ہربھجن کے خلاف بیان، ہیڈن کو تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی سپنر ہربھجن سنگھ کے خلاف بیان بازی کے معاملے میں کرکٹ آسٹریلیا(آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ ) نے میتھیو ہیڈن کو صرف تنبیہ کر کے چھوڑ دیا ہے۔ میتھیو ہیڈن نے ہندوستانی سپنر ہربھجن سنگھ کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے انہیں ( obnoxious little weed) کہا تھا۔ آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے اسے کرکٹ کے برتاؤ سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس معاملے کی شنوائی کے لیے ران بےزلے کو اپیل کا کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ ملبرن میں اس معاملے کی سنوائی کے بعد ران بےزلے نے میتھیو ہیڈن کو متبنہ کرتے ہوئے انہیں مستقبل میں ذمےداری سے پیش آنے کی ہدایت دے کر چھوڑ دیا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری نرنجن شاہ نے بی بی سی سے کہا ’جو کرکٹ آسٹریلیا کو اچھا لگا وہ انہوں نے کیا۔ ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے ہیں‘۔ نرنجن شاہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں اور کرکٹ پر توجہ دیں۔ اس سے قبل خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ہیڈن کو آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ کے برتاؤ سے متعلق اصول کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔اس اصول کے تحت کسی بھی اس کھلاڑی کے خلاف کچھ کہنا منع ہے جس کے ساتھ وہ کھلاڑی کھیل چکا ہے یہ پھر کھیلنے والا ہے۔ میتھیو ہیڈن نے برسبن کے ایک ریڈیو پروگرام میں کہا تھا ’ہربھجن سے لڑائی کافی لمبی ہو گئی ہے۔ وہ اب بھی ویسا ہی ’ناپسندیدہ‘ ہے جیسا وہ اس وقت تھا جب میں پہلی بار اس سے ملا تھا‘۔ ہیڈن نے ہر بھجن سنگھ کو ’ویڈ‘ کہا ہے جو اس خود روگھاس پھوس کو کہتے ہیں جسے کاشتکار غیر ضروری سمجھ کر نکال دیتے ہیں۔ میتھیو ہیڈن نے مزید کہا تھا کہ ’ہربھجن کا ریکارڈ سب کچھ بیان کرتا ہے۔ اگر آپ نے ايک بار ہر بھجن کو کچھ کہہ دیا تو وہ ہر وقت آپ کو کچھ نہ کچھ کہتا ہی رہے گا‘۔ ہيڈن کے اس بیان سے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری نرنجن شاہ کا کہنا ہے’دراصل آسٹریلیا کے کھلاڑی یہ سب شروع کرتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے کھلاڑی ان سب تنازعات میں پھنسيں‘۔
آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ اگر انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اگر ان کے کسی کھلاڑی نے حریف ٹیم کے خلاف ٹی وی یا ریڈیو پر کوئی غلط بیانی کی ہے تو بورڈ ان کو روک سکتاہے۔ آسٹریلوی اوپنر کا بیان ایک ایسے وقت ميں آیا ہے جب ہندوستان کے کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے میچ ریفری جیف کرو کو تحریری شکایت کی ہے۔ اتوار کو سڈنی میں ون ڈے ميچ کے دوران آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ہربھجن سنگھ اور ایشانت شرما کے ساتھ گرما گرمی ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے ہربھجن سنگھ ، کپتان رکی پونٹنگ اور میتھیو ہیڈن کے درمیان ہلکی کہا سنی ہوئی تھی جس کی شکایت ہر بھجن سنگھ نے میدان پر موجود ایمپائروں سے کی تھی ۔ اس کے بعد ہندوستان کے کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا کہ ہیڈن نے میدان پر ہربھجن سنگھ کو’میڈ بوائے‘ یعنی ’پاگل لڑکا‘ کہا تھا۔ ہیڈن نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہربھجن سنگھ کو ’میڈ بوائے‘ نہیں بلکہ ’بیڈ بوائے‘ یعنی برا لڑکا کہا تھا۔ اسی میچ کے دوران ایشانت شرما کی گیند پر بولڈ آؤٹ ہونے والے اینڈریو سیمنڈز نے بھی’ کچھ‘ کہا تھا جس کے بعد ایشانت نے بھی جواب دیا تھا۔ تاہم شکایت درج ہونے کے بعد ایشانت شرما کو اپنی میچ کی فیس کا 15 فیصد حصہ جرمانے کے طور پر ادا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد میچ کے ریفری جیف کرو نے دونوں ٹیموں کو آگاہ کیا تھا وہ میدان پر اپنا برتاؤ بہتر کریں۔ اس سے قبل سڈنی ٹسٹ کے دوران ہربھجن سنگھ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اینڈریو سیمنڈز کو’ بندر‘ کہا ہے۔ اس کے بعد ہربھجن پر تین میچوں کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی لیکن بعد میں ناکافی ثبوت کے سبب یہ پابندی ہٹا لی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ڈراوڈ اور گنگولی ون ڈے سے باہر20 January, 2008 | کھیل آسٹریلیا سیریز جیتنے کے قریب27 January, 2008 | کھیل ہربھجن کی اپیل میں نئی شہادت28 January, 2008 | کھیل ہربھجن کی سماعت ٹیسٹ کے بعد15 January, 2008 | کھیل ہربھجن ممکنہ طور پرٹیسٹ سے باہر 15 January, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||