BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 April, 2007, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’روشن ترین ستارہ بھی، بدترین حادثہ بھی‘

برائن لارا
مبصرین برائن لارا کو پچھلے بارہ پندرہ برسوں میں کرکٹ کا سب سے بہترین بیٹسمین قرار دیتے ہیں
عالمی کرکٹ کپ کی میزبان ٹیم ویسٹ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کھا کر اگر ایک طرف عالمی کپ کے سیمی فائنل کی دوڑ سے تقریباً یقینی طور پر باہر ہوگئی تو دوسری طرف محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ میچ کپتان برائن لارا کے مستقبل کے لیے بھی فائنل ثابت ہوا ہے۔

لارا کو زیادہ تر مبصرین پچھلے بارہ پندرہ برسوں میں کرکٹ کا سب سے بہترین بیٹسمین قرار دیتے ہیں اور کیوں نہ دیں کہ لارا کرکٹ کی تاریخ میں سچن تندولکر کے سوا وہ واحد بیٹسمین ہیں جنہوں نے ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ دونوں میں دس ہزار سے زیادہ رن اسکور کیے۔ اور لارا ہی وہ واحد بیٹسمین ہے جنہیں دو مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن اسکور کرنے کا ریکارڈ توڑا ہے۔

لیکن لارا ہی کم از کم ویسٹ انڈیز کے وہ واحد کرکٹر بھی ہیں جو تین مرتبہ ٹیم کے کپتان مقرر کیے گئے ہیں۔

بہت سے مبصرین دلائل کے ساتھ اس بات کا تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر ایک طرف برائن لارا گزشتہ پندرہ سترہ برسوں میں ویسٹ انڈین کرکٹ کا روشن ترین ستارہ رہے ہیں تو دوسری طرف لارا ہی ناقدین کے بقول ویسٹ انڈین کرکٹ کو پیش آنے والا بدترین حادثہ بھی ہیں۔

لارا کے کیرئیر کا آغاز سن انیس سو نوے اکیانوے میں ہوا اور فوراً ہی برائن لارا نے اپنی کارکردگی سے ٹیم میں مستقل جگہ بنالی۔

یہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کا وہ دور تھا جب ستر اور اسی کی دہائیوں میں اس ٹیم کے کھلاڑی ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے تھے۔ جو کھیل کی تاریخ کی مضبوط ترین ٹیم کہی جاتی ہے اور جو کلائیو لائیڈ، ویوین رچرڈز اور گورڈن گرینیج جیسے کھلاڑیوں کی کپتانی میں کھیلتی تھی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کھیل کی تاریخ کی مضبوط ترین ٹیم کہی جاتی ہے اور جو کلائیو لائیڈ، ویوین رچرڈز اور گورڈن گرینیج جیسے کھلاڑیوں کی کپتانی میں کھیلتی تھی۔

سن اکیانوے میں ڈیسمنڈ ہینز کی بحیثیت کپتان اور کھلاڑی ریٹائرمنٹ کے بعد ویسٹ انڈیز کا وہ دور شروع ہوا جسے بہت سے لوگ لارا کا دور کہتے ہیں حالانکہ اس کا آغاز رچی رچرڈسن کی کپتانی میں ہوا تھا۔

انگلستان برائن لارا کے کیرئیر میں کئی لحاظ سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

لارا کے کیرئیر میں سن انیس سو چورانوے کا سال دو لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اسی میں لارا نے ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور کے ریکارڈ قائم کیے۔

اینٹیگا میں انگلستان کے خلاف کھیلتے ہوئے لارا نے تین سو پچھتر رن اسکور کر کے سرگیری سوبرز کا کئی عشروں پرانا تین سو چوہتر رن کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا ریکارڈ توڑ دیا۔

اسی برس لارا نے انگلستان کی کاؤنٹی وارکشائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے پانچ سو ایک رن بناکر فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا نیا ریکارڈ بھی قائم کردیا۔

اور پھر دس برس بعد انگلستان کے ہی خلاف اینٹیگا میں کھیلتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے اس جادوئی کرکٹر نے چار سو رن بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن کا ریکارڈ ایک بار پھر توڑ دیا جو کچھ ہی عرصہ پہلے آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے تین سو اسی رن کے ساتھ لارا کے ہی ریکارڈ کی جگہ قائم کیا تھا۔

روشن ستارہ بھی، بدترین حادثہ بھی
 مبصرین دلائل کے ساتھ اس بات کا تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر ایک طرف برائن لارا گزشتہ پندرہ سترہ برسوں میں ویسٹ انڈین کرکٹ کا روشن ترین ستارہ رہے ہیں تو دوسری طرف لارا ہی ناقدین کے بقول ویسٹ انڈین کرکٹ کو پیش آنے والا بدترین حادثہ بھی ہیں۔
مبصر

لیکن ناقدین کے مطابق ویسٹ انڈیز کی موجودہ مشکلات کا آغاز لارا کے انتہائی عروج کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا۔

