BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 December, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناکامیوں اور پریشانیوں کا سال

نسیم اشرف
نسیم اشرف بدستور کرکٹ بورڈ کے چئرمین ہیں
سال دو ہزار سات میں ناکامیاں اور پریشانیاں سائے کی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ساتھ لگی رہیں۔ میدان میں خراب کارکردگی سب کے سامنے تھی لیکن میدان سے باہر کی ہنگامہ خیزی بھی کسی سے نہ چھپ سکی۔

اس سال کا سب سے بڑا اور انتہائی افسوس ناک واقعہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی موت تھی جو ویسٹ انڈیز میں منعقدہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے اگلے ہی دن اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔

اس واقعے نے نہ صرف ورلڈ کپ کے باقی ماندہ میچوں کو دھندلا دیا بلکہ اس موت کی تحقیقات کے بدلتے انداز نے شکوک وشبہات کے ختم نہ ہونے والے سلسلے کو جنم دیا۔ اپنے کوچ کی موت نے پاکستانی کرکٹرز کو سخت قسم کی تفتیش اور شکوک وشبہات کے شکنجے میں بری طرح جکڑ دیا۔ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی جمیکن پولیس نے ابتدا میں نہ صرف سے قتل قرار دیا بلکہ قتل کے مختلف طریقے بھی منظرعام پر لائے گئے لیکن بعد میں یہ موت قتل سے تبدیل ہوکر طبعی موت قرار دے دی گئی۔

ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر ملک گیر احتجاج فطری ردعمل تھا۔ مختلف شہروں میں شائقین نے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے پتلے نذرآتش کیے۔

کپتان انضمام الحق نے مایوسی کے عالم میں پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی نہ صرف کپتانی بلکہ ون ڈے کریئر کو خیرباد کہنے کا اعلان کر ڈالا۔

آنجہانی بوب وولمر کی لیے لاہور میں بھی تعزیتی تقریب ہوئی

ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستانی روایات پر عمل کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر ڈالی جس نے صفحات کے صفحات سیاہ کرکے اور موجودہ و سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے بیانات جمع کرکے روایتی قسم کی ایک رپورٹ تیار کردی جس میں ورلڈ کپ کی شکست کی تمام تر ذمہ داری انضمام الحق پر ’آمر اور خود سر‘ جیسے سخت الفاظ کے ساتھ عائد کردی گئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ کے بعد شعیب ملک کو نیا کپتان اور محمد آصف کو نائب کپتان مقرر کردیا، اور آسٹریلیا کے جیف لاسن کو حیرت انگیز طور پر تجربہ کار رچرڈ ڈون اور ڈیو واٹمور پر ترجیح دیتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کردیاگیا۔

آسٹریلیا کے خلاف کامیابی نے اعتماد دیا: شعیب ملک

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نائب کپتانی کے معاملے میں یوٹرن لیتے ہوئے محمد آصف کی جگہ سلمان بٹ اور پھر ان کی جگہ یونس خان کو نائب کپتان بنایا۔
یونس خان نے بھارت میں ان فٹ شعیب ملک کی جگہ دو ٹیسٹ میچوں میں قیادت کی ذمہ داری نبھائی لیکن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے ببانگ دہل یہ کہہ دیا کہ سلیکشن کے معاملات میں ان کی نہیں سنی گئی۔ دورے کے اختتام پر یونس خان نے کہا کہ وہ مستقبل میں اپنی شرائط پرکپتانی کے لیے تیار ہیں لیکن کرکٹ بورڈ نے ان کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے شعیب ملک پر مکمل اعتماد ظاہر کردیا جبکہ کافی تنقید کے باوجود جیف لاسن کی ملازمت بھی بچ گئی۔

پاکستانی ٹیم کی اس سال کی سب سے عمدہ کارکردگی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں رہی جس میں وہ فائنل تک پہنچی جہاں روایتی حریف بھارت نے اسے شکست دی، لیکن اس سال کے دوران ٹیم کی مجموعی کارکردگی بہت ہی خراب رہی۔

مرلی دھرن، سنگاکارا اور واس کے بغیر ابوظہبی میں سری لنکا کو ون ڈے سیریز ہرانے کے بعد اپنے ہر بڑے امتحان میں پاکستانی ٹیم کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

یونس خان مشروط طور پر کپتانی کی لیے رضامند ہیں

ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ میں ایک ٹیسٹ اور ایک ون ڈے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن شعیب ملک کی کپتانی میں پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں میں شکست ہوئی اور پھر بھارت کے خلاف بھی یہی ہوا۔ پاکستانی ٹیم ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد ٹیسٹ سیریز بھی ہارگئی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نےدو ہزار سات میں آٹھ ٹیسٹ کھیلے جن میں سے صرف ایک میں اسے کامیابی حاصل ہوسکی جبکہ چار میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کھیلے گئے اکیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم صرف آٹھ جیت سکی اور بارہ میں اسے شکست ہوئی۔

انفرادی کارکردگی میں یونس خان ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹسمین رہے۔ انہوں نے صرف آٹھ ٹیسٹ میچوں میں تین سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے751 رنز بنائے۔

ون ڈے میں محمد یوسف دو سنچریوں اور نو نصف سنچریوں کی مدد سے 1042 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ بولنگ میں دانش کنریا 37 اور ون ڈے میں راؤ افتخار23 وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر رہے۔

شعیب ملککپتان کا تبصرہ
آسٹریلیا کے خلاف جیت نے ٹیم میں اعتمادپیدا کیا
یونس خانیونس کی نائب کپتانی
کپتانی ٹُھکرانے والے اب نائب کپتان بن گئے
کپتانی سے انکار
ون ڈے میں بھی دلچسپی نہیں: یونس خان
چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرفسابق کرکٹرکوجواب
اشتہار پر تنقید مضحکہ خیز ہے: نسیم اشرف
نسیم اشرفکام کرتے رہیں
صدر نے نسیم اشرف کا استعفی نامنظور کر دیا
ورلڈ کپ میں ہار
نسیم اشرف کو شکست پر افسوس ہے
ڈوپ ٹیسٹ کی تلوار
’شعیب،آصف کے بنا کھیلناسیکھ لینا چاہیے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد