’میں شاید نہ کھیل سکوں‘ تندولکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سچن تندولکرنے کہا ہے اپنی کہنی میں تکلیف کی وجہ سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سریز میں حصہ لینے کے بارے میں پر امید نہیں ہیں۔ تندولکر کہنی میں تکلیف کی وجہ سے کھیل میں حصہ نہیں لے رہے ہیں ۔ وہ فروری میں دوبارہ کھیل شروع کریں گے۔ پاکستان مارچ میں بھارت کا دورہ کر رہا ہے۔ تندولکر نے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہوئے بغیر کھیل شروع نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا وہ پاکستان کے خلاف کھیلنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن وہ ایسا اسی صورت میں کریں گے جب وہ مکمل طور پر فٹ ہوں گے۔ ڈاکٹروں نے سچن تندولکر کو چھ ہفتے تک مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ سچن تندولکر نے شروع میں کہنی میں تکلیف کو معمولی درد سمجھ کر نظر انداز کیا۔ جب یہ تکلیف زیادہ ہو گئی تو پھر ڈاکٹروں نے اسے ’ٹینس ایلبو‘ قرار دے کر تندولکر کو مزید کھیلنے سے منع کر دیا۔ سچن تندولکر نے ان خیالات کو رد کر دیا ہے کہ بھاری بیٹ کے استعمال کی وجہ سے ان کی کہنی میں تکلیف شروع ہوئی ہے۔ تندولکر نے کہا کہ انہوں نے اخباروں میں پڑھا ہے کہ ان کی کہنی میں تکلیف بھاری بیٹ کے استعمال سے ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا وہ پچھلے پندرہ سال سے بھاری بیٹ بیٹنگ کر رہے ہیں اورایسا ہونا ہوتا تو بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||