اکمل اور رزاق میچ چھین کر لے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ تسلیم کرتے ہیں کہ کراچی ٹیسٹ کا وہ لمحہ بڑی اہمیت کا حامل تھا جب ان کے بولرز نے پاکستان کی چھ وکٹیں کم اسکور پر حاصل کرلی تھیں لیکن اس موقع کو وہ اپنی گرفت میں نہ کرسکے اور کامران اکمل اور عبدالرزاق نے شاندار بیٹنگ کرکے صورتحال ہی بدل دی۔ ڈراوڈ کو اس بات کا بھی افسوس ہے کہ ان کی ٹیم پہلی اننگز میں اچھا اسکور نہ کرسکی جس سے وہ پاکستانی ٹیم پر دباؤ ڈال سکتے۔ میچ کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی کپتان اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بیٹسمین نئی گیند کو اچھا نہیں کھیلے جو شکست کی بنیادی وجہ ہے۔ ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ دوسری اننگز میں ان کی بولنگ بھی متاثر کن نہیں تھی ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں ملنے والا چھ سو رنز کا ہدف کسی طور آسان نہ تھا۔ راہول ڈراوڈ اپنے اوپنر کے طور پر کھیلنے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بہترین بیٹنگ لائن کھلانے کی حکمت عملی کا حصہ تھا لیکن مستقبل میں ہر بیٹسمین اپنی پوزیشن پر ہی کھیلے گا۔ بھارتی کپتان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹسمین سیمنگ وکٹوں پر بھی ماضی میں کامیاب رہے ہیں لیکن اس میں بہتری لانی ہوگی۔
چھ سو رنز کے تعاقب کے بارے میں ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت سوچنے کا موقع نہیں تھا صرف بیٹنگ کرنی تھی ہماری پہلی ترجیح یہ تھی کہ نئی گیند پر وکٹیں نہ گریں۔ ٹارگٹ نہ سوچیں بلکہ وقت گزاریں اور لمبی بیٹنگ کریں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بارے میں بھارتی کپتان کا کہنا ہے کہ بھارت میں صورتحال پاکستان سے مختلف ہوگی وہاں انہیں اسپنرز کا فائدہ حاصل ہوگا۔ پاکستانی کپتان یونس خان جیت کو ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی اننگز میں بھارت کو کم اسکور پر آؤٹ کرنے سے انہیں بے حد فائدہ ہوا۔ یونس خان جنہیں اس سیریز میں شاندار کارکردگی کی بنا پر مین آف دی سیریز بھی قرار دیا گیا کہتے ہیں کہ عبدالرزاق کے سلیکشن پر بہت تنقید ہوئی تھی لیکن اس نے اپنی شاندار کارکردگی سے ناقدین کو خاموش کرادیا اور ثابت کیا کہ وہ ایک باصلاحیت کرکٹر ہے۔ پاکستانی کپتان اس کامیابی میں محمد آصف کی عمدہ بولنگ کے بھی معترف ہیں۔ یونس خان کا کہنا ہے کہ گوکہ شعیب اختر کو اس میچ میں زیادہ وکٹیں نہیں ملیں لیکن اس جیسا بولر ٹیم میں ہونا ضروری ہے۔ پاکستانی کپتان دونوں ٹیموں کو ہم پلہ سمجھتے ہیں لیکن ان کے خیال میں پاکستانی اٹیک میں زیادہ ورائٹی ہے مین آف دی میچ قرار پانے والے کامران اکمل اپنی شاندار کارکردگی پر خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کپتان کوچ اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی ان کی کارکردگی میں بہتری لارہی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کے خیال میں دونوں ٹیموں میں واضح فرق ڈریسنگ روم کا ہے۔ ’ٹیم ڈریسنگ روم سے ہی بنتی ہے۔ اسوقت پاکستانی ٹیم متحد ہوکر کھیل رہی ہے۔‘ راشد لطیف کہتے ہیں کہ کراچی ٹیسٹ میں عبدالرزاق بحیثیت بیٹسمین نمایاں طور پر سامنے آئے۔ | اسی بارے میں ماموں پر فخر مگر شناخت اپنی31 January, 2006 | کھیل پاکستانی ’پیس بیٹری‘ کا نیا ہتھیار01 February, 2006 | کھیل نصف سینچریوں کاعالمی ریکارڈ 01 February, 2006 | کھیل پاکستان کراچی ٹیسٹ جیت گیا01 February, 2006 | کھیل انیس سال بعد سیریز کی جیت01 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||