بھجی کی پسند آلو کے پراٹھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑي ہر بھجن سنگھ یعنی بھجی چاہے تنازعات کا شکار رہتے ہوں لیکن وہ بھارتی کرکٹ شائقین کے پیارے ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا کے دورے کے دوران ان پر نسل پرست بیان بازی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تو نہ صرف پوری ٹیم اور انڈین کرکٹ بورڈ بلکہ پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ بھجی کے کرکٹ کے کرئیر اور ان کی نجی زندگی کے بارے میں ان کی والدہ سے ایک خصوصی ملاقات میں پتہ چلتا ہے کہ جیسے ہر ماں کے لیے اس کا بیٹا دنیا کا سب سے’ لاڈلا‘ شخص ہوتا ہے اسی طرح بھجی بھی اپنے ماں کے لاڈلے ہیں۔ ان کی والدہ سے ہماری گفتگو مندرجہ ذیل سوال و جواب کی شکل میں ہوئی: س: ہر بھجن سنگھ اب انڈین ٹیم کے اہم کھلاڑی بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابیوں کو دیکھ کر کیا محسوس ہوتا ہے؟ ج: بہت اچھا لگتا ہے، خوشی ہوتی ہے۔ اس کے والد زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کیونکہ انہیں کرکٹ کے بارے میں سب کچھ پتہ تھا۔ مجھے تو کرکٹ کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب ہربھجن نے کھیلنا شروع کیا۔ س: اب تو آپ ہر بھجن کا ہر میچ دیکھتی ہوں گی؟ ج: ہاں میچ تو میں سارے دیکھتی ہوں۔ اگر بجلی نہ ہو تو الگ بات ہے۔
س: اب کرکٹ سمجھ میں بھی آتی ہوگی؟ ج: ہاں آتا ہے۔ دیکھتے دیکھتے سمجھنے لگے ہیں کہ کوئی ایسے آؤٹ ہوا اور کوئی ویسے آؤٹ ہوا۔ س: میچ سے پہلے ہربھجن فون کرتے ہیں تو کیا بات ہوتی ہے؟ ج: فون تو ہر میچ سے پہلے کرتا ہے۔۔۔کہ آج میرا میچ ہے۔ کرکٹ کے بارے میں بات نہیں ہوتی۔ میں کہتی ہوں بہت وکٹ لینا، بہت رنز بنانا، بہت اچھا کھیلنا، بس۔ س: ابھی آسٹریلیا میں اتنا بڑا تنازعہ کھڑا ہوا اس وقت آپ کو کیسا لگا؟ ج: وہ بہت غم گین وقت تھا۔ اس کی پریشانی سے ہم بھی پریشان تھے۔ لیکن سب سے اچھا یہ لگا کہ پوری ٹیم نے اس کا ساتھ دیا۔ پورا ملک اس کے ساتھ تھا۔ باقی کھیل میں تنازعات تو چلتے ہی رہتے ہیں۔ س: جب بھجی گھر آتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ کیا ماحول ہوتا ہے گھر کا؟ ج: بہت اچھا لگتا ہے۔ گھر میں خوشی کا ماحول ہوتا ہے۔ اس کے دوست آتے رہتے ہیں۔ ہم اس کی پسند کا ناشتہ بنا بنا کر دیتے رہتے ہیں۔ س: اچھا اب یہ بتائیں کہ بھجی کوکھانے میں کیا پسند ہے اور آپ کے ہاتھ کی بنی کیا چیز وہ کھانا چاہتے ہيں۔ ج: کھانے میں اسے سب کچھ پسند ہے، آلو کے پراٹھے زیادہ شوق سے کھاتا ہے، ویسے میں جو بھی بناؤں ۔۔۔گوبھی کے پراٹھے، راجما چاول، کڑھی چاول۔۔ وہ بھی بڑے مزے سے کھاتا ہے ۔ ملائی اور دہی بھی اسے بہت پسند ہے۔
