منقسم تارکین وطن 'ظالمانہ اور غیر قانونی‘ اقدام، 17 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

امریکہ کی17 ریاستوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر تارکین وطن کو 'ظالمانہ اور غیر قانونی' طور پر منقسم کرنے کا ملزم ٹھہراتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے۔
اس کے متعلق واشنگٹن، نیویارک اور کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز نے قانونی چارہ جوئی کی ابتدا کی۔
اس کے تحت پناہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ آنے والوں کو داخلہ دینے سے انکار کرنے والی پالیسی کی مخالفت کی گئی ہے۔
دریں اثنا نائب امریکی صدر مائک پینس نے بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر 'اپنے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔'
برازیل میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران مائک پینس نے کہا جو امریکہ کا سفر کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے 'میرے دل کا سیدھا پیغام ہے کہ اگر آپ قانونی طور پر نہیں آتے تو مت ہی آئیے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا: 'امریکہ آنے کی کوشش میں اپنی اور اپنے بچوں کی جان کو ان راستوں پر ڈال کر خطرے میں نہ ڈالیں جسے سمگلرز اور انسانی سمگلرز چلاتے ہیں۔'

منگل کو ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹیل میں داخل کی جانے والی قانونی درخواست میں صدر ٹرمپ کے 20 جون کے حکم نامے کو 'پرفریب' کہا گیا ہے جس میں تارکین وطن کے خاندانوں کے ایک ساتھ رکھنے کا حکم ہے۔
پہلی بار 17 امریکی ریاستوں کی جانب سے تارکین وطن کے خاندانوں کو علیحدہ کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ رپبلکن صدر کے ايگزیکٹو حکم نامے سے تارکین وطن کے خاندانوں کو ضابطے کی کارروائی اور پناہ حاصل کرنے کے حق کی نفی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ ہفتے ایگزیکٹو حکم نامہ جاری کرنے سے قبل صدر ٹرمپ نے تارکین وطن کو تیزی کے ساتھ واپس بھیجنے کی بات کہی تھی۔
امریکی ریاستیں عدالت کی جانب سے خاندانوں کو پھر سے ملانے کا حکم حاصل کرنا اور علیحدہ کرنے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دے کر ان کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCisary Banz Reynaud-Villeda
منگل کے مقدمے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم میں خاندانوں کو علیحدہ کرنے کے عمل کو روکنے کا حکم نہیں ہے اور نہ ہی اس میں پہلے سے علیحدہ کر دیے جانے والے خاندانوں کو پھر سے ملانے کی بات ہی شامل ہے۔
اس پالیسی کو ریاستی مفادات کی 'برملا توہین' کہا گیا ہے جس میں بچوں کی معیاری نگہداشت اور والدین اور بچوں کے رشتوں کو قائم رکھنے کی نفی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس میں کہا گیا ہے کہ پالیسی اور اس کے نفاذ کے متعلق سلوک نے ریاستوں اور اس کے باشندوں کو شدید اور فوری نقصان پہنچایا ہے۔
خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق نیو جرسی کے اٹارنی جنرل گربیر گریوال نے ایک بیان میں کہا کہ'خاندانوں کو جدا کرنے کا عمل ظالمانہ، صاف اور آسان ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ ہر دن نئی اور باہم متضاد پالیسی جاری کر رہی ہے اور نئی پالیسی پر متضاد جواز کے تحت بھروسہ کرتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل لوگوں کی زندگی توازن میں ہوتی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیویارک کی اٹارنی جنرل باربرا انڈروڈ کی ایک پریس ریلیز میں بچوں کے ڈپریشن، تشویش، اور خودکشی کے رجحان کے علاج کا ذکر ہے۔
انھوں نے کہا: 'بچوں کے ان کے والدین سے سینکڑوں میل دور علاج سے ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی ان بچوں کو ناقابل بیان صدمہ پہنچایا ہے اور اس کے ساتھ ہی نیویارک میں بچوں کی صحت، حفاظت اور خوشحالی کے تحفظ کے اصولوں کو پامال کیا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
منگل کو امریکی میڈیا کے ساتھ باپ چیت میں امریکی محکمۂ صحت کے پناہ گزینوں کی باز آبادکاری کے دفتر او آر آر نے تصدیق کی ہے کہ ابھی بھی 2047 بچے ان کی نگرانی میں ہیں۔









