنا کر تیل اور توانائی کی منڈیوں میں مزید خلفشار پیدا کر سکتے ہیں۔

ہمتّی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تیل کی بلند عالمی قیمتوں کے باعث ایران کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اُن کے مطابق ایران کا سالانہ بجٹ تقریباً 55 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت کی بنیاد پر بنایا گیا تھا، جبکہ اس وقت تیل 100 ڈالر فی بیرل سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے۔

26 اپریل کو ایران کی انرجی کمیٹی کے ایک اور رُکن، مالک شریعتی نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی موجودہ قیمتوں کے باعث ایران کی تیل آمدنی ’کم از کم دوگنا‘ ہو چکی ہے، جبکہ پیداوار کی مقدار متاثر نہیں ہوئی۔

اُسی روز سخت گیر رکنِ پارلیمنٹ امیرحسین قاضی زادہ ہاشمی نے کہا کہ ایران زیادہ قیمت پر تیل فروخت کر رہا ہے اور تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر اپنی برآمدات جاری رکھے ہوئے ہے۔