BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 April, 2005, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تندولکر اپنے انداز سے مطمئن
وریندر سہواگ اور سچن تندولکر
وریندر سہواگ اور سچن تندولکر
بھارت کے ممتاز بلے باز سچن تندولکر نے ان ناقدین کو دو ٹوک جواب دیا ہے جنہوں نے تندولکر کی بیٹنگ کی تکنیک میں تبدیلی پر نکتہ چینی کی تھی۔

سچن تندولکر پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ انہوں نے قدرے محتاط انداز میں بیٹنگ شروع کر دی ہے لیکن تندولکر کا اصرار ہے کہ وہ ٹیم کے مفاد میں ایسا کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے فرائض سے آگاہ ہوں۔ میں نے پوری ایمانداری سے اپنا کام کیا ہے۔ اور لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں اس کی وجہ سے میری رات کی نیند خراب کیونکر ہو؟ مہربانی کر کے ٹیم میں میری خدمات اور میرے رول پر نگاہ ڈالیے جس کا میں سینیئر ترین کھلاڑی ہوں۔‘

سچن تندولکر نے سنہ انیس سو نواسی میں سولہ برس کی عمر میں اپنے کیریئرکا آغاز کیا۔

وہ ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار سے زائد رن بنا چکے ہیں جن میں چونتیس سنچریاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں تندولکر نے تیرہ ہزار چھ سو رن سکور کیے ہیں۔

تاہم گزشتہ برس کے دوران انہیں کہنی کی چوٹ کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔ اس عرصے میں وریندر سہواگ اور روہول ڈراوڈ، تندولکر کے لیے ایک چیلنج کی شکل میں ابھرے۔

بتیس سالہ تندولکر کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ تبدیلی کا آنا ناگزیر ہے۔

66’شاید نہ کھیلوں‘
تندولکر دورۂ پاکستان کے متعلق پر امید نہیں
66پہلا رن یاد نہیں
’پہلا رن شاید وسیم یا وقار کے خلاف بنایا تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد