رھوڈز کوچز کی کوچنگ کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ سے آئے فیلڈنگ کوچ جونٹی رھوڈز کا کہنا ہے کہ پاکستان انگلینڈ کے خلاف سیریز جیت سکتا ہے۔ جونٹی ر[وڈز ہفتے کی صبح لاہور پہنچے ہی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کی ٹیم سے زیادہ تجربہ کار اور زیادہ متوازن ٹیم ہے۔ اس میں بہت تجربہ کار بیٹسمین ہیں کافی اچھے سیم اور سپن بالر ہیں جبکہ انگلینڈ کی ٹیم نا تجربہ کار ہونے کے سبب غلطیاں کرتی ہے اور مخالف ٹیم کو مواقع فراہم کرتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی ٹیم کے تجربہ کار کھلاڑی ان غلطیوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی اگر پاکستان انگلینڈ کو ان کے گھر میں شکست دے دے‘۔ جونٹی رھوڈز لاہور میں پندرہ روز کے لیئے قیام کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار دن وہ پاکستان کی ٹیم کو فیلڈنگ میں مشورے دیں گے، چار دن پاکستان اے ٹیم کو اور کچھ دن پاکستان بھر کے تیس کے قریب کوچز کو بھی فیلڈنگ کی تربیت دینے کی کوشش کریں گے۔ صرف پندرہ دن اور اتنا اہم کام۔ اس ضمن میں جونٹی رھوڈز کا کہنا تھا کہ راتوں رات تبدیلی لانا تو ممکن نہیں اور خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے جو کئی سال سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے ہوں۔
جونٹی رھوڈز نے مطابق ان کے لیئے یہی ایک چیلنج ہے کہ ان کھلاڑیوں کو بتا سکیں کہ زمین کتنی بھی سخت ہو فیلڈنگ کرنا ایک لطف اندوز کام ہے۔ ’پاکستانی کھلاڑیوں میں اچھی فیلڈنگ کے لیے شوق اور جذبہ پیدا کرنا ہی میرے لیے ایک چیلنج ہے‘۔ جونٹی رھوڈز نے کہا کہ کھلاڑی کے طور پر پاکستان میں آنے اور بطور فیلڈنگ کوچ آنے میں کافی فرق ہے، ’اس بار میں کچھ دباؤ محسوس کر رہا ہوں کہ نجانے مجھ سے کیسی توقعات وابستہ کی گئی ہیں‘۔ پاکستان کی ٹیم کو فیلڈنگ کی تربیت کے لیئے جونٹی رھوڈز نے کچھ خاص مشقیں تیار کر رکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ نوجوان کھلاڑی ایسے ہیں جو میدان میں فیلڈنگ کرتے ہوئے جان ماری کرتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ یہ اسی جذبے سے سیکھنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ ڈائیو لگا کر کیچ پکڑنا مشکل لگتا ہے لیکن اس کی بھی تکنیک ہوتی ہے اور اگر صحیح زاویے سے ڈائیو لگائی جائے تو سخت زمین سے کوئی چوٹ نہیں لگتی۔ جونٹی روڈز نے کہا بالنگ اور بیٹنگ کی طرح اچھی فیلڈنگ کے لیئے بھی قدرتی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سخت محنت درکار ہوتی ہے۔ فیلڈنگ کوچ کے نزدیک ون ڈے کی نسبت ٹیسٹ میچز میں فیلڈنگ مشکل بھی ہے اور ٹیسٹ میچ جیتنے میں اچھی فیلڈنگ کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف انگلینڈ نے آٹھ کیچ گرائے اور جیتا ہوا میچ برابر ہو گیا۔ جونٹی رھوڈز نے کہا کہ اچھی فیلڈنگ کے لیے فٹنس بھی کافی اہم ہے ان کے بقول ٹیم کے کپتان کا بھی اچھی فیلڈنگ میں کردار ہوتا ہے۔ ’کھلاڑیوں پر کپتان کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ کیچ گرانے یا مس فیلڈنگ پر کپتان ناراض ہو گا بلکہ کپتان کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ انضمام سلپ پوزیشن پر اچھی فیلڈنگ کرتے ہیں اور ہم ان سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ ایسی جگہ فیلڈنگ کریں جہاں انہیں چھلانگیں لگانی پڑیں لیکن کپتان کو اپنے کھلاڑیوں کے لیے مثال بننا چاہیے۔ جونٹی خودبیک ورڈ پوائنٹ پر فیلڈنگ کرنا پسند کرتے تھے کیونکہ ان کی خواہش ہوتی تھی کہ ہر گیند ان کے پاس آئے۔ انہوں نہ کہا کہ باؤنڈری پر فیلڈنگ کرنا بہت بورنگ ہوتا ہے۔ جونٹی روڈز نے کہا کہ ’جن لائنز پر باب وولمر پاکستان کی ٹیم کی تربیت کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی میں تسلسل آیا ہے میرے خیال میں پاکستان کی ٹیم عالمی کپ میں ایک خطرناک ٹیم ثابت ہوگی اور اسے پانچ فیورٹ ٹیموں میں سمجھا جا سکتا ہے‘۔ | اسی بارے میں جونٹی رہوڈز فیلڈنگ کوچ مقرر 05 May, 2006 | کھیل مائیکل وان کی وطن واپسی04 December, 2005 | کھیل بریڈمین اورگارنر سب سے بہترین01 June, 2006 | کھیل پاکستان میں ورلڈ کپ کا بخار 07 June, 2006 | کھیل ’انگلینڈ میں جیت کے امکانات ہیں‘07 June, 2006 | کھیل زخمی شعیب کی جگہ شاہد نذیر08 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||