تندولکر کا دور جاری ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لڑکپن سے جوانی تک، سچن تندولکر نے سترہ سال غیر معمولی کرکٹ کھیلی اور بھارت کے باعزت فاتح رہے۔ کھیل کی اس دنیا میں جہاں جھوٹی انا کے حامل ستارے میدان میں بیزاری کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، وہاں تندولکر نے اپنے آپ کو دی گئی عزت کا ہمیشہ خیال رکھا ہے۔ اس تمام عرصے کے دوران ان کی دولت اور رتبے نے انہیں ٹی وی کی ایک نہ ختم ہونے والی سیریل بنا دیا ہے۔ لیکن تندولکر نے ہمیشہ ایک توازن رکھا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اب ہم میں سے کچھ لوگ توازن نہیں رکھ رہے۔ حال میں کئی موقعوں پر تندولکر کے بارے میں تجزیات کچھ جلد بازی اور سختی کا عنصر رکھتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے ساتھ ہی وہ ’اینڈولکر‘ ہو گئے لیکن پہلے ایک روزہ میں سینچری بنائی اور اس طرح ’توندولکار‘ کہلائے۔ اس طرح ان کے کیریئر کو زبان دانی کا شکار کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ اشتعال انگیز دور ہے جہاں چند ’پنڈت‘ مقدار کو دانائی پر ترجیح دیتے ہیں، کرکٹ کھیل کی بجائے تماشہ بن گیا ہے۔ گواسکر اور شاستری کی طرح کے ذمہ دار مبصرین بھی موجود ہیں لیکن ان کی آوازیں اس شور میں دب گئی ہیں۔ اس ضمن میں معین خان اور ایک سابق بھارتی کرکٹر کے بیانات ہیجان آمیز ہیں۔ ا سکا یہ مطلب نہیں کہ تندولکر تنقید سے مبرا ہیں یا ان کی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ وہ میدان میں ہیں اور ان کے بارے میں بھی دوسروں کی طرح فیصلہ کیا جانا چاہیے لیکن اس کی بنیاد ان کی کارکردگی ہونی چاہیے نہ کہ شہرت۔ وہ مہربانیوں کے طلب گار نہیں ہیں لیکن ان کی کھیل کے لیے خدمات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔ ہمیں نہ ہی ان پر مرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں زیادہ برا کہنا چاہیے۔ لیکن خواہ مخواہ ان کو رد کرنا جیسا کہ حال ہی میں کیا جاتا رہا ہے، اور ان کی اہلیت کی تضحیک کرنا کہ وہ تیز گیند سے ڈرتے ہیں مناسب نہیں ہے۔ تندولکر ہمیشہ سے دیوتا بننے سے ہچکچاتے تھے اور شاید ہم ہی بے صبرے پچاری تھے۔ ان کا زوال ان سے زیادہ ہماری خامی کا مظہر ہو گا۔ شاید ہم نے ساری زندگی انہیں ایک بیٹنگ سپر مین کے طور پر دیکھا ہے اور اب ہمیں انہیں ایک انسان کے طور پر دیکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے جو ایک بلے باز ہے اور غلطیاں بھی کر سکتا ہے۔ لیکن سترہ سال بعد تو مشین کی کارکردگی میں بھی فرق آ جاتا ہے اور اس میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ شاید کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک انکشاف ہو جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بڑے نہیں ہوں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ تندولکر ہمیشہ سولہ سال کے نہیں رہیں گے۔ جب تندولکر نے اپنی پینتیسویں ٹیسٹ سینچری بنائی تو کہا گیا کہ وہ اپنی بہترین فارم میں واپس آ گئے ہیں۔ نہیں، وہ واپس اس فارم میں نہیں آئے اور نہ ہی آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب حیرت کی بات نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اور یہ تندولکر کے لیے بڑے خراج تحسین کی بات ہے کہ ان کا کیریئر اتنا شاندار اور اتنا لمبا رہا اور ان کا نظم وضبط ایسا مثالی رہا کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور ان کا یہ رویہ صرف کرکٹ تک ہی محدود نہیں۔ یقیناً ان کی مسلسل کارکردگی میں کچھ فرق آ گیا ہے لیکن یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ وہ اب سب سے اعلیٰ کھلاڑی نہ سہی لیکن اب بھی اچھے کھلاڑی ضرور ہیں۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں جاندار پچ پر ان کے پچانوے رنز نے ان کے کپتان کو عالم مسرت میں لا کھڑا کیا۔ یہ بات کہ ان کا کیریئر ختم ہو گیا ہے بہت مضحکہ خیز ہے کیونکہ ابھی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ انڈیا کے پاس بھاری مقدار میں ٹیلنٹ موجود ہو اور تندولکر ان کا راستہ روکے کھڑا ہو۔ لوگوں کو اپنی جگہ بنانی پڑتی ہے اور تندولکر نے اب تک اپنی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ وہ زوال پذیر ہو سکتے ہیں لیکن اب بھی وہ اپنے عروج پر موجود بہت سے بلے بازوں سے بہتر ہیں۔ جس طرح راجر فیڈرر نے کہا تھا کہ اگرچہ وہ آسانی سے ٹینس جیتتے نظر آتے ہیں لیکن کئی دفعہ یہ کھیل ان کے لیے سخت محنت اور مزدوری بن جاتا ہے۔ تندولکر کے لیے بھی شاید ایسا ہی ہے۔ ایک زمانے میں وہ اتنی روانی سے کھیلتے تھے کہ ہمیں اندازہ ہی نہ ہوتا تھا کہ انہیں اس کے لیے کتنی محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔ دن اچھے ہوں یا برے، ان کی تمام تر توجہ کھیل پر ہی مرکوز رہی جس کی وجہ سے بھارت کو اتنے زبردست نتائج ملے۔ اب ان کی محنت نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن اب بھی زخمی ہونے کے بعد دوبارہ کھیل میں آنے والے پر عزم تندولکر کو دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے۔ تندولکر بہت فخر کے حامل کھلاڑی رہے ہیں اور اب اگر ان کی قدرتی چستی اور تیزی میں کچھ فرق بھی آ گیا ہے تو انہیں بطور ایک سنبھلتے ہوئے بلے باز کھیلتے ہوئے دیکھنا بھی ایک تجربہ ہے۔ انہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک کرکٹ کی دنیا کی تمام جہتوں کو ایک نیا مطلب دیا جس میں بالر، پچیں اور توقعات سب شامل ہیں۔ اب وہ وقت کے چیلنج سے لڑ رہے ہیں۔ وہ اس سے بھی نبرد آزما ہو لیں گے جیسا کہ وہ ہر چیز کے ساتھ کر لیتے ہیں۔ لیکن ایک دن یہ سب بھی ختم ہونا ہے۔ شاید اگلے سال عالمی کپ کے بعد، شائد اس کے بھی بعد اور یہ بھی ایک مرحلہ ہو گا کیونکہ آج کل کھلاڑی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ صلاحیتوں کی ناکامی کا اعتراف ہے اور ایسا کرنا بہت مہنگا بھی پڑتا ہے۔ تندولکر کو چاہیے کہ وہ جب بھی جائیں خود ہی جائیں۔ یہی باعزت طریقہ ہو گا لیکن اس میں ابھی وقت ہے۔ اس وقت ہمیں چاہیے کہ بے کار کی تنقید بند کریں اور ایک اعلیٰ کھلاڑی کے کیریئر کے آخری باب سے لطف اندوز ہوں۔ تندولکر کا سیزن ابھی ختم نہیں ہوا۔ |
اسی بارے میں سائیٹ سکرین کو بڑا کریں: تندولکر12 January, 2006 | کھیل ماسٹر بلاسٹر، سچن تندولکر07 January, 2006 | کھیل تندولکر کی شاندار واپسی25 October, 2005 | کھیل تندولکر فٹ ہو گئے30 September, 2005 | کھیل تندولکر: سپر سیریز سے باہر21 September, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||