BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 February, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہنگے ٹکٹ بھی فوراً بک گئے

کرکٹ شائقین
لوگوں نے کرکٹ کی فروخت میں اقربا پروری کی شکایت کی
پاکستان اور بھارت کے درمیان پشاور میں منعقد ہونے والے پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ کے ٹکٹ فروخت شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ختم ہوگئے۔

شائقین کا جوش و خروش دیکھ کر ٹکٹوں کی تعداد بہت کم معلوم ہو رہی تھی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ کے ٹکٹوں کی فروخت جمعرات کی صبح نو بجے شروع ہونی تھی لیکن بنک کے باہر شائقین کی قطاریں صبح سات بجے سے ہی لگ چکی تھیں۔

بینک الفلاح کے علاقائی سربراہ مرزا نعیم بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں فراہم کی گئی مجموعی طور پر تیرہ ہزار سے زائد ٹکٹیں دو گھنٹوں کے اندر فروخت ہوچکی تھیں۔ یہ ٹکٹیں فروخت کرنے کے لیے تین دن مقرر کیے گئے تھے۔

لوگ ٹکٹوں کے لیےصبح سے قطار لگائے کھڑے تھے

ارباب نیاز سٹیڈیم میں سولہ ہزار سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

قطار میں لگے لوگوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جبکہ صوبے کے دور دراز علاقوں سے بھی شائقین ٹکٹ خریدنے آئے۔ پولیس کی بھاری نفری کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کی لیے تعینات کی گئی تھی۔

خیبر بازار کی بینک برانچ کے باہر قطار میں کھڑے شور مچاتے ایسے ہی چند نوجوان شائقین سے بات کرنے پر انہوں نے بینک حکام کی جانب سے سفارش اور اقربا پروری کی شکایتیں کیں۔

ایک ہاتھ میں کتابیں دبائے کالج کے ایک طالب علم احسان اللہ کا کہنا تھا پشاور میں پہلے کون سے روزانہ میچ ہوتے ہیں پھر یہ تو پاکستان اور بھارت کا میچ ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس مرتبہ ٹکٹوں کی قیمت میں بھی کئی سوگنا کا اضافہ کیا ہے۔

کرکٹ شائقین کا جوش دیکھنے کے قابل تھا

جنرل انکلوژر یعنی زمین پر بیٹھ کر میچ دیکھنے کی قیمت پچاس سے بڑھا کر سو روپے، کرسی والے انکلوژر کا ٹکٹ دو سو سے یکسر پندرہ سو اور وی آئی پی انکلوژر میں بیٹھنے والے کو تین ہزار روپے کا ٹکٹ خریدنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں اس اضافے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ سٹیڈیم میں خواتین کے لیے بھی دو سو نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔

صوبہ سرحد میں تفریحی مواقع پہلے ہی کم ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی پشاور میں کوئی میچ منعقد نہیں کیا گیا تھا۔ اب سٹیڈیم میں تماشائیوں کے بیٹھنے کی کم گنجائش نے بھی صوبہ سرحد میں بڑی تعداد میں شائقین کو اس میچ کا سٹیڈیم میں لطف اٹھانے سے محروم کر دیا ہے۔

کرکٹ بالپاکستان اور کرکٹ
پاکستانی اور کرکٹ نہیں دیکھتے
 شائقینتماشائیوں کی واپسی
ٹیسٹ کرکٹ میں شائقین کی دلچسی بحال
تماشائی خوشکراچی کی فتح
انیس سال بعد انڈیا سے ٹیسٹ سیریز کا جیتا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد