ہربھجن تنازع: انڈیا میں سخت ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں سپنر ہربھجن سنگھ کے مبینہ نسل پرست فقرے بازی پرتین ٹیسٹ میچوں کی پابندی اور خراب امپائرنگ کی خبریں شہ سرخیوں میں ہیں۔ سبھی اخبارات، نیوز ویب سائٹس، خبررساں ایجنسیوں اور ٹی وی چینلز پر آسٹریلیا میں ’ بے ایمان‘ امپائرنگ کی خبر پہلی خبر بنی ہوئی ہے۔ٹی وی چیلنز اس فوٹیج کو بار بار دیکھا رہے ہيں جس میں امپائر سٹیو بکنر اور مارک بنسن کےغلط فیصلے واضح طور پر عیاں ہوجاتے ہيں۔ اخبارات نے صفحہ اول کے ساتھ کھیل صفحے کو سڈنی ٹیسٹ تنازعے کے نام کیا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دا ایشین ایج‘ نے سرخی لگائی ہے’ امپائروں نےہندوستانی ٹیم کو شکست دی۔‘ اخبار لکھتا ہےکہ امپائروں نے مہذب لوگوں کا کھیل سمجھے جانےوالے کرکٹ کو حد سے زیادہ گندہ کیا ہے۔ روزنامہ ’دا پائنير‘ نے سرخی لگائی ۔’ سڈنی کی آفت: امپائر کی فتح اور کرکٹ کی ہار‘۔ اخبار نے لکھا ہے کہ آسٹریلیا سے جیتنا مشکل نہیں، ناممکن ہے، اخبار اس کی وجہ غلط امپائرنگ کو قرار دیتا ہے۔ روزنامہ دی ہندو نے بھی اس خبر کو صفحہ اول پر جگہ دی ہے اور لکھا ہے کہ ایک اور غلط امپائرنگ، اسی طرح اخبار ’دا ٹائمز آف انڈيا‘ نے سرخی لگائی ہے کہ ہربھجن پر تین میچوں کی پابندی اور امپائر نے آسٹریلیا کو دو ایک سے فتح دلائی۔ ہندوستان ٹائمز کی سرخی ہے کہ امپائر نے ہندوستان کو شکست دی، آئی سی سی نے ہربھجن پر پابندی لگائی۔اخبار نے ہندوستان کے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان انیل کمبلے کا بیان بھی صفحہ اول پر شائع کیا ہے، جس میں کمبلے کا کہنا ہے کہ’صرف ایک ٹیم نے کرکٹ کھیل کے جذبے کے ساتھ کھیلا ہے۔‘ ارود روزنامہ راشٹریہ سہارا نے سرخی لگائی ’ ہندوستان کی شاندار جیت، کرکٹ کی شرمناک ہار‘۔ اخبار نے سٹیو بکنر، رکی پونٹنگ اور مارک بنسن کی تصویریں صفحہ اول پر شائع کیں ہيں اور اس کے نیچے بے ایمان، بے ایمان اور بےایمان لفظ لکھے ہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہےکہ ریکارڈ میں آسٹریلیا 122 رنز سے جیتا، پر دل ہندوستان نے۔ روزنامہ ہندوستان ایکسپریس نے ہندوستان کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سڈنی ٹسٹ میں آسٹریلیا اور امپائروں کےہاتھوں ہندوستان کی شکست ہوئی۔
مختلف زبانوں کی ہندوستانی ویب سائٹس بھی سڈنی ٹیسٹ کے متعلق خبروں کے ساتھ ساتھ تجزیے شائع کر رہی ہيں۔ اس درمیان ہربجھن سنگھ پر پابندی کے خلاف بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ’ آئی سی سی کا فیصہ ناقابل قبول ہے اور پابندی غیر منصفانہ ہے‘۔ ان کا کہا تھا کہ بی سی سی آئی ہربجھن پر پابندی کے خلاف آئی سی سی سے اپیل کرے گی۔ اس دوران ہندوستانی ٹیم نے فی الحال اگلے ٹسٹ کے لیے کینبرا نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اورٹیم سڈنی میں ہی رکی رہے گی۔اطلاعات کے مطابق ہربجھن کی معطلی کے تنازعے پر بی سی سی آئی مجلس عامہ کی ایک میٹنگ منگل کو دلی میں متوقع ہے۔ |
اسی بارے میں سڈنی ٹیسٹ میں بھارت کو شکست06 January, 2008 | کھیل ہیئر نے تعصب کا دعویٰ واپس لے لیا10 October, 2007 | کھیل ڈیرل ہیئرکا نسلی امتیاز کا الزام واپس25 February, 2007 | کھیل راشد لطیف بےقصور | کھیل راشد لطیف بےقصور | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||