سڈنی ٹیسٹ تنازعہ:کرکٹ بدنام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سپنر ہربھجن سنگھ آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سمنڈز کو بندر کہنے کے الزام سے بری ہوگئے لیکن کرکٹ، کھلاڑیوں کے رویے اور آئی سی سی کے اصولوں و ضوابط سے جڑے کئی سوال عالمی میڈیا میں سر چڑھ کر بول رہے ہیں یا یہ کہیں کہ نسلی امتیازی سلوک کا معاملہ کرکٹ کا پیچھا چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ عالمی میڈیا میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا کرکٹ جنٹلمین گیم رہ گیا ہے یا نہیں، آئی سی سی نے ہربھجن کو اتنی آسانی سے کیوں چھوڑ دیا، کرکٹ میں اگریشن یا کھلاڑیوں کا جارحانہ انداز کس حد تک صحیح ہے، اگر نسلی امتیازی سلوک غلط ہے تو گالی صحیح کیوں اور ہربھجن نوک جھوک میں اپنا جارحانہ انداز زیادہ اور کھیل میں کیوں کم دکھاتے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم کے سابق کھلاڑی سید کرمانی کہتے ہیں کہ آج کل کھلاڑی کچھ زیادہ ہی پروفیشنل ہوگئے ہیں اور کھیل کے جذبات سے زیادہ دوسری باتوں میں الجھتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہم دوسرے لوگوں کو بندر کہتے ہیں لیکن ہم خود بندروں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ ایک وکٹ لینے پر ہم بندروں کی طرح اچھلتے ہیں۔کرکٹ کوئی جنٹلمین کا کھیل تو نہیں رہ گیا ہے۔‘
ہربجھن کے نسلی فقرہ بازی کے الزام سے بری ہونے کے بعد ایک طرف جہاں ہندوستانی میڈیا میں تقریباً جشن کا سماں تھا اور اب بھی ہے وہیں آسٹریلین میڈیا میں زبردست رد عمل سامنے آیا ہے۔ کسی اخبار نے اسے کرکٹ کا سب سے شرمناک لمحہ قرار دیا ہے تو کسی نے کہا کہ آئی سی سی ہندوستان کے سامنے اس لیے جھک گیا کیونکہ ہندوستان کرکٹ میں سب سے زیادہ پیسہ لانے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ کرکٹ تجزیہ کار وجے لوک پلے کہتے ہیں’ پیسے کی طاقت ہے وہ بات صحیح ہے لیکن صرف پیسے سے کام نہیں چلے گا۔ ہندوستانیوں کے کرکٹ کا ریکارڈ تو بہت خاص نہیں ہے۔ آپ آسٹریلیا کو دیکھیں، انگلینڈ کو دیکھیں انکا کرکٹ ریکارڈ زبردست ہے۔ اگر کھلاڑیوں نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو ایک وقت ہوگا جب دوسری ٹیمیں ان کے ساتھ کھیلنے سے گریز کریں گی۔‘
ہربھجن سنگھ کی بات کی جائے تو وہ ایک جارحانہ کھلاڑی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے ماضی میں بھی کئی بار آئی سی سی کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہربھجن کے جارحانہ انداز کے بارے میں وجے لوک پلے کہتےہیں ’ ہربھجن کھیل کے وقت جذباتی ہوجاتے ہیں۔ یہ اس لیے کیونکہ ان سے زیادہ امیدیں ہوتی ہیں۔ لیکن کرکٹ ایسا کھیل نہیں جہاں اگریشن کی ضرورت ہے۔ کشتی، فٹ بال اور ہاکی جیسے کھیلوں میں جارحانہ انداز سمجھ میں آتا ہے۔ اور ہربھجن ایک سپنر ہیں جبکہ اکثر فاسٹ بالرز جارحانہ انداز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سچن تندلکر بھی جارحانہ ہیں لیکن وہ اس کا مظاہرہ رنز بنا کر کرتے ہیں، انیل کمبلے اور شین وارن وکٹ لیکر‘۔ ہربھجن کو نسل فرست فقرے کسنے کے الزام سہ بری کرنے والے جج جان ہینسن نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر انہیں ہر بھجن کے متنازعہ ریکارڈز کے بارے میں معلوم ہوتا تو وہ ہر بھجن کو سخت سزا دیتے۔ لیکن کھیل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہینسن ایک اہم معاملے کی سماعت کر رہے تھے اور اگر آئی سی سی نے انہیں ہربھجن کے ریکارڈ بارے میں نہیں بتایا تو انہیں پتہ کرنا چاہیے تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر ہینسن نے ایسا نہیں کیا تو انکا یہ بیان سماعت سے متعلق کئی سوالات اٹھاتا ہے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ آئی سی سی کا فیصلہ ہندوستانی کھلاڑی کے حق میں گیا اور کیا ان کے اس بیان سے آئی سی سی کی شفاف سماعت پر یقین کیا جاسکتا ہے؟ کم از کم آسٹریلین میڈیا اور کھلاڑی تو یہی سوال کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ڈراوڈ اور گنگولی ون ڈے سے باہر20 January, 2008 | کھیل آسٹریلیا سیریز جیتنے کے قریب27 January, 2008 | کھیل ہربھجن کی اپیل میں نئی شہادت28 January, 2008 | کھیل ہربھجن کی سماعت ٹیسٹ کے بعد15 January, 2008 | کھیل ہربھجن ممکنہ طور پرٹیسٹ سے باہر 15 January, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||