آسٹریلیا کا ’دہشتگرد‘ بیٹسمین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مرتبہ کسی نے گلکرسٹ سے پوچھا کہ ان کا بیٹنگ سے متعلق فلسفہ کیا ہے تو جواب تھا کہ ’بس گیند کو مارو‘۔ باربیڈوس کے برج ٹاؤن میں کینسنگٹن اوول گراؤنڈ میں بس گلکرسٹ نے یہ ہی کیا۔ ایک سو چار گیندوں پر تیرہ چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے ایک سو انچاس رنز بنائے۔ بس کے گیندو کو مارو۔ یہ ہی ٹھیک فلسفہ ہے۔ دو ہزار سات کا ورلڈ کپ بیٹنگ کے حوالے سے گلکرسٹ کے لیے اتنا اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے اس میچ سے پہلے دس میچوں میں تین سو چار رنز بنائے جس میں دو نصف سینچریاں شامل تھیں۔ تاہم فائنل میں جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی گلکرسٹ نے وہ ہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں۔ کم سے کم گیندوں پر سب سے زیادہ سکور۔ یہ عالمی کپ کی تاریخ کے کسی بھی فائنل میچ میں سب سے تیز سینچری ہے۔ اس سے قبل پونٹنگ نے دو ہزار تین کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سکور کیا تھا جو ایک سو چالیس تھا۔ دو ہزار سات کے فائنل میں گلکرسٹ نے ایک سو انچاس رنز بنا کر کپتان کا یہ ریکارڈ توڑ دیا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ گلکرسٹ نے عالمی کپ کے فائنل میں اس وقت سکور کیا ہے جب اس کی اشد ضرورت ہو۔ انیس سو نناوے کے فائنل میں گلکرسٹ نے لارڈز میں پاکستان کے خلاف چھتیس گیندوں پر چون رنز بنا کر آسٹریلیا کی فتح میں حصہ ڈالا۔ جوہانزبرگ کے دو ہزار تین میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں انہوں نے انڈیا کے خلاف اڑتالیس گیندوں پر ستاون رنز بنائے۔ تاہم برج ٹاؤن کے فائنل میں انہوں نے اپنے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے اور ثابت کر دیا کے وکٹ کے آگے اور پیچھے وہ دونوں صورتوں میں ایک خطرناک کھلاڑی ہیں۔ اسے ان کی سب سے ’دہشت ناک‘ پرفارمنس کہنا غلط نہ ہو گا۔ ایک روزہ میچوں میں گلکرسٹ 268 میچوں میں 9396 رنز بنا چکے ہیں۔ اگرچہ ان کا سب سے زیادہ سکور ایک سو بہتر ہے لیکن برج ٹاؤن میں ایک سو انچاس رنز ان کی کسی بھی اعتبار سے سب سے بڑی اننگز ہے۔ |
اسی بارے میں آسٹریلیا ’مِنی فائنل‘ جیت گیا16 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا عالمی کپ کے فائنل میں 25 April, 2007 | کھیل نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی شکست20 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا کی دس وکٹوں سے جیت31 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا کا ’پروفیشنل‘ مظاہرہ14 March, 2007 | کھیل گلکرسٹ کو دو میچوں کا آرام22 January, 2005 | کھیل آسٹریلیا نےسری لنکا کوہرا دیا26 January, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||