س: اب جب بھجی گھر آتے ہیں تو شرارت کرتے ہيں، یا پچپن میں زیادہ شرارتی تھے، ان کی کون کون سی شرارتیں آج بھی آپ نہيں بھول پائی ہیں۔ ج: پچپن میں بھی شرارتی تھا اور اب بھی شرارت کرتا ہے۔ پر پہلے کی شرارتیں مختلف تھیں اور اب کی شرارتیں الگ ہیں۔ پچپن میں پانچ بہنوں کے بیچ رہتا تھا اور بہنیں جو کھیل کھیلتی تھی وہ بھی وہی کھیل کھیلتا۔ اب جب وہ آتا ہے تو بہنوں کے ساتھ خوب ہنسی مذاق کرتا ہے۔ س: ہربھجن کو کرکٹ کھیلنے کا شوق کیسے پیدا ہوا۔ ج: اس نے تیرہ سال کی عمر سے کھیلنا شروع کردیا تھا۔ گھر میں کوئی کرکٹ نہيں کھیلتا تھا،اس کی پھوپھی کا بیٹا بیڈمنٹن کا کوچ ہے اس نے ہربھجن کو کرکٹ کھیلنا سکھایا۔ س: جب ہربھجن گھر پر آتے ہیں تو کیا خوب باتیں ہوتی ہيں؟ ج: جب گھر آتا ہے تو میرے پاس بیٹھتا ہے اور حال چال پوچھتا ہے۔ س: یعنی آپ کے ’ لاڈلے‘ ہيں بھجی؟ ج: لاڈلے تو سبھی ہیں، ہربھجن لاڈلا ہے اور بیٹیاں لاڈلی ہيں۔ اسے بہنوں سے بھی بڑا پیار ملتا ہے۔ س: پچپن میں بھجی کو آپ نے کون کون سی کہانیاں سنائی ہيں۔ ج: ہمیں کہانیاں سنانی نہیں پڑی، وہ بہنوں سے ہی کہانیاں سنتا تھا۔ س: پچپن میں وہ کھیل کود کے نواب تھے یا پڑھائی میں بھی لاجواب تھے۔ ج: پڑھائی میں ہمشہ سے ہی وہ اچھا تھا۔ س: جب بھجی باہر جاتے ہیں تو تحائف لاتے ہوں گے؟ ج؛ تحائف تو وہ سب کے لیے لاتا ہے، اور ہر بار لاتا ہے، ہمارے لیے تو ہربھجن ہی تحفہ ہے۔ جب وہ آتا ہے تو سمجھو تحفہ آگیا۔ س: سب سے پہلا تحفہ کیا ملا تھا؟ ج: ہیرے کی انگھوٹی جو اب بھی مجھے پسند ہے۔ س: اتنے دنوں سے کام کرتی ہوئی تھک گئی ہوں گی، تو آپ اپنی من پسند بہو کب لا رہی ہیں؟ ج: بہو لانے کا وقت تو آ گيا ہے، دلہن تو اس کی پسند کی ہوگی لیکن مجھے بتاکر ہی فیصلہ کرے گا۔ اس کی پسند ہی ہماری پسند ہوگی۔ س:اچھا یہ بتائیے کہ ہربھجن کو موسیقی کون سی ہے۔ ج: موسیقی اسے بہت پسند ہے، ہر قسم کی موسیقی سنتا رہتا ہے، جو گانا صبح زبان پر چڑھتا ہے وہی شام تک گاتا رہتا ہے۔ چاہے وہ گانا غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اسے گرداس مان کے گانے بہت پسند ہيں۔ آج کل وہ ’میں جہاں رہوں۔۔ میں کبھی تنہا نہیں ہوں۔۔ تیری یاد ساتھ ہے‘ گاتا رہتا ہے۔ |
اسی بارے میں سڈنی ٹیسٹ تنازعہ:کرکٹ بدنام01 February, 2008 | کھیل ملبورن: انڈیا کی پہلی جیت10 February, 2008 | کھیل ’فقرے بازی پر پابندی لگائی جائے‘15 February, 2008 | کھیل ہربھجن کے خلاف بیان، ہیڈن کو تنبیہ27 February, 2008 | کھیل سچن کی سنچری انڈیا کی جیت02 March, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||