پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں
بدھ کی شب نامعلوم سمت سے فائر کیے جانے والے راکٹ کے حملے میں پولیس حکام کے
مطابق تین افراد زخمی ہوگئے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں اس راکٹ حملے کے بعد زوردار
دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جن سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر
یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پولیس اور متعلقہ ادارے دھماکوں کی جگہ کا تعین کر رہے ہیں اور
صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
راکٹ
شہر کے کن علاقوں میں گرے اور عینی شاہدین نے کیا بتایا؟
ایس
ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ نامعلوم سمت چار راکٹ فائر کیے گئے جن میں
تین افراد زخمی ہوگئے۔
زخمیوں
کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ان
میں سے تین راکٹ اختر محمد روڈ، میر احمد خان روڈ اور عثمانیہ گلی میں آکر گرے۔
ایک عینی شاہد ملک سہیل خان نے بتایا کہ ان میں سے ایک
راکٹ ان کے گھر کے قریب عثمانیہ گلی میں ایک گھر کی چھت پر آکر گرا۔
انھوں نے بتایا کہ راکٹ کے پھٹنے کی وجہ سے زور دار
دھماکے سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ان
کا کہنا تھا کہ گھر کی چھت پر راکٹ کے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس
علاقے کے ایک اور رہائشی مصعب خان کاسی نے بتایا کہ جب راکٹ گرنے سے زوردار دھماکہ
ہوا تو وہ عثمانیہ گلی کے مسجد میں عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔
ایک راکٹ اختر محمد روڈ پر شانتی نگر میں ایک گھر کی
چھت پر آکر گرا۔
ملک سہیل خان نے بتایا شانتی نگر میں گھر کی چھت کو
اچھا خاصا نقصان پہنچا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک راکٹ میر احمد خان روڈ
پر آکر گرا۔ یہاں گرنے والے راکٹ سے ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچنے سے بعض علاقوں
میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
’شہر میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں‘
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر
یوسفزئی کا کہنا ہے کوئٹہ شہر میں حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ ایک بیان میں انھوں
نے عوام سے اپیل کہ وہ مطمئن رہیں۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ
کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا
جا رہا ہے۔