BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 January, 2008, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا عزم

زمبابوے کی ٹیم کے اہلکار
زمبابوے کی ٹیم کراچی میں ایک چار روزہ میچ کراچی کھیل رہی ہے
زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر ہفتے کو جب کراچی پہنچی تو ائرپورٹ پر سخت سکیورٹی انتظامات اس کے منتظر تھے تاہم مہمان ٹیم کا زور سکیورٹی کے بجائے عمدہ کارکردگی دکھاکر کھوئے ہوئے ٹیسٹ مقام کو دوبارہ حاصل کرنے پر تھا۔

زمبابوین کرکٹ کے سربراہ پیٹر چنگو کا جو ٹیم کے ساتھ پاکستان آئے ہیں کہتے ہیں کہ ان کی نظریں ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی ٹیم کی واپسی پر مرکوز ہیں۔ پاکستان کے دورے میں کھیلا جانے والا چار روزہ میچ زمبابوے کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

پیٹرچنگوکا نے کہا ہے کہ سکیورٹی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں مکمل یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد انہیں اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کرکٹ جاری رہنے چاہیئے۔

زمبابوے کی ٹیم کے کپتان پراسپر اتسیا نے دورے کی پہلی پریس کانفرنس میں اپنی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چار روزہ میچوں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ان میچوں میں اچھی کارکردگی اور نتائج زمبابوے کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی میں مددگار ثابت ہونگے۔

زمبابوے کی ٹیم کو پاکستان کے دورے میں دو فرسٹ کلاس میچز کھیلنے تھے لیکن نظرثانی شدہ پروگرام میں وہ ایک چار روزہ میچ کراچی میں کھیل رہی ہے۔
اتسیا سے جب پاکستانی ٹیم کے ممکنہ کلین سوئپ کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر زمبابوے کی ٹیم ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کو ہراسکتی ہے تو وہ کسی بھی دوسری ٹیم کوشکست دے سکتی ہے۔

واضح رہے کہ زمبابوے نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے ہرایا تھا اور گزشتہ ماہ اس نے ویسٹ انڈیز کو بھی پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں شکست دی تھی۔

ٹیم کے سفید فام کوچ رابن براؤن نے کہا کہ ٹیم کی حالیہ کارکردگی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اس مقام کو جلد دوبارہ حاصل کرلے گی جو سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں اسے حاصل تھا۔

رابن براؤن جنہوں نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے ٹیم کی کوچنگ سنبھالی ہے کہا کہ ٹیم کو تجربے کے لیے زیادہ سے زیادہ کرکٹ کی ضرورت ہے۔ جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے چار روزہ میچوں میں ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ ان میچوں میں ولیمز۔ اتسیا اور تائبو نے سنچریاں بھی بنائیں اور انہیں امید ہے کہ پاکستان میں بھی ان کے کھلاڑی اچھا کھیل پیش کرینگے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے زمبابوے کے خلاف پیر سے کراچی میں شروع ہونے والے چار روزہ میچ کے لیے مقامی ٹیم کی قیادت آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے سپرد کی ہے۔

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے انٹرنیشنل اکیس جنوری کو کراچی میں کھیلا جائےگا۔ بقیہ میچز چوبیس جنوری کو حیدرآباد، ستائیس جنوری کو ملتان، تیس جنوری کو فیصل آباد اور دو فروری کو شیخوپورہ میں کھیلے جائیں گے۔

یونس خانکپتانی قبول لیکن۔۔
یونس اختیارات کے ساتھ کپتانی پر رضامند ہیں
نسیم اشرف ’ناکامیوں کا سال‘
2007ء پاکستانی کرکٹ کیلیے مایوس کن رہا
سیبانداورلڈ کپ تیسرا دن
آئرلینڈ اور زمبابوے کے میچ کی جھلکیاں
کالیستیز ترین نصف سنچری
ژاک کالیس نے تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ بنایا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد