بولنگ کمزور نہیں ہے، انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق یہ ماننے کے لیئے ہرگز تیار نہیں کہ وہ کمزور بولنگ اٹیک کے ساتھ انگلینڈ جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی بولنگ اٹیک کمزور نہیں ہے البتہ اس میں تجربے کی کمی ہے۔ پاکستان کی پندرہ رکنی کرکٹ ٹیم اتوار کو انگلینڈ روانہ ہورہی ہے جہاں وہ چار ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے گی۔ شعیب اختر اور رانا نویدالحسن کے ان فٹ ہوجانے کے بعد ٹیم منیجمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سولہویں کھلاڑی کی شمولیت کا فیصلہ رانا نویدالحسن کی اسکین رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ لیگ اسپنر مشتاق احمد ٹیم میں شمولیت کے مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آئے ہیں تاہم انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے موسمی حالات کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر صورتحال تیز بولرز کے لیئے موافق رہی تو ہوسکتا ہے کہ لیفٹ آرم تیز بولر سمیع اللہ نیازی کو موقع دیا جائے۔ اس سے بولنگ اٹیک میں ورائٹی بھی آسکتی ہے۔ انضمام الحق نے یہ بات واضح کردی کہ دانش کنیریا پہلی چوائس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے تو مشتاق احمد کو یہاں بلاکر کیمپ میں شامل کرسکتے تھے لیکن پاکستانی ٹیم جس کنڈیشن میں جاکر کھیلے گی مشتاق احمد وہیں میچز کھیل رہے ہیں اور اگر ان کی ضرورت پڑی تو ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
انضمام الحق کے مطابق انگلینڈ کے موسمی حالات پاکستانی ٹیم کے لیئے موافق رہے ہیں کیونکہ وہاں بیٹسمینوں نے بھی بھاری اسکور کیا ہے۔ ریورس سوئنگ بھی ہوئی ہے اور اسپنرز نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ انضمام کے مطابق اس وقت بھی خشک موسم میں اسپنرز کامیاب رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف مرلی دھرن ہی نہیں انگلینڈ کے مونٹی پنیسر نے سری لنکا کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کیں اور کاؤنٹی کرکٹ میں بھی اسپنرز کو وکٹیں مل رہی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اس سے قبل انگلینڈ میں تین ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہانتک انجری کا تعلق ہے تو یہ صورتحال کسی بھی ٹیم کے ساتھ درپیش ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ ’اسے بنیاد بناکر آپ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے‘۔ سری لنکا کی سیریز میں شعیب اختر اور رانا نویدالحسن کی غیرموجودگی میں محمد آصف نے شاندار بولنگ کی تھی اور اب بھی انہیں اپنے بولرز پر مکمل بھروسہ ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بہت سخت اور مشکل ہے لیکن پاکستانی ٹیم کے لیئے ضروری ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل اسے سخت امتحانوں کا سامنا کرنا پڑے۔ انضمام الحق کے خیال میں جس طرح سری لنکا نے انگلینڈ کو ٹیسٹ اور پھر ون ڈے میچوں میں ہرایا ہےاگر پاکستانی ٹیم بھی ڈسپلن کے ساتھ کرکٹ کھیلی تو نتیجہ اس کے حق میں ہوسکتا ہے۔وہ اس لیئے بھی پرامید ہیں کہ پچھلے دو برسوں سے ٹیم کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ انضمام الحق بیٹنگ لائن سے زیادہ مطمئن ہیں۔ خود وہ انگلینڈ میں بہت کامیاب رہے ہیں۔1996 کے لارڈز ٹیسٹ میں انہوں نے148 اور70 کی شاندار اننگز کھیلی تھی جبکہ2001 کی سیریز کے اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں114 اور دوسری اننگز میں 85 رنز نے پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ |
اسی بارے میں مشتاق احمد کی واپسی کا امکان 16 June, 2006 | کھیل ’انگلینڈ سیریز سخت ہو گی‘14 June, 2006 | کھیل رھوڈز کوچز کی کوچنگ کریں گے10 June, 2006 | کھیل زخمی شعیب کی جگہ شاہد نذیر08 June, 2006 | کھیل ٹیم مینیجرظہیر عباس ہونگے06 June, 2006 | کھیل شعیب کے ٹخنے میں’فریکچر‘04 June, 2006 | کھیل انگلینڈ میں جیت ففٹی ففٹی: وولمر30 May, 2006 | کھیل ’کارکردگی اور بہتر بنائیں گے‘28 May, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||