ٹرمپ کی پالیسی: جب امریکی نیوز کاسٹر خبریں پڑھتے ہوئے رو پڑیں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
امریکہ میں بدھ بیس جون کی ’ٹوئٹر مومنٹ‘ میں دو واقعات سر فہرست ہیں۔
ایک طرف نشریاتی ادارے (ایم ایس این بی سی) کی نیوز کاسٹر ریچل میڈو کی خبریں پڑھتے ہوئے بے اختیار رو پڑنے کی تصویر ہے اور ساتھ ہی وہ خبر جس میں وہ اس پر معافی مانگ رہی ہیں۔
ریچل میڈو ٹی وی نشریات میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی وہ خبر پڑھتے ہوئے رونے لگیں جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح امریکہ میں غیر قانونی طور پر آنے والے خاندانوں کے پانچ سے بھی کم عمر بچوں کو والدین سے الگ کر کے خصوصی مراکز میں رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس ’ٹوئٹر مومنٹ‘ کے مقابلے میں ایک اور واقعے کا ذکر تھا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سابق کیمپین مینیجر نے اپنے خاندان سے الگ کیے گئے ایک دس سالہ ذہنی مریض بچے کی کہانی سنتے ہوئے مذاق اڑانے کے انداز میں ’وومپ وومپ‘ کہہ دیا جس کے بعد ٹوئٹر پر ان کے خلاف شدید تنقید شروع ہو گئی۔
ان دو ’ٹوئٹر مومنٹ‘ کے علاوہ امریکہ میں ریچل میڈو اور ’ٹینڈر ایج‘ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی کرتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ کے غیر قانونی تارکین سے نمٹنے کی پالیسی کے تحت بچوں کو اپنے والدین سے الگ کر کے جن مراکز میں رکھا جا رہے ہے انہیں ’ٹینڈر ایج‘ کیمپ بھی کہا جا رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ریچل میڈو نے ایم ایس این بی سی کے ایک اور رپورٹر جیکب سوبوروف کے چند گھنٹے پہلے کے ایک پیغام کو ری ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے امریکی محکمہ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’چلڈرن ایلین پروگرام ‘ میں گیارہ ہزار سات سو چھیاسی بچے ہیں جن میں تین ہزار دو سو اسی لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں ان بچیوں یا چھوٹے بچوں تک رسائی نہیں دی گئی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
جیکب نے نشریاتی ادارے ’دی ٹیکساس آبزرور‘ کی ایک خبر بھی ری ٹویٹ کی جس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ’ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم یہاں پہنچے کیسے؟ کیسے سنہ دو ہزار اٹھارہ میں امریکی قیادت اور امریکی شہریوں کی قابل ذکر تعداد کو یہ خیال ٹھیک لگا کہ پناہ گزینوں کو قید کر کے ان کے بچوں کو ان سے الگ کر کے فوجی اڈوں پر بنے مراکز میں بھیج دینا چاہیے‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
ٹیکساس سے بیٹی او رورک نے بظاہر والدین سے الگ کیے گئے ایک ایسے ہی بچے کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ وہ اپنے سات سالہ بچے کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عمر کے بچوں کو ’حراستی مراکز‘ میں کیوں رکھا جا رہا۔ ’وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ ان کا کیا قصور ہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
انہی خبروں کے ساتھ ٹوئٹر پر سٹیو سمتھ کے نام سے ایک اور ٹرینڈ نمودار ہوا۔ سٹیو سمتھ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور اب صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے انہوں نے اس پارٹی کو چھوڑ دیا ہے۔
سٹیو سمتھ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی سے اپنی 29 سالہ پرانی رفاقت ختم کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بچوں کو والدین سے الگ کرنے کی پالیسی کے خلاف 30 جون امریکہ بھر میں احتجاج کے پیغامات بھی بار بار ٹویٹ کیے جا رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7







