BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 January, 2008, 04:26 GMT 09:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ردعمل فطری لیکن طریقہ غلط: مانی

امپائر سٹیو بکنر
بھارت کو سوچنا چاہیے کہ امپائر جان بوجھ کر غلط فیصلے نہیں کرتے اور سڈنی ٹیسٹ میں بھی یہی ہوا:مانی
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی کو اس بات پر اعتراض ہے کہ سڈنی ٹیسٹ میں امپائرنگ کے فیصلوں کے خلاف بھارتی کرکٹ بورڈ نے احتجاج کا جو طریقۂ کار اپنایا ہے وہ درست نہیں۔

احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امپائرنگ کے بارے میں تمام قوانین آئی سی سی رکن ممالک کے باہمی اتفاق کے بعد نافذ کرتی ہے جسے بعد میں چیلنج کرنا حیران کن ہے۔

اپیل کا حق
 جب وہ آئی سی سی کے صدر تھے تو یہ تجویز دی تھی کہ ہر ٹیم کو تھرڈ امپائر سے تین اپیلوں کا حق دیا جائے لیکن بھارت سمیت کئی ممالک نے یہ تجویز یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ انہیں امپائروں کے تمام فیصلے قابل قبول ہونگے۔
مانی
احسان مانی نے کہا کہ بھارت نے سڈنی ٹیسٹ میں امپائرنگ اور میچ ریفری کے فیصلے کو عوام میں جس طرح اچھالا وہ کھیل کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اس معاملے سے نمٹنے کے دوسرے طریقے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی رولنگ اور میچ ریفریوں کے خلاف اپیل کرنے کے معاملے میں بھارت کا ریکارڈ رہا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے میچ ریفری مائیک ڈینس کے خلاف بھارتی کرکٹ بورڈ کے شدید ردعمل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ آئی سی سی کے صدر بنے تو یہ معاملہ زوروں پر تھا اور انہوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو مائیک ڈینس کے خلاف ریفرنس واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔

احسان مانی نے کہا کہ بھارت کو یہ سوچنا چاہیے کہ امپائروں کے فیصلے جان بوجھ کر نہیں ہوتے اور سڈنی ٹیسٹ میں بھی یہی ہوا۔

آئی سی سی کے سابق صدر نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں شائقین کا ردعمل فطری ہوتا ہے جسے میڈیا بھی اچھالتا ہے تاہم جب بورڈ آفیشل اور سیاستدان اِس میں ملوث ہوجائیں تو پھر انہیں سوچنا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں کسی کو کوئی اعتراض ہے تو تبدیلی کا بھی طریقہ موجود ہے۔

امپائرنگ اور ٹیکنالوجی
 ہرمیچ میں کچھ فیصلےغلط ہوتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی نےسب کچھ سب کے سامنے کردیا ہے۔ غلطیاں پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن وہ نظر نہیں آتی تھیں۔
احسان مانی کا کہنا ہے کہ یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ تمام ممالک امپائرنگ کے معاملات میں آئی سی سی کے اجلاس میں اتفاق ظاہر کرتے ہیں لیکن جب ٹیم پر اسکا اثر پڑتا ہے تو اس ملک کا لہجہ بدل جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ آئی سی سی کے صدر تھے تو یہ تجویز دی تھی کہ ہر ٹیم کو تھرڈ امپائر سے تین اپیلوں کا حق دیا جائے لیکن بھارت سمیت کئی ممالک نے یہ تجویز یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ انہیں امپائروں کے تمام فیصلے قابل قبول ہونگے۔

آسٹریلیا کے سابق کپتان اسٹیو وا کی جانب سے غیرجانبدار امپائروں کی تعیناتی کو ختم کرنے سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے احسان مانی نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کوئی ہوم ٹیم کی طرفداری کا الزام عائد نہیں کرتا، الزام عائد کیا جاتا ہے امپائرنگ کے معیار کا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بکنر کی جگہ ٹافل امپائر ہوتے اور ان سے غلطیاں سرزد ہوتیں تو کیا بھارت یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو فائدہ پہنچایا؟ انہوں نے کہا کہ ہرمیچ میں کچھ فیصلےغلط ہوتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی نےسب کچھ سب کے سامنے کردیا ہے۔ غلطیاں پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن وہ نظر نہیں آتی تھیں۔

وریندر سہواگ’مقابلہ سخت ہوگا‘
کیا انڈیا آسٹریلیا کی کامیابی کا سلسلہ روکےگا
انیل کمبلےجیت کی امید
انیل کمبلے کا کہنا ہے کہ سیریز جیتنی ہے۔
ہربھجنہربھجن کے دعوے
انڈیا ویسٹ انڈیز میں جیتےگا: ہربھجن
ہربھجن کواجازت ہے
آئی سی سی نے باؤلنگ کی اجازت دے دی ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد