امریکہ:’غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچے حراستی مراکز میں والدین کے ساتھ رہیں گے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طور آنے والے خاندانوں کو علیحدہ نہیں کیا جائے گا بلکہ بچوں کو والدین کے ساتھ ’حراستی مراکز‘ میں رکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ان بچوں کی تصاویر دیکھ کر کیا ہے جن کے والدین کو امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
تاہم امریکی صدر کے اس فیصلے کا اطلاق اُن خاندانوں پر نہیں ہو گا جو پہلے سے منقسم ہو کر رہ رہے ہیں۔
اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے
امریکی امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ماہ کے دوران دو ہزار 342 بچوں کو اُن کے والدین سے جدا کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ میں اور عالمی سطح پر غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کو اُن کے بچوں سے علیحدہ کیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ خاندانوں کو اکٹھا رکھنے کے بارے میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے خاندانوں کو علیحدہ ہوتا ہوا دیکھنا اچھا نہیں لگتا‘ لیکن انھوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے امریکہ آنے والوں کے لیے ’عدم برداشت‘ کی پالیسی جاری رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل امریکی قانون دانوں سے استدعا تھی کی کہ اس بل کو منظور کریں جس کے تحت خاندانوں کو علیحدہ کرنا ختم کیا جا سکے۔
صدارتی حکم نامے کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے خاندانوں کو اکٹھا قید میں رکھا جائے گا۔ تاہم ایسے کیسز جہاں بچے کی فلاح خطرے میں ہو وہاں بچے کو علیحدہ کیا جائے گا۔ اس آرڈر میں یہ نہیں کہا گیا کہ کتنے عرصے کے لیے بچے کو جدا کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں امریکی سرحد پر تقریباً 2000 مہاجر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے میکسکو سے امریکہ آنے والے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں والدین کو قید کر کے ان کی تحویل سے ان کے بچوں کو لیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر امریکہ میں سخت سیاسی نقطہ چینی جاری ہے۔ انٹرنیٹ پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو پنجروں میں رکھا جا رہا ہے۔
جمعرات کو امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس 'زیرو ٹالرنس' کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے انجیل کا حوالہ دیا تھا۔
ٹرمپ انتظانیہ کا یہ کریک ڈاؤن امریکہ کی طویل المدتی پالیسی میں تبدیلی ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے آنے والوں کو مجرمانہ سزاؤں کا سامنا ہے جو پہلے صرف ایک چھوٹا سا جرم تصور کیا جاتا تھا۔










