سانٹافے شوٹنگ: ملزم نے ’طلبہ کو چھوڑ دیا کہ وہ کہانی سنا سکیں‘

،تصویر کا ذریعہDIMITRIOS PAGOURTZIS/FACEBOOK
عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکہ کے سانٹافے سکول میں جمعے کے روز فائرنگ کر کے دس افراد کو ہلاک کرنے والے ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے بعض طلبہ کو اس لیے چھوڑ دیا کہ 'وہ اس کی کہانی سنا سکیں۔'
دمتریوس پگورٹزس پر ٹیکساس کی ایک عدالت میں دس افراد کے قتل کا مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔
عدالت میں پیش کیے جانے والے ایک حلف نامے کے مطابق 17 سالہ پگورٹزس اپنے خاموش رہنے کے حق سے دستبردار ہو گئے اور تسلیم کیا کہ انھوں نے متعدد لوگوں کو گولیاں ماری ہیں۔
اسی بارے میں
حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے ان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پولیس کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ 15 منٹ تک چلتا رہا جس کے بعد پگورٹزس نے خود کو مارنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
حلف نامے کے مطابق پگورٹزس جمعے کے صبح آٹھ بج کر دو منٹ پر آرٹ لیب 2 میں نمودار ہوئے اور ہتھیار ڈال دیے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ دو بم بھی لے کر آئے تھے جو ناکارہ نکلے۔
حلف نامے میں درج ہے کہ پگورٹزس کے پاس ایک ریمنگٹن 870 شاٹ گن اور 0.38 کیلبر کا پستول تھا۔

،تصویر کا ذریعہGalveston County Jail/Twitter
ایک طالبہ بریانا کوینٹی نیلا نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ پگورٹزس ان کی کلاس میں داخل ہوئے اور کسی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے، 'میں تمھیں قتل کر رہا ہوں۔' کوینٹی نیلا کو بھاگنے کی کوشش میں ٹانگ میں گولی لگی۔
پگورٹزس پر قتل اور پولیس پر حملے کے الزامات ہیں اور انھیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔
ان کے ایک وکیل نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ حملے کے بعد کی صبح 'عجیب و غریب انداز میں غیر جذباتی' تھے۔
پگورٹزس کے والدین نے وکیل نکولس پوئل کی خدمات حاصل کی ہیں۔ انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'وہ کبھی بہت جذباتی اور کبھی عجیب و غریب انداز میں غیر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وہ اس معاملے کے بعض پہلوؤں کو سمجھتے ہیں اور بعض پہلوؤں سے ناواقف ہیں۔'
پگورٹزس کے خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں اس واقعے سے دکھ ہوا ہے اور وہ ہر کسی کی طرح حیرت میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSabika Sheikh Family
حکام نے کہا کہ اس بات کے بہت کم شواہد ہیں کہ پگورٹزس حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
پگورٹزس نے سوشل میڈیا کی پوسٹوں میں لکھا تھا کہ وہ ملحد ہیں اور 'مجھے سیاست سے نفرت ہے۔' 30 اپریل کو انھوں نے ایک تصویر لگائی جس میں ان کی ٹی شرٹ پر لکھا تھا: "Born to Kill"
یہ شوٹنگ جدید امریکی تاریخ کا چوتھا مہلک ترین واقعہ ہے۔ اس سے قبل فروری میں فلوریڈا میں ایک طالب علم نے فائرنگ کر کے 17 لوگوں کو قتل کر دیا تھا۔









