بچوں کو والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے: میلانیا ٹرمپ

میلانیا ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیلانیا ٹرمپ نے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز پر ساتھ مل کر مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں امریکی خاتونِ اول نے کہا کہ ’انھیں بچوں کو اُن کے والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے۔

ادھر سابق خاتونِ اول لارا بش نے بھی میکسیکو کی سرحد سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے خاندانوں کو جدا کرنے کی متنازعہ پالیسی کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

واشنگٹن پوسٹ اخبار میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں انھوں نے لکھا کہ بچوں کو اُن کے والدین سے جدا کرنا ظلم ہے اور یہ اقدام غیر اخلاقی اور دل سوز ہے۔

سابق خاتونِ اول کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تارکینِ وطن کی پالیسی میں ’زیرو برادشت‘ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

امریکہ میں حالیہ چھ ہفتوں کے دوران تقریباً دو ہزار خاندانوں کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا گيا ہے۔

جو بالغ سرحد عبور کرتے ہیں انھیں حراست میں لے کر ان کے خلاف غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے حالانکہ ان میں بہت سے پناہ حاصل کرنے کی غرض سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔

Laura Bush and Melania Trump

،تصویر کا ذریعہReuters/Getty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی سابق اور موجود خواتینِ اول نے بچوں کو خاندانوں سے جدا کرنے کی پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی ہے

اس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے حراستی مراکز میں اپنے والدین سے علیحدہ کر کے رکھے جا رہے ہیں۔ اس نئی پالیسی کو انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ایسا آج تک کبھی نہیں کیا گيا ہے۔

صدر ٹرپ کے اٹارنی جنرل نے جو پالیسی متعارف کروائی ہے اسے روکنے کے لیے کانگریس کی ضرورت نہیں ہے

امریکہ کی موجودہ اور سابق خاتونِ اول نے کیا کہا؟

رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی صدر جارج بش کی اہلیہ لارا بش نے بھی اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’یہ زیرو برادشت کی یہ پالیسی ظلم ہے اور اس سے اُن کا دل ٹوٹ کیا ہے۔‘

’ہماری حکومت کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے کہ بچوں کو گوداموں میں ڈال دیں اور صحرا میں اُن کے لیے خیمے لگا دیں۔‘

لارا بش نے لکھا کہ ’ان تصاویر کو دیکھ کر انھیں دوسری جنگِ عظیم کے جاپانی امریکی جنگی قیدیوں کے کیمپوں کے مناظر تازہ ہو گئے، جنھیں اب امریکی تاریخ کا شرمناک دور سمجھا جاتا ہے۔‘

ادھر خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ایسا ملک ہونا چاہیے جو تمام قوانین کی پاسداری کرے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسا ملک بھی ہونا چاہیے جہاں دل کی حکومت ہو۔'

ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ٹرمپ کی 'صفر برداشت' کی پالیسی تنازع کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

میلانیا ٹرمپ نے اپنے شوہر کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے ’دونوں‘ کو امیگریشن اصلاحات پر کام کرنا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ انھیں 'بچوں کو اپنے والدین سے جدا کیے جانے سے نفرت ہے' اور وہ 'امید کرتی ہیں کہ دونوں (ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس) حتمی طور پر مل جل کر کامیاب امیگریشن اصلاحات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔'

Central American asylum seekers are taken into custody by US Border Patrol agents on 12 June 2018 near McAllen, Texas.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنغیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کو حراست میں لیا جا رہا ہے

کس پر الزام عائد کیا جا رہا ہے؟

صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کے لیے اس قانون کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو ان کے مطابق 'ڈیموکریٹس نے دی ہیں۔' لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کس قانون کی بات کر رہے ہیں۔

انھوں نے سنیچر کے اپنے ٹویٹ میں ڈیموکریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ ریپبلکنز کے ساتھ مل کر ایک نیا قانون بنائیں۔

بہر حال ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو والدین سے علیحدہ حراست میں رکھنے کی پالییسی کا اعلان گذشتہ ماہ امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا تھا اور اس کو روکنے کے لیے کانگریس کے اقدام کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس پالیسی نے ریپبلکنز کو منقسم کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو والدین بار بار جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان سے ان کے بچوں کو لے لیا جاتا ہے۔

بچوں کی اضافی حراست میں مبینہ طور پر شیرخوار اور پاؤں پاؤں چلنے والے بچے شامل ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پناہ گاہوں اور پرائے یا سوتیلے گھروں میں جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔

بچے

،تصویر کا ذریعہReuters

دریں اثنا حکام نے شہر خیمہ بنانے کے منصوبے کا علان کیا ہے تاکہ ٹیکسس کے ریگستان میں جہاں درجۂ حرارت مستقل طور پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے مزید سینکڑوں بچوں کو رکھا جا سکے۔

مقامی قانون ساز جوز روڈریگیز نے اس منصوبے کو مکمل طور پر 'غیر انسانی اور اشتعال انگیز' قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'جو کوئی بھی اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ہے وہ اس کی مذمت کرے گا۔'

مظاہرین نے اتوار کو ٹیکسس کے ٹورنیلو میں اسی طرح کی ایک آبادی کی جانب ریلی نکالی جہاں سینکڑوں بچے اپنے والدین کے بغیر رہ رہے ہیں۔