BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان زمبابوے پہلا ون ڈے کل

شعیب ملک
شعیب ملک کہتے ہیں کہ ہر میچ میں نوجوان کھلاڑیں کو آزمایا جائے گا
پاکستان اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پیر کو نیشنل اسٹیڈیم کھیلا جا رہا ہے۔

زمبابوے کی ٹیم عام حالات میں بھی اپنے مدمقابل کے لیے کمزور نہیں رہی، لیکن لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ اور بھارت کے خلاف لگاتار دو ون ڈے سیریز ہارنے والے پاکستانی کپتان شعیب ملک کےلیے یہ سیریز کڑے امتحان سے کم نہیں ہوگی۔ ایک طرف انہیں خود کو قیادت کا اہل ثابت کرنا ہے تو دوسری طرف اپنی فٹنس ثابت کرنی ہے۔

زمبابوے کے خلاف سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کی پالیسی کے تحت سلیکٹرز نے فاسٹ بولر سمیع اللہ نیازی، آل راؤنڈر کامران حسین اور اوپنر ناصرجمشید کو پہلے دو ون ڈے کے لیے پندرہ رکنی سکواڈ میں جگہ دی ہے۔ ان میں سے سمیع اللہ نیازی کی ٹیم میں شمولیت کے امکانات روشن ہیں لیکن زمبابوے کے خلاف چار روزہ میچ کے سنچری میکر ناصرجمشید کے معاملے میں سلیکٹرز اور کپتان مختلف رائے رکھتے ہیں۔

سلیکٹرز جن کے پاس ہوم سیریز میں حتمی ٹیم منتخب کرنے کا اختیار ہے انیس سالہ نوجوان باصلاحیت ناصرجمشید کو موقع دینا چاہتے ہیں لیکن کپتان شعیب ملک نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کی بات تو کررہے ہیں لیکن سلمان بٹ کے ساتھی اوپنر کے طور پر وہ وکٹ کیپر کامران اکمل کو کِھلانے پر بضد ہیں۔

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر زمبابوے جیسی ٹیم کے خلاف ہوم سیریز میں نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو موقع دینے میں خوف ہوسکتا ہے تو پھرکیا ان کھلاڑیوں کو آسٹریلیا اور دیگر مضبوط ٹیموں کے سامنے لایا جائے گا؟

کامران اکمل کو بچانے کی کوشش
 اس وقت کامران اکمل اپنی خراب وکٹ کیپنگ کے سبب کریئر کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں اور سلیکٹرز نے ان کے متبادل کے طور پر سرفراز احمد کو ممکنہ کھلاڑیوں میں بھی شامل کر رکھا ہے لیکن کپتان اور کوچ کامران کو بیٹسمین کے طور پر ثابت کرکے انہیں ٹیم سے باہر ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں
مبصرین

ان مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف تو اوپننگ کے مسئلے کا واویلا مچایا جاتا ہے اور جب ڈومیسٹک کرکٹ کی پرفارمنس پر کوئی نیا لڑکا سامنے آتا ہے تو پسند ناپسند اس کی راہ میں آڑے آجاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا مزید خیال ہے کہ اس وقت کامران اکمل اپنی خراب وکٹ کیپنگ کے سبب کریئر کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں اور سلیکٹرز نے ان کے متبادل کے طور پر سرفراز احمد کو ممکنہ کھلاڑیوں میں بھی شامل کر رکھا ہے لیکن کپتان اور کوچ کامران کو بیٹسمین کے طور پر ثابت کرکے انہیں ٹیم سے باہر ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کپتان شعیب ملک سو فیصد فٹ نہیں ہیں جس کا برملا اظہار کوچ جیف لاسن بھی کرچکے ہیں۔ اگر وہ کھیلتے ہیں تو انہیں پانچویں بولر کا کردار دس اوورز کی صورت میں ادا کرنا ہوگا۔ کامران اکمل کو کھلانے کی صورت میں وہ فواد عالم کو ٹیم میں شامل کرکے پانچویں بولر کی ذمہ داری انکے سپرد کرسکتے ہیں۔ ناصرجمشید کو ٹیم میں لینے کی صورت میں بیٹنگ لائن تو مضبوط ہوجائے گی پانچویں بولر کا مسئلہ درپیش رہے گا۔

زمبابوے کے کپتان پراسپر اتسیا بھی فٹنس مسائل سے دوچار ہیں اور ان کی شرکت میچ سے قبل فٹنس ٹیسٹ سے مشروط ہے۔

پاکستان میں امن وامان کی غیرمعمو لی صورتحال میں کھیلی جانے والی اس سیریز کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جس کی ایک جھلک پیر کو نیشنل سٹیڈیم میں بھی دکھائی دے گی۔

نسیم اشرف ’ناکامیوں کا سال‘
2007ء پاکستانی کرکٹ کیلیے مایوس کن رہا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد