منشیات فروش گروہ کا جیل پر حملہ ’33 قیدی ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAFP
برازیل کی ایک جیل میں ہنگامہ آرائی میں 56 افراد کی ہلاکت کے محض چند دن بعد شمالی علاقے میں ایک اور جیل میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں کم سے کم 33 افراد مارے گئے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی محکمۂ انصاف کے سربراہ اُزیل کاسترو کا کہنا تھا کہ رورایمہ کے صوبے کی ایک جیل میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی ذمہ داری منشیات فروشوں کے ایک گروہ پر عائد ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد مونٹی کرسٹو کی جیل سے کچھ ایسی لاشیں بھی ملیں ہیں جن کے سر قلم کیے ہوئے تھے، تاہم اب صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا ہے۔۔
مقامی سرکاری حکام نے ذرائع ابلاغ کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صبح سویرے قیدیوں کا ایک گروہ اپنے اپنے سیلوں پر لگے تالے توڑ کر باہر نکل آیا اور پھر جیل کی ایک دوسری عمارت میں داخل ہو گیا جو قریبی شہر بووا وِسٹا میں واقع ہے۔
مسٹر کاسترو کا کہنا تھا کہ بووا وِسٹا کے شہر میں جیل پر دھاوا بولنے والے قیدیوں کا تعلق ’پی سی سی‘ نامی گینگ سے ہے۔
سنہ 2012 میں ایک سرکاری رپورٹ میں اس گینگ کو برازیل میں منشیات کا دھندا کرنے والا سب سے بڑا گروپ قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ منشیات کی فروخت سے سالانہ تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم کماتا ہے حالانکہ اس گروہ کے 13 ہزار میں سے تقریباً نصف ارکان ساؤ پاؤلو کی ایک جیل میں قید ہیں۔ اس گینگ کا آغاز بھی اسی جیل سے ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکام کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ جمعے کو جیل میں ہونے والی قتل وغارت کا تعلق گذشتہ اتوار کے واقعے سے ہے یا نہیں جس میں ’پی سی سی‘ گینگ اور اس کے مخالف شمالی برازیل کے ایک دوسرے منشیات فروش گروہ ’ایف ڈی این‘ کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو دونوں گروہوں کے درمیان جیل میں جو لڑائی ہوئی تھی وہ کئی برسوں میں برازیل کی کسی بھی جیل میں منشیات فروش گروہوں کے درمیان سب سے بڑی لڑائی تھی جو گیارہ گھنٹے جاری رہی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں جو 87 قیدی جیل توڑ کر فرار ہوئے تھے ان میں سے 40 کو دوبارہ پکڑ لیا گیا ہے۔








