بھارت: تہاڑ جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہونے والا قیدی گرفتار

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہونے والے دوسرے قیدی کو پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
اتوار کو جیل سے دو قیدیوں نے سرنگ کھود کر بھاگنے کی کوشش کی تھی جن میں سے ایک قیدی کو پولیس نے اسی روز گرفتار کر لیا تھا۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ فرار ہونے والے دوسرے قیدی کو پولیس نے ہمسایہ ریاست اترپردیش سے منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ تہاڑ جیل کا شمار ایشیا کی سب سے بڑی جیلوں میں ہوتا ہے جہاں 13 ہزار پانچ سو قیدی ہیں جن میں عسکریت پسند اور گینگسٹرز بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور تہاڑ جیل کے ترجمان ملسیہ پرتاب کا کہنا ہے کہ ’دوسرے شخص کو دہلی پولیس اور جیل حکام کی مشترکہ ٹیم نے دوبارہ گرفتار کیا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ قیدی سرنگ کھود کر تہاڑ جیل سے فرار ہوئے۔
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا ہے۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق فیضان اور جاوید نامی قیدیوں نے فلمی انداز میں جیل سے فرار کی مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔ اخبار کے مطابق قیدیوں نے جیل کی اندرونی دیوار کو پہلے پھلانگا اور پھر بیرونی دیوار کے نیچے سرنگ کھود کر نکاسی آب کے راستے رینگتے ہوئے فرار ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق اس دوران چھلانگ لگانے سے فیضان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور اتوار کو انھیں نالے میں گرا پایا گیا۔
واضح رہے کہ تقریباً 6 ہزار کی گنجائش والی اس جیل میں 13 ہزار سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔







