سچن تندولکر بمقابلہ شعیب اختر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی کھیل کا حسن روایتی حریفوں کے درمیان دلچسپ مقابلے سے دوبالہ ہوجاتا ہے۔ اسکواش کی خوش قسمتی رہی کہ اسے پہلے جیف ہنٹ اور قمر زمان کی شکل میں سخت جان حریف ملے اور پھر جہانگیرخان اور جان شیر خان کے درمیان ہونے والے مقابلوں سے اسکواش کورٹ کی رونقیں بڑھتی رہیں۔ ٹینس میں بیورن بورگ اور جان میکنرو ایک دوسرے کو زیرکرنے میں مصروف نظر آئے تو خواتین مقابلوں کی سحر انگیزی کرس ایورٹ اور مارٹینا ٹیلووا ، اسٹیفی گراف اور مارٹینا نیورا ٹیلووا کے دم سے قائم رہی ۔
شطرنج کی بساط پر گیری کاسپاروف اور اناطولی کارپوف کی چالیں ایک دوسرے کا امتحان لیتی رہیں کرکٹ ٹیم گیم ضرور ہے لیکن ہر دور میں اسے کچھ ایسے کھلاڑی میسر آئے ہیں جن کی مقناطیسی کشش شائقین کو میدانوں میں کھینچ لاتی رہی ہے ۔ جب یہ کھلاڑی ایک دوسرے کے مقابل آتے ہیں تو شائقین کی دلچسپی میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے جیسا کہ اس دور کو شعیب اختر اور سچن تندولکر کے درمیان دلچسپ جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اگر سچن تندولکر عصرحاضر کے بہترین بیٹسمین ہیں تو شعیب اختر کو بجا طور پر اس دور کا برق رفتار بولر کہاجاسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے سردگرم ہونے کا سب سے زیادہ اثر کرکٹ پر پڑا ہے اور اسی کم کرکٹ کے نتیجے میں شعیب اختر اور سچن تندولکر کو بھی بہت کم ایک دوسرے کے اعصاب کا امتحان لینے کا موقع ملا ہے۔
شعیب اختر نے لاہور کے چوتھے ون ڈے انٹرنیشنل تک بھارت کے خلاف 19 میچز کھیلے ہیں جن میں سے 12 میچز وہ ہیں جن میں سچن تندولکر کھیلے ہیں اور ان میں سچن تندولکر کی قیمتی وکٹ چار مرتبہ شعیب اختر کے ہاتھ آئی ہے ۔ شعیب اختر کا سچن سے پہلا آمنا سامنا 1999 ء ورلڈ کپ میں ہوا تھا۔ شعیب اختر کو سچن تندولکر کی وکٹ کے لئے چھ میچوں تک انتظار کرنا پڑا تھا جب انہوں نے شارجہ میں ماسٹربیٹسمین کو ایک رن پر ایل بی ڈبلیو کردیا ۔ شعیب اختر نے دوسری مرتبہ سچن کی وکٹ گزشتہ سال ورلڈ کپ میں سنچورین کے میچ میں حاصل کی لیکن اس میچ میں سچن نے پاکستانی بولرز کو بے بسی کی تصویر بنادیا تھا۔ شعیب اختر نے یونس خان کے ہاتھوں سچن کی وکٹ حاصل کی تو وہ اپنی سنچری سے صرف دو رنز کی دوری پر تھے ۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے موجودہ دورے میں سچن دو مرتبہ شعیب کے قابو میں آئے ہیں کراچی کے میچ میں وہ 28 رنز بناکر رانا نوید الحسن کے ہاتھوں کیچ ہوئے تھے اور لاہور میں 7 رنز پر وہ معین خان کو کیچ دے بیٹھے۔ ٹیسٹ میچوں میں ان دونوں کا سامنا صرف ایک سیریز میں ہوا ہے شائقین کو کلکتہ ٹیسٹ یاد ہے جس کی پہلی اننگز میں شعیب اختر نے پہلی ہی گیند پر سچن کو کلین بولڈ کردیا تھا۔ دوسری اننگز میں رن لیتے ہوئے سچن شعیب سے ٹکراگئے تھے اور ان کا بیٹ ہوا میں تھا جس کی وجہ سے وہ رن آؤٹ قرار پائے تھے۔ اس فیصلے کو ایڈن گارڈنز میں تماشائیوں نے ماننے سے انکار کردیا تھا اور انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی تھی جس پر سکیورٹی اسٹاف نےسٹیڈیم کو تماشائیوں سے خالی کراکے میچ کرایا تھا ۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ون ڈے سیریز کے بعد ٹیسٹ سیریز میں بھی شعیب اور سچن کے درمیان بلے اور گیند کی کشمکش دیکھنے والوں کے لئے دلچسپی کا سبب بنے گی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||