فرانس : ہیلی کاپٹر پر جیل سے فرار ہونے والا گینگسٹر رضوان فاید گرفتار

فاید

،تصویر کا ذریعہIBO/SIPA/REX/SHUTTERSTOCK

،تصویر کا کیپشنفاید کہتے ہیں کہ وہ جیل سے بھاگنے کے طریقے ہالی وڈ فلموں سے سیکھتے ہیں

فرانس میں پولیس نے جولائی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے جیل سے فرار ہونے والے ایک بدنامِ زمانہ گینگسٹر رضوان فاید کو گرفتار کر لیا ہے۔

فرانس کے سب سے مطلوب مجرم رضوان فاید یکم جولائی کو فلمی انداز میں جیل سے فرار ہو گئے تھے۔ یہ دوسری مرتبہ تھا جب رضوان فاید جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

46 سالہ رضوان فاید تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی زندگی ہالی وڈ کی فلموں سے متاثر ہے اور انھیں ال پچینو کی فلم 'سکار فیس' بہت پسند ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رضوان فاید کو پہلی بار ڈکیتی کے الزام میں 1998 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فرار سے قبل وہ چوری کی ایک واردات کے دوران ایک خاتون پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے کے جرم میں 25 برس قید کی سزا بھگت رہے تھے۔

پولیس نے ان تمام افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے جولائی میں رضوان فاید کو فرار ہونے میں مدد کی تھی۔

رضوان فاید کیسے فرار ہوئے؟

جولائی میں رضوان فاید کو فرار کرانے کے لیے ان کے دو بندوق بردار ساتھیوں نے دھواں پیدا کرنے والے بم پھینک کر جیل میں مہمانوں کے علاقے کو دھویں سے بھر دیا جہاں فاید اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

ایک اور ساتھی باہر ہیلی کاپٹر لیے منتظر تھا، جس نے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

رضوان فاید کون ہے؟

رضوان فرانس کے خے نامی ایک غریب علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور وہیں پرورش پائی۔ 90 کی دہائی میں وہ مجرموں کے گروہوں کا حصہ بن گئے اور ڈکیتی اور بھتہ خوری میں ملوث ہو گئے۔

رضوان فاید خود تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے جیلوں سے فرار ہونے کے لیے جو طریقے اپنائے وہ انھوں نے ہالی وڈ سے سیکھے ہیں۔

رضوان فاید نے 2009 میں اپنی زندگی پر ایک کتاب بھی لکھی اور اعلان کیا کہ وہ اب جرائم کی دنیا کو چھوڑ رہے ہیں لیکن ایک سال بعد ڈکیتی کی ایک اور واردات کے دوران گرفتار ہو گئے۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار بھی ماری گئی اور انھیں 25 سال قید ہو گئی۔

ہیلی کاپٹر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفرار میں استعمال ہونے والا ہیلی کاپٹر

بالی وڈ سے متاثر

رضوان فاید کو ہدایت کار مائیکل مین کی فلمیں بھی بہت پسند ہیں جن میں 1995 کی فلم 'ہِیٹ' شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک فلمی میلے کے دوران مائیکل مین سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ’ تم میرے تکنیکی مشیر ہو۔‘

فرانسیسی پولیس نے انھیں 'مصنف' کا خطاب دے رکھا ہے۔