مرلی جیسا ’دوسرا‘ کہاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرلی دھرن کے لئے ایک کے بعد ایک سنگ میل تک پہنچنا اور وکٹوں کی تعداد کو بڑھاتے ہوئے نئے ریکارڈز اپنے نام کرا لینا معمول کا کام معلوم ہوتا ہے۔ آسٹریلوی لیگ سپنرشین وارن نے جب اس سال ایشز میں اپنے ٹیسٹ کرئیر کا اختتام سات سو آٹھ وکٹوں پر کیا تھا تو یہ بات سبھی جانتے تھے کہ ان کا یہ عالمی ریکارڈ زیادہ دیر تک سری لنکن آف سپنر سے نہیں بچ سکےگا، سو وہ انگلینڈ کے خلاف کینڈی ٹیسٹ میں مرلی دھرن کا ہوگیا۔ مرلی دھرن کی بین الاقوامی کرکٹ دھوپ چھاؤں کی طرح رہی ہے۔ اپنے کریئر میں مرلی دھرن نے تالیوں اور ڈھول تاشوں کی گونج بھی سنی ہے اور ان کے کانوں سے ’ نو‘ کی ناپسندیدہ صدا بھی ٹکرائی ہے جس نے ان کے کریئر پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان لگائے رکھے ہیں۔ چمکتی آنکھوں سے حریف بیٹسمینوں کو گیند کرنے سے پہلے ہی مرعوب کردینے والے مرلی دھرن پر سب سے بڑا اور شدید اعتراض ان کے بولنگ ایکشن کا رہا ہے۔ بازو کے غیرمعمولی خم کے سبب وہ امپائر برادری کی کڑی نظر میں رہے ہیں۔ ان میں سے دو نے انہیں ’چکر‘ قرار دے کر جیسے مجرموں کے کٹہرے میں بھی لا کھڑا کر دیا۔ سب سے پہلے انیس سو پچانوے میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے مرلی دھرن کے بولنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیا ۔ تین سال بعد آسٹریلیا ہی میں کھیلتے ہوئے مرلی دھرن کو اسی طرح کی صورتحال کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب آسٹریلوی امپائر راس ایمرسن نے ڈیرل ہیئر کی تقلید کرتے ہوئے مرلی دھرن کے بولنگ ایکشن پر ’نو‘ کی صدا بلند کی۔ سری لنکن کپتان ارجنا رانا تنگے کے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت تھا اور وہ ایمرسن کے اس فیصلے کو نہ مانتے ہوئے پوری ٹیم کو میدان سے باہر لے گئے۔
سری لنکن کرکٹ بورڈ نے مرلی دھرن کے بولنگ ایکشن کو جائز اور قانونی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور مختلف طبی معائنوں سے یہ بات سامنے آئی کہ مرلی دھرن کا بازو پیدائشی طور پر مختلف ہے تاہم تین سال قبل مرلی دھرن کے لئے یہ ایک اور دھچکہ تھا کہ ان کی مخصوص گیند ’دوسرا‘ پر آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ نے اعتراض کردیا اور مرلی دھرن پر پابندی عائد کردی گئی کہ وہ ’دوسرا‘ کا استعمال نہیں کریں گے۔ یہ گیند مرلی دھرن آف سپن کے ایکشن میں کراتے ہیں لیکن وہ دائیں ہاتھ کے بیٹسمین کی طرف اندر آنے کے بجائے لیگ سپن کے انداز میں باہر کی طرف نکل جاتی ہے۔ دو آسٹریلوی امپائرز کی طرف سے بولنگ ایکشن پر اعتراض اور سب سے بڑھ کر آسٹریلوی میدانوں میں تماشائیوں کے کڑوے کسیلے فقروں کے بعد مرلی دھرن کو یہ مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ وہ آسٹریلیا نہ جائیں۔ مشورہ دینے والوں میں نہ صرف ان کے سابق کپتان رانا تنگے بلکہ مرلی کی والدہ بھی شامل رہی ہیں تاہم مرلی آسٹریلیا جاکر کھیلتے رہے ۔ تاہم وہ آسٹریلوی وکٹوں پر اپنی بولنگ کا جادو جگانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ سری لنکا کے سابق کرکٹر اور آجکل کمنٹری سے وابستہ رنجیت فرنینڈو کا کہنا ہے کہ بولنگ ایکشن کے معاملے نے مرلی دھرن کو کمزور نہیں کیا ہے بلکہ اس سے ان کے حوصلے بلند ہی ہوئے ہیں۔ خود مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے کبھی بھی نہیں گھبرائے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ ان کا بولنگ ایکشن درست ہے اور وہ کوئی بھی غلط کام نہیں کر رہے ہیں۔
بھارت کے سابق کپتان بشن سنگھ بیدی مرلی دھرن کے زبردست ناقدین میں شامل ہیں اور وہ انہیں صاف بولنگ ایکشن والا بولر تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جب ان سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ مرلی دھرن کی بولنگ پر آپ کی کیا رائے ہے تو بیدی نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’پہلے مرلی کو بولنگ تو کرنے دو۔‘ مطلب یہ ہے کہ مرلی جو کر رہے ہیں وہ بولنگ نہیں ہے۔ اسی طرح آسٹریلوی بیٹسمین بھی نفسیاتی حربے کے طور پر مرلی کے بولنگ ایکشن کے بارے میں بیانات دیتے رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر عالمی کرکٹ مرلی دھرن کو ایک ورلڈ کلاس بولر کے روپ میں دیکھتی ہے۔ انضمام الحق، ژاک کالس اور برائن لارا جیسے بیٹسمین مرلی کی پُرفریب گیندوں کو اعتماد سے کھیلنے کے لئے مشہور رہے ہیں اور مرلی کی غیرمعمولی صلاحیتوں کے معترف رہے ہیں۔ مرلی دھرن کی سات سو سے زائد وکٹوں میں زیادہ تر ایسی ہیں جو انہوں نے اپنے ملک میں حاصل کی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ سری لنکا سے باہر کامیاب نہیں رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے علاوہ ہر جگہ مرلی کامیاب نظر آتے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ ہو یا پاکستانی میدان، یا پھر ویسٹ انڈیز مرلی دھرن نے اپنی عمدہ بولنگ سے سری لنکا کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مرلی دھرن کو فٹنس مسائل بھی اپنے شکنجے میں کستے آئے ہیں جن پر قابو پاتے ہوئے وہ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ دو تین سال بعد یہ سفر ختم کرنے کی گھڑی آجائے لیکن یہ بات طے ہے کہ مرلی دھرن کی جتنی بھی کرکٹ باقی رہ گئی ہے اس میں وہ اپنی وکٹوں کی تعداد کو وہاں تک لے جائیں گے کہ ان کے بعد آنے والے بولرز کے لئے اس تک رسائی بہت ہی مشکل ہوجائے گی اور عالمی کرکٹ کو مرلی کا ریکارڈ توڑنے کے لئے ایک اور مرلی کو سامنے لانا ہوگا۔ |
اسی بارے میں مزید3 سال کھیلوں گا، مرلی دھرن08 April, 2006 | کھیل کرکٹ کا چمکتا ستارہ: مرلی دھرن06 June, 2006 | کھیل عالمی کپ میں فتح، مرلی کا خواب27 April, 2007 | کھیل مرلی دھرن: سات سو وکٹیں اور۔۔۔؟14 July, 2007 | کھیل شین وارن ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر20 December, 2006 | کھیل شین وارن کا عروج و زوال21 December, 2006 | کھیل شین وارن کی وکٹیں، سات سو 26 December, 2006 | کھیل وارن، میگرا اور لینگر ریٹائر ہوگئے05 January, 2007 | کھیل بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||