’روز بتاتی تھی آج اتنے دن رہ گئے اور پھر میں واپس آ جاؤں گی‘

،تصویر کا ذریعہPak-US Alumni Network (PUAN)
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سبیکا شیخ کے والد عبدالعزیز نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں واقع ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی خبر نیوز چینل سی این این پر سنی تھی۔
’افطار سے فارغ ہو کر میں نے 8 بجے ٹی وی چینل کھولا تھا جب میرا دھیان ایک خبر پر گیا۔ اُس پوری خبر میں دو لفظ میرے سامنے ابھر کر آ رہے تھے۔ ٹیکساس اور سکول۔ مجھے یکدم اپنی بیٹی کا خیال آیا اور میں نے اسے فون کیا۔‘
ہفتے کے روز بی بی سی سے اپنے گھر میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے سبیکا کو فون ملایا ہو اور اس نے فون نہیں اٹھایا ہو یا اس کا فورا میسج نہ آجائے کہ بابا میں آپ کو بعد میں فون کرتی ہوُں، لیکن اس دن ایسا نہیں ہواـ‘
سبیکا کے والد نے پھر ان کی دوستوں کو فون ملایا لیکن وہاں سے بھی جواب موصول نہیں ہوا۔
سکول کی انتظامیہ اور پروگرام کوآرڈینیٹر کو فون کرنے پر معلوم ہوا کہ سکول کو چاروں طرف سے پولیس نے بند کر دیا ہے اور اس وقت ان کو کچھ بھی وثوق سے نہیں بتایا جا سکتا کہ کیا ہوا ہے۔
’اس وقت تک یہاں پر ساڑھے نو دس بج چکے تھے جب مجھے سکول سے فون آیا۔ فون پر وہ لوگ روپڑے۔ مجھے پتا چل گیا کہ میری بیٹی نہیں ہے اب ـ ـ ـ ‘
فرح اور عبدالعزیز کی بیٹی سبیکا شیخ ایک سال قبل ٹیکساس کے سینٹا فے ہائی سکول میں سکالرشپ پر پڑھنے گئی تھیں۔ جمعے کی صبح وہاں پر ایک 17 سالہ لڑکے کے فائرنگ کرنے سے اب تک 10 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں سبیکا بھی شامل ہیں۔
ہفتے کے روز پاکستانی میڈیا سبیکا کے گھر کے باہر موجود تھا۔ ان کے چچا سے لے کر خاندان کے باقی افراد میڈیا کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ تعزیت کے لیے سبیکا کے گھر آنے والوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے عارف علوی بھی شامل تھے جو سبیکا کے چچا جلیل شیخ کو پاک سرزین کے علاقائی کوآرڈینیٹر کے طور پر جانتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالعزیز نے بتایا کہ پاکستانی کونصلیٹ کی عائشہ صاحبہ ان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اب تک ان کے رشتہ دار بھی ہیوسٹن پہنچ رہے ہیں۔
’پہلے ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ ہمارا وہاں کوئی نہیں ہے لیکن بہت سے لوگ مدد کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ میری بیٹی کی لاش پیر یا منگل تک پاکستان پہنچا دی جائے گی۔‘
میڈیا اور باقی لوگوں سے دور سبیکا کی والدہ فرح شیخ نے اپنی بیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی پبلک سکول کی طالبہ ہوتے ہوئے اس کو بہت لوگ باہر پڑھنے کا کہتے تھےـ
’میری بیٹی بالکل آخری مراحل میں جا کر اس سکالرشپ کے لیے منتخب ہوئی تھی کیونکہ فارم جمع کرنے کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع ہوئی تھی۔ میں اپنی بیٹی کو ایک کامیاب اور نیک دل انسان کے طور پر یاد رکھنا چاہتی ہوں۔‘
ہیوسٹن کے سینٹا فے میں جمعے کی صبح ہونے والا واقعہ امریکہ کے سکولوں میں فائرنگ کا پہلا واقعہ نہیں ہےـ اس سے پہلے بھی اسی سال میں مختلف سکولوں میں فائرنگ کی تعداد میں اب تک 22 سکول شامل ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سبیکا کے والد نے کہا کہ ’وہاں کی حکومت کو سنجیدگی سے ان بڑھتے ہوئے حادثات کا نوٹس لینا چاہیے۔ اس طرح سے تو ماں باپ بچوں کو سکول بھیجنے سے بھی گھبرائیں گے۔‘
18 سالہ سبیکا شیخ کا تعلق کراچی کے گلشنِ اقبال کے علاقے سے تھاـ ان کی والدہ فرح نے بتایا کہ ان کے پاکستان آنے میں صرف 20 دن رہ گیے تھے۔ ’مجھے روز بتاتی تھی کہ مما آج 45 دن رہ گئے ہیں، پھر 35 دن رہ گئے ہیں ـ ابھی پرسوں ہی اس نے مجھے فون پر بتایا کہ مما اب صرف 19 دن رہ گئے ہیں اور پھر میں واپس آجاؤں گی ـ اپنی مرضی کے کھانے بتاتی رہتی تھی کہ مما میرے لیے افطاری میں یہ کھانا بنائیے گا۔ یہ واقع تو ہم سب کے لیے ایک سانحہ بن کر رہ گیا ہے، میری بیٹی اب واپس نہیں آئے گی ۔۔‘








