امریکہ میں فائرنگ سے مارے جانے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے ’بڑے بڑے خواب تھے'

،تصویر کا ذریعہSabika Sheikh Family
امریکی شہر ہیوسٹن کے ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ کے والد نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کے چھوٹی عمر میں ہی بڑے بڑے خواب تھے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سبیکا کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج کے تحت ہیوسٹن کے سانٹافے سکول میں گذشتہ سال اگست میں پڑھنے گئی تھیں۔
سبیکا کے والد عبدالعزیز نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'سبیکا تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ اسے نو جون کو کراچی پہنچ جانا تھا۔'
اس واقعے کی خبر ملتے ہی لوگ کراچی میں سبیکا کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔
سبیکا کے والد نے کہا کہ فائرنگ کی اطلاع انھیں میڈیا سے ملی۔ پھر انھوں نے سبیکا کے نمبر پر فون کیا، لیکن وہاں سے جواب نہیں آیا۔ پھر سکول کے رابطہ کار سے رابطے سے پتہ چلا کہ سکول میں فائرنگ ہوئی ہے۔ تین چار گھنٹے بعد اس نے تصدیق کی کہ سبیکا بھی فائرنگ کی زد میں آ گئی ہیں۔
انھوں نے سبیکا کے بارے میں بتایا کہ وہ 'کراچی پبلک سکول کی طالبعلم تھی۔ چھوٹی سی عمر میں اس کے بڑے خواب تھے۔ غیر معمولی ذہین اور باصلاحیت بچی تھی۔ وہ پاکستان کی فارن سروس میں جانا اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔
'مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میری بیٹی چلی گئی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSabika Sheikh Family
سبیکا کی چھوٹی بہن نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بڑی بہن کے آنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں اور اس کے لیے افطار پارٹیوں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ایک دن پہلے سبیکا سے بات ہوئی تھی جنھوں نے کہا تھا کہ وہ سب کے لیے تحائف لے کر آئیں گی۔
سبیکا کی میت پاکستان منتقل کرنے کے لیے پاکستانی سفارت خانے نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
سفیر اعزاز چوہدری نے بتایا کہ کچھ ضروری کارروائیاں بھی باقی ہیں جن میں وقت لگتا ہے۔ لیکن کوشش ہے کہ جتنا جلد ہو سکے، سبیکا کی میت کو پہنچا دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہSabika Sheikh Family
’نوجوان سفیر‘
امریکی محکمۂ خارجہ نے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج پروگرام 2002 میں قائم کیا تھا جس کے تحت بالخصوص مسلمان اکثریتی ملکوں سے طلبہ کو ایک تعلیمی سال کے لیے امریکہ بلایا جاتا ہے تاکہ مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو آپس میں میل جول کا موقع مل سکے۔
ان طلبہ کو 'نوجوان سفیر' کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ان کے کاموں میں ایک یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں لوگوں کو بتا سکیں۔ وہ ایک امریکی خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اور امریکی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
ہر سال 80 کے قریب طلبہ کو مدعو کیا جاتا ہے اور اب تک اس پروگرام کے تحت 1120 پاکستانی طلبہ کو امریکہ میں تعلیم حاصل کا موقع مل چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSabika Sheikh Family








