کپتانی کے لیے مشروط آمادگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سینیئر بیٹسمین یونس خان نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اختیارات کے بغیر یہ ذمہ داری قبول نہیں کریں اورگیند اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ کی بہتری کو مقدم سمجھتے ہوئے کیا فیصلہ کرتا ہے۔ یونس خان نے بھارت سے وطن واپسی پر بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کھل کر بھارت کے دورے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ وہ کپتانی اور نائب کپتانی میں کبھی بھی دلچسپی نہیں لی لیکن کولکتہ ٹیسٹ نے ان کی سوچ بدل کر رکھ دی ہے اور اب اگر انہیں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے لیے کہا گیا تو وہ اس پیشکش کو قبول کرلیں گے۔ یونس خان نے کہا کہ کولکتہ ٹیسٹ سے بدترین صورتحال ان کے کریئر میں اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی جہاں گیارہ کطلاڑیوں کی ٹیم ترتیب دینا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ان حالات میں کپتانی کرسکتے ہیں تو پھر کسی بھی صورتحال میں قیادت ان کے لیے مشکل نہیں لہذا انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر ٹیسٹ ٹیم کے لیے انہیں کپتان بناتا ہے تو وہ انکار نہیں کریں گے۔ تاہم یونس خان نے یہ واضح کردیا کہ وہ بے اختیار کپتان بننے کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گیند پاکستان کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ہے کہ وہ کیا سوچتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔ یونس خان نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی کسی کوچ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ٹیم کی رہنمائی کرسکے۔ پاکستانی ٹیم کے تجربہ کار بیٹسمین نے کہا کہ اوپننگ، فٹنس اور فیلڈنگ کے مسائل کھل کر بھارتی دورے میں سامنے آئے ہیں۔’ون ڈے میں ایک آل راؤنڈر کی شدید ضرورت ہے جو رنز بھی بنائے اور وکٹیں بھی حاصل کرے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی مستقل مزاجی کا فقدان دکھائی دیا۔اگر فاسٹ بولرز اچھی بولنگ کر رہے تھے تو دانش کنیریا سے انہیں مدد نہیں ملی اور جب کنیریا اچھی بولنگ کررہے تھے تو فاسٹ بولرز کہیں دکھائی نہیں دیے۔‘ یونس خان نے کہا کہ ان کی بین الاقوامی کرکٹ دو تین سال رہ گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جب کرکٹ سے رخصت ہوں تو نئے لڑکوں کو تیار کرکے جائیں اور کئی دوسرے کپتانوں کی طرح صرف باتیں کرکے نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کپتانی میں تیار ہونے والے کرکٹرز ان کے جانے کے بعد بھی سات آٹھ سال تک کھیلتے رہے اور اسی طرح چند کرکٹرز راشد لطیف نے تیار کیے۔ یونس خان نے کہا کہ بھارت کے دورے میں پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے مواقع ملے لیکن وہ گنوا دیےگئے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک بولر اور ایک بیٹسمین سے میچ نہیں جیتے جاتے، وقت آگیا ہے کہ ہر کرکٹر اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ورنہ پاکستانی کرکٹ جہاں ہے اس سے بھی نیچے چلی جائے گی۔‘ |
اسی بارے میں شعیب آخری ٹیسٹ سے بھی باہر06 December, 2007 | کھیل کولکتہ ٹیسٹ بغیر ہار جیت کے ختم04 December, 2007 | کھیل ان فٹ گل کے متبادل یاسرعرفات29 November, 2007 | کھیل ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں: یونس25 August, 2007 | کھیل یونس پاکستان کے نئے نائب کپتان31 October, 2007 | کھیل یونس خان دوبارہ کپتان بنادیئے گئے07 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||