BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 March, 2006, 20:49 GMT 01:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ کے رو بہ بازوال طاقتیں
سچن ٹنڈولکر
ٹنڈولکر نے ٹیسٹوں اور ایک روزہ میچوں میں تقریباً پچیس ہزار رنز بنائے ہیں
کچھ عرصے پہلے تک اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ سچن ٹنڈولکر کا اس کے اپنے ہی شہر میں مذاق اڑایا جائے گا۔

لیکن انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں انڈیا کی پہلی اننگ میں اس عظیم بیٹسمین کی ناکامی کے بعد یہی ہوا۔

بھارت کے ایک سابق کپتان اجیت واڈیکر نے اس واقعے پر انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’اگر مجھ جیسے کھلاڑی کے ساتھ ایسا ہو تو کوئی بات نہیں ہے لیکن سچن ٹنڈولکر کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا ’یہ حرکت ان لوگوں نے کی ہے جو کرکٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور صرف پکنک منانے کے لیے سٹیڈیم جاتے ہیں‘۔

اس وقت جن بڑے کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا ہے ان میں ٹنڈولکر اکیلے نہیں ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا اور آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ کو رن بنانے میں دشواریاوں کا سامنا ہے لیکن نہیں کہا جا سکتا ہے کہ انکی یہ مشکل وقتی ہے یا واقعی انکی صلاحیتیں اپنے انجام کو پہنچ چکی ہیں۔

اس سوال کا جواب تو وقت دے گا لیکن یقینی طور پر یہ وقت ان پر انگلیاں اٹھانے کا نہیں بلکہ اس ورثے پر جشن منانے کا ہے جو ان تین عظیم کھلاڑیوں نے کرکٹ کو دیا ہے۔

ان میں سے ایک یا دو یا شاید تینوں ہی آئندہ چند برسوں میں عالمی منظر سے دور ہو جائیں گے اور کرکٹ ان سے محروم ہو جائے گی۔

ذرا مڑ کر پیچھے تو دیکھیں ایسی کامیابیاں کتنے لوگوں کے حصے میں آئی ہیں۔

ٹنڈولکر کو دیکھیں انہوں نے ٹیسٹوں اور ایک روزہ میچوں میں تقریباً پچیس ہزار رنز بنائے ہیں۔

اس بتیس سالہ کھلاڑی نے گزشتہ سولہ سال کے دوران جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ انگلینڈ کے فٹبالر ڈیوڈ بیکھم نے بھی حاصل نہیں کیں۔

لیکن ایک کہنی پر گزشتہ سال لگنے والی چوٹ ان چوٹوں کے سلسلے کی آخری کڑی تھی جس کا ٹنڈولکر کو سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران انہوں نے آٹھ ٹیسٹوں میں 75ء29 کے اوسط سے سکور کیا اور اس دوران صرف ایک سنچری بنائی اور اس پر بھی تماشائی بے صبرے پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

لارا
برائن لارا ریکارڈ بریکنگ 400 ناٹ آؤٹ بنانے کے تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے

اس کے برخلاف لارا بھی 2004 میں انگلینڈ کے خلاف کنگسٹن میں ریکارڈ بریکنگ 400 ناٹ آؤٹ بنانے کے تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے۔

انہوں نے گزشتہ اکتیس اننگز میں 22 بار 50 سے کم رنز بنائے ہیں جب کہ گزشتہ 13 اننگز میں صرف ایک بار نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے چار اننگز میں پانچ، صفر، ایک اور ایک کا سکور کیا لیکن اس کے باوجود بھی بولر ان کے جلد آؤٹ ہونے کا جشن مناتے ہیں۔

ان چار اننگز کے دوران وہ چار مختلف طریقوں سے آؤٹ ہوئے۔ ایک بار پل شاٹ کھیلتے ہوئے، ایک بار بال ان کی ٹانگوں کے پیچھے سے وکٹوں میں چلی گئی، ایک بار وہ سلپ میں کیچ ہوگئے اور بار ڈرائیو کرتے ہوئے پوائنٹ پر کیچ ہوگئے۔

گلکرسٹ اب تک گزشتہ ایششز میں 62ء22 کے ایوریج کی قیمت چکا رہے ہیں۔

گلکرسٹ نے نے حال ہی ایک اخبار کو دیے جانے والےانٹرویو میں کہا کہ ’اگر تین چار بار آپ سکور نہ کر سکیں یا کم کریں تو آپ سوچتے ہیں کوئی بات نہیں ٹھیک کر لیں گے۔ لیکن میرا معاملہ کچھ لمبا ہی ہو گیا ہے اس سے پہلے میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔۔

لیکن اس دوران جب ٹنڈولکر اور گلکرسٹ اپنی گم شدہ فارم کے لوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں دوسرے بیٹسمین نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

راہول ڈراوڈ اور ژاک کیلس بے شک ان کے ہم پلہ نہ ہوں لیکن وہ رن بنانے کی انتھک مشینیں ہیں۔

گلکرسٹ
ایڈم گلرسٹ

آسٹریلن کپتان رکی پونٹنگ ان دونوں سے بھی بہتر ہیں۔ جب بھی ضرورت ہوتی ہے وہ بڑے تحمل سے لمبی اننگ کھیل سکتے ہیں اور اگر کوئی ایسا مرحلہ آ جائے تو اکیلے ہی حریف ٹیم کے حملوں کو ناکام بنا سکتے ہیں جیسے انہوں نے جوہانسبر کے ایک روزہ میچ میں ایک سو چونسٹھ رن بنا کر ثابت کیا ہے۔

اور یوں تو کرکٹ میں کیا ہر کھیل میں ایک وقت آ جاتا ہے جب پرانے کھلاڑیوں کو جگہ خالی کرنی ہی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تندولکر فٹ ہو گئے
30 September, 2005 | کھیل
لارا کا بلا چالو
04 June, 2005 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد