شین وارن کا عروج و زوال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ کی دنیا میں شین وارن کو کتنی مقبولیت حاصل ہے، اس کا اندازہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ان کی پریس کانفرنس کی ایک جھلک دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ جونہی وارن مائیک کے سامنے آ کر بیٹھے تو درجنوں کیمروں کے فلیش نے ماحول میں جلتے بجھتے ستاروں کا سماں پیدا کر دیا۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے میڈیا کے نمائندوں میں اپنے اپنے سوالات کے جواب جاننے کے لیے ایک دھینگا مشتی دیکھنے کو ملی۔ شین وارن اپنے کیریئر میں اس بلندی تک پہنچے ہیں جہاں تک ڈونلڈ بریڈمن، ایئن بوتھم اور وِون رچرڈز جیسے عظیم کرکٹر پہنچے۔ کرکٹ میں کم دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی ان کھلاڑیوں کے کمالات سے آشنا تھے۔ وارن درحقیقت انہی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 699 وکٹوں کے ساتھ ٹیسٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بالر ہیں اور اس فہرست میں تیسرے نمبر پر آنے والے انہی کے ہم وطن بالر گلین میک گراتھ ان سے ایک سو چوالیس وکٹیں پیچھے ہیں۔ شین وارن یقیناً دو ہزار چھ کی ایشز سیریز کا اختتام تاریخ کے بہترین بالر کے اعزاز کے ساتھ کریں گے۔ شین وارن نے انیس سو ترانوے میں خود کو دنیا سے ایک ایسی بال کے ساتھ متعارف کروایا جس پر انگلینڈ کے بلے باز مائیک گیٹنگ کی وکٹ اڑی اور ان کی یہ بال صدی کی بہترین بال قرار پائی۔ اس طرح میلبورن میں پیدا ہونے والے اس کھلاڑی نے ٹیسٹ کرکٹ میں کئی دہائیوں سے فاسٹ بالنگ کو اٹیک کے طور پر استعمال کرنے کے نظریات کو غلط ثابت کیا اور سپن بالنگ کو ٹیسٹ میچ میں اولین جگہ دینے کے رواج کی بنیاد رکھی۔
وارن نے آسٹریلیا کی چھ ایشز سیریز میں لگاتار جیت میں اہم کردار ادا کیا اور کرکٹ کے ’وزڈن‘ جیسے شہرۂ آفاق جریدے نے انہیں بیسویں صدی میں کرکٹ کے پانچ بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ اب بھی وہ دوہزار چھ کی ایشز سیریز میں آسٹریلیا کی ایسی ٹیم کا حصہ ہیں جو انگلینڈ کو تمام میچوں میں شکست دے کر ایشز کی پچاسی سالہ تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ شین وارن کی شخصیت وکٹیں گرانے والے ایک بالر سے کہیں زیادہ ہے۔ میدان میں ان کے زندہ دل رویے اور میڈیا کی سرخیوں میں آنے والے اندازِ زندگی نے بھی ان کی شہرت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انیس سو ستانوے میں بھاری بھرکم وارن ایشز سیریز جیتنے کے بعد ایک سٹمپ ہاتھ میں پکڑے ڈانس کرتے ہوئے نظر آئے۔ تمباکو نوشی کے شوقین ہونے کے باوجود انہوں نے تمباکو نوشی چھوڑنے میں مدد دینے والی نکوٹین کی پٹیوں کی ایک کمپنی کی سپانسر شپ کا معاہدہ کیا۔ بعد میں جب ایک فوٹو گرافر نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وارن کی تصاویر لیں تو انہوں نے اس فوٹو گرافر کو ڈرایا دھمکایا۔ شین وارن کے گولڈن بال بھی کرکٹ کی انتظامیہ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنے کیونکہ ان بالوں کی وجہ سے وہ اپنے کیرئر کے آغاز میں ہی ’ہالی وڈ‘ کا لقب ملا۔ ان کا نام ہی اتنا بڑا ہے کہ ان کے بارے میں اچھی خبروں کے ساتھ ساتھ بری خبر کے آنے میں دیر نہیں لگتی۔ لیکن شین وارن کی عادت ہے کہ وہ اپنے بارے میں بری خبروں میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔ انیس سو اٹھانوے میں یہ خبریں گرم ہوئیں کہ شین وارن اور مارک وا کے ہمراہ سری لنکا کے دورے کے دوران ایک بھارتی سٹے باز کے ساتھ میچ فکسنگ کے جرم میں جرمانہ کیا گیا تھا۔
دو ہزار میں جب انہیں ہیمپشائر کاؤنٹی کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ خبر منظرِ عام پر آئی کہ شین وارن نے ایک بائیس سالہ نرس کو نازیبا قسم کے ٹیکسٹ میسج بھیجے ہیں۔ دو ہزار چار میں سٹیو وا کے ریٹائر ہونے کے بعد آسٹریلوی ٹیم کا کپتان چنتے ہوئے شین وارن کو نظر انداز کیا گیا اور اس سے قبل ان سے وائس کپتانی بھی واپس لے لی گئی۔ یہ صرف اس لیے ہوا کہ شین وارن میدان سے باہر قابلِ تنقید سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ دو ہزار تین کے ورلڈ کپ سے ایک شام پہلے شین وارن پر ایک سال کے لیے ہر سطح پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی کیونکہ اسی شام ان کے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آ گئے۔ ان کے خون میں ملنے والی ممنوعہ دوا کو عام طور پر کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن شین وارن کا مؤقف ہے کہ یہ دوا اس گولی میں شامل تھی جو ان کی ماں نے انہیں اس لیے دی کہ وہ ٹی وی پر سمارٹ نظر آئیں۔ جس وقت شین وارن پر پابندی لگائی گئی اس وقت ان کا کیرئر کندھے کی پانچ سالہ تکلیف کی وجہ سے زوال پذیر ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ پابندی لگنے سے یہی تاثر ملا کہ شین وارن کا کرکٹ کیرئر ختم ہو گیا ہے لیکن وہ واپس آئے اور کرکٹ پر پہلے سے بھی زیادہ چھا گئے۔پابندی سے پہلے انہوں نے چار سو اکانوے وکٹیں حاصل کی تھیں یعنی ہر ٹیسٹ میں ان کی اوسط وکٹوں کی تعداد چار سے کچھ زیادہ تھی۔ جب وہ پابندی کی معیاد پوری کرکے واپس آئے تو انہوں نے تین سال سے بھی کم عرصے میں دو سو آٹھ ٹیسٹ وکٹیں لیں یعنی ان کی اوسط فی میچ پانچ وکٹوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔
جسمانی صلاحیتوں میں کمی کے خطرے کو جانچتے ہوئے وارن نے ناصرف اپنا وزن کم کیا بلکہ نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے انہوں نے اپنے تجربے اور چالاکی کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان ایشز سیریز میں ان کی طرف سے ایل بی ڈبلیو کی پے در پے اپیلوں نے جہاں ان کے رویے کو غیر قانونی حدوں کے نزدیک پہنچایا وہیں یہ اپیلیں انہیں سات سو ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے واحد کھلاڑی کے اعزاز کے نزدیک بھی لے گئیں۔ شین وارن اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سوئنگ، سپن کرانے والی مشین07 October, 2006 | کھیل بھارت کو آئی سی سی کی وارننگ 17 January, 2006 | کھیل شین وارن کی چھ سو وکٹیں11 August, 2005 | کھیل شین وارن زخمی ہو گئے02 November, 2004 | کھیل وارن نے عالمی ریکارڈ برابر کر دیا13 July, 2004 | کھیل ’مرلی ہزار وکٹیں لے سکتے ہیں‘14 April, 2004 | کھیل شین وارن ورلڈ کپ سے باہر | کھیل ’ون ڈے نہیں کھیلوں گا‘ | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||