| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمتھ کی سنچری نے ٹیم کو بچایا
ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی سمتھ نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنا کر ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔ سمتھ نے کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے اپنی زندگی کے پہلے ٹیسٹ میں پندرہ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست ایک سو پانچ رنز بنائے۔ وہ اپنے ٹیسٹ کیریئر کے پہلے ہی میچ میں سینچری بنانے والے ویسٹ انڈیز کے گیارویں کھلاڑی بن گئے۔ میچ کے پانچویں روز جب کھیل ختم ہوا تو ویسٹ انڈیز نے تین سو چون رنز بنائے تھے اور اس پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ سمتھ کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے اہم اسکورر کپتان برائن لارا تھے جنہوں نے چھیاسی رنز بنائے۔ سروان نے بھی اپنی ٹیم کی جانب سے انہتر رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ 440 رنز کی برتری کے ساتھ اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ میچ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ کے دو کھلاڑیوں ہرشل گبز اور ژاک کالس نے سنچریاں بنائیں۔ ہرشل گبز نے ایک سو بیالیس رنز بنائے جس میں چار چھکے بھی شامل تھے جبکہ ژاک کالس ایک سو تیس کے سکور پر ٹاٹ آؤٹ ہیں۔ دوسری ناٹ آؤٹ کھلاڑی گیری کرسٹن ہیں جنہوں نے دس رنز بنائے ہیں۔ ژاک کالس جنوبی افریقہ کے تیسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے تین ٹیسٹ میچوں لگاتار تین سینچریاں بنائی ہیں۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ایلن میلویل یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ اس سے پہلے میچ کے تیسرے روز برائن لارا کے ایک سو پندرہ رنز کے باوجود ویسٹ انڈیز کی ٹیم چار سو ستائیس رنز بناکر آؤٹ ہو گئی اور جنوبی افریقہ کو پہلی اننگز میں ایک سو پانچ رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔ میچ کے تیسرے روز کھیل کے اختتام تک جنوبی افریقہ نے اڑتیس رنز بنائے تھے اور اس کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوا تھا۔ اپنی اننگز کے دوران برائن لارا نے نہ صرف اپنی ٹیم کو فالو آن سے بچایا بلکہ کرکٹ کی تاریخ میں نوہزار رنز کے ہدف کو سب سے کم میچوں میں عبور کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ برائن لارا نے اپنی ٹیسٹ کیریئر کے نو ہزار صرف ایک سو ستتر اننگز کھیل کر بنائے جبکہ ٹنڈلکر کو ایسا کرنے کے لئے ایک سو اناسی، گواسکر کو ایک سو بانوے، ایلن بارڈر کو دو سو سات جبکہ سٹیووا کو دوسو سولہ اننگز کھیلنا پڑیں۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے فاسٹ بالر آندرے نیل نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کے اوپنر بلے باز کرس گائل صرف اناسی گیندوں پر سنچری مکمل کر کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین سنچری بنانے والے کھلاڑی بن گئے تھے۔ ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑی سر ووین رچرڈز چھپن گیندوں پر سینچری بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||