پاکستانی ٹیم میں تین نئے چہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے زمبابوے کے خلاف پہلے دو ون ڈے میچوں کے لیے پاکستان کے پندرہ رکنی سکواڈ میں تین نئے کھلاڑیوں کو جگہ دی ہے۔ ان کھلاڑیوں میں سے دو اوپنر ناصر جمشید اور آل راؤنڈر کامران حسین پہلی بار پاکستان کے سکواڈ کا حصہ بنے ہیں جبکہ فاسٹ بالر سمیع اللہ نیازی پہلے دورۂ انگلینڈ میں سکواڈ کا حصہ رہ چکے ہیں تاہم ابھی تک انہوں نے پاکستان کی طرف سے کوئی میچ نہیں کھیلا۔ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ صلاح الدین صلو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ناصر جمشید ایک بہت اچھے اوپنر ہیں اور پاکستان کی ٹیم میں سلمان بٹ ایک اوپنر ہیں لیکن ان کے ساتھ ایک اچھے اوپنر کی شدت سےضرورت ہے اور اس کے لیے کچھ کھلاڑیوں پر نظر ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ناصر جمشید نے کراچی میں زمبابوے کے خلاف بہت اچھی بیٹنگ کی اور 182 رنز بنائے اور اس اننگز کی اچھی بات یہ کہ انہوں نے بیس چوکے اور چھ چھکے لگائے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ون ڈے کے بھی بہت اچھے کھلاڑی ہیں‘۔ صلاح الدین صلو نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ناصر جمشید اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور پاکستان کی ٹیم کو عامر سہیل اور سعید انور کے بعد اوپننگ کا جو بہت بڑا مسئلہ ہے اس میں کچھ بہتری آ سکے گی۔
صلاح الدین صلو نے کہا کہ دورہ بھارت میں محمد آصف کے نہ ہونے اور دیگر فاسٹ بالرز کے فٹ نہ ہونے کے سبب فاسٹ بالنگ کا شعبہ بھی کافی متاثر ہوا اس شعبے میں بہتری پر بھی سلیکشن کمیٹی کام کر رہی ہے اور اسی لیے نوجوان فاسٹ بالر سمیع اللہ نیازی کو موقع دیا جا رہا ہے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں کاکردگی دکھانے کے علاوہ کراچی میں زمبابوے کے خلاف پیٹرن الیون کی جانب سے آٹھ وکٹیں لیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور بالر سہیل خان بھی ہیں جنہوں نے قائداعظم ٹرافی میں 65 وکٹیں لیں جو سب سے زیادہ ہیں لیکن ان کے کندھے میں کچھ تکلیف تھی اس لیے انہیں اگلے تین میچوں کے لیے مدنظر رکھا جائے گا۔ آل راؤنڈر کامران حسین کی بابت صلاح الدین صلو کا کہنا تھا کہ یہ سہیل تنویر اور یاسر عرفات کی طرح کے کھلاڑی ہیں اور بالنگ کے ساتھ بیٹنگ بھی بہت اچھی کرتے ہیں اور یہ وہ کھلاڑی ہیں جو پاکستان کی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ صلاح الدین صلو نے کہا کہ ملکی سیریز میں سلیکشن کمیٹی کپتان اور کوچ کے مشورے سے میچ کے لیے گیارہ کھلاڑی چنتی ہے اور چونکہ زمبابوے کی ٹیم آسٹریلیا،بھارت اور جنوبی افریقی کی ٹیموں کی نسبت آسان حریف ہے اس لیے اس کے خلاف نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جائے گا اور امید ہے کہ اس سیریز میں کچھ کھلاڑیوں کا ڈ بیو ہو تاہم یہ تجربہ زیادہ تر اوپننگ اور فاسٹ بالنگ کے شعبے میں ہی ہو گا۔
عام طور پر ملکی سیریز میں سکواڈ میں دو وکٹ کیپر نہیں ہوتے لیکن اس سکواڈ میں کامران اکمل کے علاوہ وکٹ کیپر سرفراز احمد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں صلاح الدین صلو نے کہا کہ سرفراز احمد نے انڈیا میں اچھی کیپنگ کی تھی اور ہم نے انہیں ریزرو وکٹ کیپر کے طور پر رکھا ہے اور یہ سلیکشن کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ ہے۔ صلاح الدین صلو نے کہا کہ وہ کپتان شعیب ملک کی فٹنس سے مطمئن ہیں کیونکہ انہوں نے اس سلسلے میں ٹیم کے ٹرینر ڈیوڈ ڈائر اور ڈاکٹر سے معلومات لی ہیں وہ کھیلنے کے لیے بالکل فٹ ہیں۔ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ اس ٹیم سے انہیں بہت توقعات ہیں اور یقین ہے کہ پاکستان کی ٹیم زمبابوے سے پانچوں میچ جیت لے گی۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے انٹرنیشنل اکیس جنوری کو کراچی میں کھیلا جائےگا۔ بقیہ میچز چوبیس جنوری کو حیدرآباد، ستائیس جنوری کو ملتان، تیس جنوری کو فیصل آباد اور دو فروری کو شیخوپورہ میں کھیلے جائیں گے۔ پاکستانی سکواڈ: |
اسی بارے میں زمبابوے کو اننگز کی شکست 17 January, 2008 | کھیل زمبابوے: اننگز کی شکست کا خطرہ16 January, 2008 | کھیل ناصر جمشید کی شاندار سنچری15 January, 2008 | کھیل ٹور میچ ، زمبابوے209 رنز پر آؤٹ14 January, 2008 | کھیل ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا عزم12 January, 2008 | کھیل زمبابوے دورے کے دورانیہ میں کمی07 January, 2008 | کھیل ’زمبابوے نہیں جانا چاہتے‘24 May, 2006 | کھیل زمبابوے: باغی کپتان ٹیم میں واپس25 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||