سن انیس سو چورانوے میں لارا کی طرف سے سب سے زیادہ رن کے نئے عالمی ریکارڈ کے ساتھ ہی لارا کو ویسٹ انڈیز میں ایک دیوتا کا سا درجہ حاصل ہوگیا تھا اور وہ مقبولیت کے اس مقام پر تھے جو جدید ویسٹ انڈیز کرکٹ میں شائد سر ویوین رچرڈز کے سوا کسی کو نہیں مل پایا ہے۔

اس تناظر میں اگلے برس جب ویسٹ انڈین ٹیم انگلستان کے دورے پر گئی تو وہاں لارا اور کپتان رچی رچرڈسن کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور برائن لارا نے دورے میں کھیلنے سے انکار کر دیا اور سرے سے ہی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کردیا۔

واقفان حال کے مطابق لارا کا مطالبہ کپتانی کا تھا اور اس کے لیے لارا نے کھلاڑیوں میں ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔

بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ اس سیریز کے دوران کرکٹ میں جمہوریت کا تجربہ کیا گیا لیکن سوائے لارا، تمام کھلاڑیوں نے متفقہ طور پر رچی رچرڈسن کو لارا پر ترجیح دی تھی جس کے بعد ہی لارا ناراض ہوکر سیریز سے الگ ہوئے تھے۔

لارا کی فارم اور بیٹنگ لائن میں ان کی نودریافت اہمیت کے پیش نظر اس وقت کے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے سربراہ پیٹر شارٹ ہنگامی طور پر انگلستان آئے اور بمشکل برائن لارا کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرسکے۔

یہ سیریز لارا کے لیے بہترین ثابت ہوئی لیکن اس کے نتیجےمیں پیداہونے والے تنازعات سے دلبرداشتہ ہو کر کپتان رچی رچرڈسن مستعفی ہوگئے۔

گو لارا کے ایک مدمقابل سیریز کے نتیجے میں ٹیم میں نہ رہے تاہم لارا کو کپتانی کے لیے مزید تین برس انتظار کرنا پڑا۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے خیال میں اسی سیریز سے کھلاڑیوں کے باہمی تعلقات میں جو دراڑ پڑی وہ آج تک بھی برقرار ہے۔

لارا کو پہلی بار سن انیس سو اٹھانوے میں کپتان مقرر کیا گیا اور اسی برس انہیں کپتانی سے برطرف بھی کردیا گیا

لارا کو پہلی بار سن انیس سو اٹھانوے میں کپتان مقرر کیا گیا اور اسی برس بہت خراب نتائج اور ٹیم میں شدید نااتفاقی کی بدولت انہیں کپتانی سے برطرف بھی کردیا گیا۔

اگلے برس لارا کو پھر کپتان بنایا گیا اور اس کے اگلے برس خراب نتائج کی ہی بناء پر لارا نے خود ہی کپتانی چھوڑ دی۔

لارا کو تیسری مرتبہ گزشتہ برس کے وسط میں کپتان مقرر کیا گیا۔ اس بار بھی بطور کپتان ان کی کارکردگی ایک بار پھر ویسٹ انڈیز میں شدید تنقید کا ہدف ہے اور لارا نے ایک بار پھر اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے اور غالب امکان یہ بھی ہے کہ وہ کپتانی سے بھی دستبردار ہوجائیں گے۔

لارا اڑتیس برس کے ہوچکے ہیں اور ان کا بلا ابھی تک رن اگل رہا ہے حالانکہ بہت کم کھلاڑی اس عمر تک کھیل جاری رکھتے ہیں۔ خود لارا کے بقول ایک روزہ کرکٹ سے علیحدگی کے باوجود وہ چالیس برس کے ہونے کے بعد بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

وہ چاہے جب تک ٹیسٹ کرکٹ جاری رکھیں، اس بات پر بہرحال کوئی شبہ نہیں ہے کہ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ میں بطور کپتان لارا اپنی تمام تر خواہشات کے باوجود کوئی بڑا مقام نہ پا سکے ہیں۔ تاہم اس سے ان کے ایک عظیم بیٹسمین ہونے کا مقام ذرا بھی متاثر نہیں ہوتا۔

لارا بھی تاریخ کی اسی ستم ظریفی کا ایک اور ثبوت ہیں کہ بڑا اور کامیاب کپتان ضروری نہیں کہ کھلاڑی بھی بڑا ہو یا یہ کہ ایک عظیم کھلاڑی لازماً اچھا کپتان بھی ثابت ہو۔

سچن ٹنڈولکرسچن: مشکل وقت یا؟
مشکل وقت یا صلاحیت ہی ختم ہو رہی ہے؟
لارا کا ورلڈ ریکارڈ
ٹیسٹ میں 11000رن بنانے کا عالمی ریکارڈ
لاراریکارڈ ساز سنچری
لارا نے سر گیری سوبرز کا ریکارڈ توڑ دیا
برائن لاراکامیاب بھی ناکام بھی
لارا بیٹسمین تو اچھے ہیں مگر اچھے کپتان نہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد